Nageene Log
نگینے لوگ

ہم چند لوگ، شاید پانچ، شاید سات نہ ہمارے شبدوں کے پیچھے کوئی کاروبار ہے نہ سنسنی اور نہ ہی چیختی چنگھاڑتی خبریں، نہ لکھے ہوئے کے عوض داد و تحسین کی ہوس، نہ پس پردہ خرید و فروخت کا کوئی اشتہار۔ ہم فقط اپنا کتھارسس لکھتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ کتھارسس کسی اجنبی دل تک کوئی ایسا لفظ یا جملہ پہنچا دے جو اُس کے بکھرے وجود کو ذرا سا، معمولی سا ہی سہی مگر سمیٹ دے۔
ہم، خوف زدہ انسان کو اُس کے خوف پر لعنت و ملامت نہیں کرتے، نہ اُس کے لرزتے کانپتے دل کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ ہم اپنے لفظوں کے ذریعے اُس کے بے حد قریب بیٹھتے ہیں، اسے سمجھتے ہیں، اُس کے منتشر خیالوں کو سمیٹتے ہیں، اُس کے اندر اترے ہوئے اندیشوں کو امان دیتے ہیں، یہاں تک کہ اُس کے قلب و جان میں سکون و اطمینان کے سوتے پھوٹنے لگتے ہیں۔
ہم غم زدہ کو یہ نہیں کہتے کہ اُس کا دکھ معمولی ہے یا دنیا میں اس سے بڑے غم بھی موجود ہیں۔ ہم اُس کی خاموشیوں کو سنتے ہیں، اُس کے آنسوؤں کے لیے اپنے دل میں جگہ بناتے ہیں اور اُسے یہ احساس دلاتے ہیں، مان بخشتے ہیں کہ اس دنیا میں اُس کے دکھ کے لیے بھی ایک گوشۂ شفقت موجود ہے۔ پھر آہستہ آہستہ محبت اُس کے زخموں پر مرہم رکھ دیتی ہے۔
ہم تھکے ہوئے انسان کو دوسروں کی مشقتوں کی مثالیں دے کر مزید بوجھل نہیں کرتے۔ ہم اُس کے کاندھے سے کچھ وزن اُتار لیتے ہیں، اُس کے راستے میں ذرا سی آسانی رکھ دیتے ہیں اور اُسے یہ باور کراتے ہیں کہ ہر شخص کی برداشت کی حد جدا ہوتی ہے، ہر دل کی تھکن اپنی نوعیت رکھتی ہے۔
ہم شکستِ اعتماد کے شکار شخص پر الزام نہیں رکھتے کہ اُس کی سادگی یا بھروسے نے اُسے یہاں تک پہنچایا۔ ہم اُس کے دل میں انسانوں کے لیے کھویا ہوا اعتبار اور خود اپنی ذات پر متزلزل یقین دوبارہ جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خلوص، توجہ اور سچی محبت سے ہم اُس کے باطن میں امید کی ننھی شمع روشن کرتے ہیں۔
اور ٹوٹے ہوئے دل والے سے ہم یہ تقاضا نہیں کرتے کہ فوراً سنبھل جائے، سبق سیکھ لے، یا سب کچھ بھلا دے۔ ہم اُس کے ساتھ چلتے ہیں ساتھ ٹھہرتے ہیں، اُس کے درد کے برابر بیٹھتے ہیں، اُس کے زخموں کو وقت، محبت اور تفہّم کی گداز حدت میں چھوڑ دیتے ہیں، یہاں تک کہ اُس کی روح کی دراڑیں خود اپنے اندر سے بھرنے لگتی ہیں۔
مایوس انسان کو ہم تقدیر کے فلسفوں اور وقت کی نصیحتوں سے مزید نہیں تھکاتے۔ ہم اُس کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، اُس کے زخم گننے کے بجائے اُس کی صلاحیتوں کو یاد دلاتے ہیں، اُسے یقین دلاتے ہیں کہ ابھی امکانات ختم نہیں ہوئے، ابھی راستے بند نہیں ہوئے اور آنے والا کل ماضی کی کمی پوری کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
کیونکہ ہر روح کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور انسان کو اکثر مشوروں سے زیادہ ایک ایسے وجود کی ضرورت ہوتی ہے جو اُس کی تھکن سمجھ سکے۔
اور انسان پر سب سے بڑی نعمت شاید یہی ہے کہ اُسے ایک ایسا لطیف لہجہ عطا ہو جو دلوں کے شکستہ حصّوں کو جوڑنا جانتا ہو، کہ کب بولنا ہے، کیسے بولنا ہے اور کس سے بولنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک مہربان لفظ، عمر بھر کے وعظ و نصیحت پر سبقت لے جاتا ہے۔

