Abadi Tarazu
ابدی ترازو

کائنات کا ایک حتمی اور ابدی ترازو ہے۔ دو پلڑوں میں عروج اور زوال، شہرت اور گمنامی برابر ڈولتے رہتے ہیں اور یہی تغیر اس کائنات کا سب سے بڑا توازن ہے۔ کون سا پلڑا کب بھاری ہوگا اور کون سا ہلکا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ ترازو کا مرکز کس کے ہاتھ میں ہے، کون اور کب یہ طے کرتا ہے کہ اس میزان کو کس شکل میں قائم رکھنا ہے، یہ بھی کسی پر منکشف نہیں۔ مگر ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ یہ ترازو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور یہ توازن مستقل ہے۔
جب بے انتہا دولت اور اندھی طاقت کا ملاپ ہوتا ہے تو پھر ایسی چیزیں وجود میں آتی ہیں جو انسان کو اس وہم میں مبتلا کردیتی ہیں کہ اختیار اور قدرت کا وہی مالک ہے۔ Rich as Croesus، یہ محض ایک فقرہ نہیں تھا، بلکہ ایک زمانے کی اجتماعی رائے تھی۔ دولت جب اس حد تک پہنچ جائے کہ کسی ایک انسان کا نام اس کا پیمانہ بن جائے، تو وہ شخص صرف امیر نہیں رہتا، وہ معیار بن جاتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں لِڈیا کا بادشاہ Croesus اسی معیار پر کھڑا تھا۔ اس کی دولت یونانی دنیا میں ضرب المثل بن چکی تھی اور اس کی سلطنت اناطولیہ کے مغربی حصے میں سیاسی اور معاشی استحکام کی مثال سمجھی جاتی تھی۔
لِڈیا کا دارالحکومت ساردیس تجارتی راستوں پر واقع تھا۔ خزانے بھرے ہوئے تھے، فوج منظم اور طاقتور تھی اور ریاستی نظم و ضبط ایسا تھا کہ کسی فوری خطرے کا تصور مشکل لگتا تھا۔ کروئیسس کے فیصلوں میں اعتماد تھا اور اس اعتماد کی بنیاد وہی دولت اور طاقت تھی جسے وہ اپنی خوش نصیبی کا قطعی ثبوت سمجھتا تھا۔
انہی دنوں ایتھنز کا قانون دان اور مفکر Solon یونان میں اصلاحات نافذ کرنے کے بعد سفر پر تھا۔ ساردیس پہنچنے پر اسے دربار میں مدعو کیا گیا۔ کروئیسس نے اسے فتوحات کی نشانیاں، سونے چاندی سے لدے شاہی خزانے اور پیرے و جواہرات کی کانیں دکھائیں، بطور نمائش نہیں، بلکہ بطور دلیل کہ وہ اس دنیا کا طاقتور اور دولت مند انسان ہے۔۔ گفتگو کے دوران اس نے وہ سوال کیا جو بظاہر سادہ تھا، مگر اپنی تہہ میں گرداب رکھتا تھا، سولون کی نظر میں سب سے زیادہ خوش نصیب انسان کون ہے۔
یہ وہی سوال تھا جو ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی موڑ پر جنم لیتا ہے۔ وہ خلا جو کسی کامیابی سے پُر نہیں ہوتا، وہ کمی جو ہر حاصل کے بعد بھی کسک بن کر باقی رہتی ہے، وہ اضطراب جو انسان کو اپنی ہی کامیابی پر مطمئن نہیں ہونے دیتا۔ ہر شخص اس سوال کا سامنا کرتا ہے اور ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی تعبیر وہی ہو جو اس کے حال کو درست ثابت کرے، نہ کہ وہ جو حقیقت ہو۔
سولون نے جواب میں کسی بادشاہ یا فاتح کا نام نہیں لیا۔ اس نے ایسے افراد کا ذکر کیا جنہوں نے ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزاری، سماجی فرائض ادا کیے اور بغیر کسی بڑی لغزش کے دنیا سے رخصت ہوئے۔ کروئیسس اس جواب سے مطمئن نہ ہوا۔ اس نے دوبارہ سوال کیا، اس بار زیادہ واضح انداز میں، کہ کیا سولون کی نظر میں کروئیسس خوش نصیب ہے یا نہیں۔ سولون نے جواب دیا کہ کسی انسان کے بارے میں حتمی رائے اس کی زندگی کے اختتام سے پہلے قائم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ انجام وہ مقام ہے جہاں زندگی کا حساب مکمل ہوتا ہے۔
یہ بات کروئیسس کو قابلِ اعتنا نہ لگی۔ اس کے نزدیک دولت، طاقت اور تحفظ ہی خوش نصیبی کی حتمی دلیل تھے۔ وقت گزرا اور اس اعتماد نے فیصلہ سازی میں احتیاط و دانش کی جگہ لے لی۔ جب فارس ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر سامنے آیا تو کروئیسس نے اسے روکنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت فارس کا حکمران Cyrus the Great تھا، جس کی سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی لِڈیا سے مختلف طرز کی تھی۔ فیصلہ کن معرکے سے پہلے دیلفی کے معبد سے ہونے والی پیش گوئی کو کروئیسس نے اپنے حق میں سمجھا، اس امکان پر غور کیے بغیر کہ تعبیر بھی ایک امتحان ہو سکتی ہے۔
جنگ مختصر رہی۔ لِڈیا کو شکست ہوئی، ساردیس فتح کر لیا گیا اور کروئیسس قیدی بن گیا۔ اقتدار، دولت اور اختیار ایک ہی وقت میں اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ روایت کے مطابق، جب اس کے انجام کا فیصلہ کیا جا رہا تھا تو اس کی زبان سے بے اختیار سولون کا نام نکلا۔ سائرس نے وجہ پوچھی اور کروئیسس نے دربار کی وہ گفتگو دہرا دی جسے اس نے عروج کے دنوں میں غیر اہم سمجھا تھا۔
یہ واقعہ یونانی مورخ Herodotus نے اپنی تاریخ میں محفوظ کیا۔ اس میں کوئی خطیبانہ وعظ نہیں، کوئی اخلاقی فیصلہ مسلط نہیں کیا گیا۔ صرف واقعات ہیں، ان کا تسلسل ہے اور وہ انجام ہے جو انہی واقعات سے جنم لیتا ہے۔
دولت، طاقت اور اختیار کبھی کسی کے نام پر۔ مستقل ثبت نہیں ہوتے، یہ سب کارک کی مانند لہروں پر ہچکولے کھاتے ایک ساحل سے دوسرے کنارے پر اور کبھی بیچ منجدھار ڈولتے رہتے ہیں۔

