Bol Ke Lab Azad Nahi
بول کہ لب آزاد نہیں

صحافت کی آزادی ایک ایسا حق ہے جو معاشرے کے اندر موجود تمام حقوق کا نگہبان سمجھا جاتا ہے۔ صحافت اصل میں اس کڑوے سچ کا نام ہے جو اقتدار اور طاقت کے ستونوں کی ان بد اعمالیوں کو سامنے لے کر آتا ہے جو معاشرے کے اندر زہریلے جذبات کا موجب بنتے ہیں۔ معاشرے تباہی کا شکار تب ہوتے ہیں جب اہل دانش اور اہل قلم لوگ مسائل کی بات کرنے کی بجائے ان اختیارات کے بندوں کے ساتھ بیٹھ کر تصویریں بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ملک مسائل کا شکار ہوتا ہے۔
ملک میں آج صحافت کا کوئی بنیادی ماڈل موجود نہیں ہے اور جو شخص چاہتا ہے وہ خود کو صحافی نامزد کر لیتا ہے اور پھر موبائل کے ہوتے ہوئے تو راہ چلتے ہر شخص نے صحافت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ذاتی مسائل کے لئے کیمرے کی مدد سے تصویر کشی کرکے جو دل میں آئے کہہ دیتے ہیں اور پھر ایسے لوگ بھی کثرت سے نظر آتے ہیں جو مختلف محکموں کے ملازمین سے تعلقات بنا لیتے ہیں اور پھر گاہکوں کو پکڑ کر لاتے ہیں اور ان کے کام کرواتے ہیں جس کے اندر سے کچھ پیسے انھیں بھی مل جاتے ہیں اور اس طرح صحافت کے ذریعے یہ لوگ تعلقات بھی بناتے ہیں اور لوگوں کے کام کروا کر اپنی حیثیت بھی بڑھا لیتے اور پیسہ بھی کماتے ہیں۔ ایسے لوگ تھانوں کے ہر آنے والے ایس ایچ او کے ساتھ تصویر بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا نہیں بھولتے تاکہ علاقہ میں ان کا رعب بن سکے۔
کچھ دن ہوئے کہ مجھے ایل ڈی اے کمپلیکس جوہر ٹاؤن جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں گیٹ کے سامنے ایک صاحب موٹر سائیکل پر کچھ کاغذات اور فائلیں لئے کھڑے تھے اور موٹر سائیکل کے ساتھ ایک چھوٹی فلیکس جھول رہی تھی جس پر ان صاحب نے اپنا تعارف بطور صحافی کے لکھا ہوا تھا اور غالب امکان ہے کہ وہ ایل ڈی اے کے پلاٹوں کی فائلوں یا نقشہ کی منظوری سے متعلق کچھ کام کرواکر اپنی روزی روٹی چلاتا تھا۔
میری ایک ایل ڈی اے ہی کے ڈائریکٹر سے کسی معاملہ میں تکرار ہوگئی کیونکہ اس نے سوسائٹی میں ڈسپنسری کی تعمیر کو روکا تھا اور جب میں نے اس سے ملاقات کی تو اس کا کہنا تھا کہ کچھ صحافی لوگوں نے شکایت کی تھی اس لیے کام رکوایا گیا تھا۔ جب میں نے اس سے کہا کہ ڈسپنسری کی جگہ ڈسپنسری بن رہی ہے اور یہ عين سوشل ویلفیئر کا کام ہے اور اس ڈسپنسری کی تعمیر سے خود حکومت کا ہاتھ بٹانا مقصود ہے اور اگر حکومتی محکمے ہی اس کام کو روکنے لگے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
اس ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ روزانہ یہاں آکر عملہ کے افراد کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور اگر ان کی بات نہ مانیں تو وہ دفتر میں یہ بات پھیلا دیتے ہیں کہ فلاں افسر کرپٹ ہے اور رشوت وصول کرکے کاروائی سے اجتناب کرتا ہے جبکہ وہ لوگ حقیقت میں صحافی تھے بھی نہیں لیکن ان کے دباؤ میں آ کر افسران غلط فیصلے کرتے ہیں۔ چھوٹے موٹے غير رجسٹرڈ اخبارات اور ڈیجیٹل چینل بنا کر ناصرف لوگ صحافی بن چکے ہیں بلکہ انھونے میڈیا کارڈ تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس سے ہر گلی محلہ میں میڈیا کارڈ ہولڈر کثرت سے نظر آتے ہیں جو ہر معاملہ میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہی نہیں مختلف پریس کلبوں کے اندر صحافیوں کی بجائے غير صحافی افراد زیادہ ہیں اور جب سے حکومت پنجاب نے صحافی افراد کو رہائشی پلاٹ دینے کا منصوبہ شروع کیا ہے تو ایسے ایسے افراد نے پریس کلبوں کی ممبر شپ حاصل کرلی ہے جو صحافی سے زیادہ پراپرٹی ڈیلر ہیں۔
ایک بار مجھے پاکستان ریلویز کے تعلقات عامہ کے افسر نے بتایا کہ مختلف نیوز ایجنسیوں کے پلیٹ فارم سے لوگوں نے ریلویز سے سفری ڈسکاؤنٹ کارڈ لے رکھے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو محض سفری صحافی ہیں۔۔ ملک میں صحافت کی بدحالی کے ذمہ دار صحافتی ادارے، تنظیمیں اور حکمران سب ہیں۔ اصل میں وطن عزيز میں سرکاری اہلکاروں کی یہ بدچلنی تو ہمیشہ سے رہی ہے کہ وہ کسی بھی کاروبار کرنے والے شخص کو تنگ کرتے ہیں اور پھر اسی کے اندر سے اپنے لئے رشوت کے راستے بھی تلاش کرتے ہیں اور پھر ان بد قماش کارندوں کے مطالبات زر جب حد سے بڑھنے لگے اور ساتھ میں طرح طرح کے محکمے بھی جنم لینے لگے تو اتنے افراد کے چونچلے اٹھانے سے بچنے کے لئے بڑے کاروباری افراد نے چینل بنالئے اور چھوٹے موٹے کاروبار چلانے والوں نے اخبارات اور میگزین نکال کر خود کو صحافی ظاہر کرنا شروع کردیا۔
اس وقت بھی زیادہ تر میڈیا ہاؤس ایسے ہی کاروباری افراد کے پاس ہیں اور ان لوگوں کا مطمع نظر نہ تو صحافت کی ترقی ہے اور نہ ہی صحافیوں کی بہبود بلکہ یہ لوگ اپنے کاروبار کی ڈھال کے لئے صحافت کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرز عمل نے پچھلے بیس سالوں میں ملک کے اندر میڈیا ہاؤسز کی ایک منڈی لگادی ہے اور اب تو کسی اخبار کا ڈیکلریشن لینا ہو تو لسٹ کے اندر سے اخبار کا نام ڈھوندنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پہلے تو لوگ یونیورسٹیوں سے صحافت کی ڈگری لیتے تھا اور یا پھر پڑھے لکھے لوگ مختلف اخبارات کے ساتھ منسلک ہو کر عملی صحافت کی تربیت حاصل کرتے تھے اور اپنے سینئر صحافیوں کو دیکھ کر صحافتی سفر کا آغاز کر لیتے تھے۔ ليکن آجکل نہ تو ڈگری کی ضرورت رہی ہے اور نہ ہی کسی تربیت کی بلکہ ایسےافراد جو موبائل اور کمپیوٹر کا علم جانتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر مختلف تکنیکس استعمال کرکے وائرل ہو جاتے ہیں اور پھر گھر بیٹھے دنیا جہاں کے علوم بانٹنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ افراد مائیک پکڑ کر عوام میں گھس جاتے ہیں اور انویسٹی گیشن جرنلزم شروع کردیتے ہیں۔
کئی افراد دیکھے جا سکتے ہیں جو کبھی راہ چلتے افراد کو روک کر الٹے سیدھے سوالات کرتے ہیں کہ بطور صحافی شرم محسوس ہونے لگتی ہے اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو مائیک پکڑ کر خود کو ڈان سمجھنے لگتے ہیں اور مختلف دکانوں اور مارکیٹوں میں تفتیش کرنا شروع کردیئے ہیں اور لوگوں سے اس طرح کے سوال کرتے ہیں جس طرح کوئی پولیس والا بدتمیزی کرتا ہے۔ یہ لوگ سوال کا جواب مرضی کے مطابق نہیں ملنے پر چیختے ہیں اور جج بن کر اپنا فیصلہ بھی صادر کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جواب نہ دینا چاہے تو اسے دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہوتے کون ہو کہ میرے سوال کا جواب نہ دینے والے۔
انٹرویو کرنا اور اس کے لئے سوالات کا چناؤ بھی ایک آرٹ ہے جس کے لئے پروفیسر مہدی حسن کہا کرتے تھے کہ سوالات میں شائستگی ہونی چاہئے اور جس سے سوال کرتے ہو وہ آپ کے لئے اطلاع اور خبر کا ذریعہ ہے اور اپنے سورس کی عزت اور پرائیویسی قائم رکھنا ایک صحافی کی ذمہ داری ہے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ اچھے بھلے اینکر بھی سنسنی پھیلانے کے لئے اپنے مہمانوں سے جھگڑنے لگتے ہیں اور کئی لوگ تو ایسے بھی ہیں جو اپنے مہمان کو رائے دینے کے لئے بلاتے ہیں اور پورے پروگرام میں اپنے بھاشن سناکر بھیج دیتے ہیں اور پھر مہمان کی بات سننے کی بجائے تابڑ توڑ سوالات کرتے ہیں جیسے مقصد رائے لینا نہ ہو بلکہ تذلیل کرنا ہو۔ ایسے اینکر بھی کثرت سے ملتے ہیں جو پروگرام میں خود پارٹی بن جاتے ہیں اور پورے مباحثے میں یہ سمجھ نہیں آتی ہے کہ میزبان کون ہے اور مہمان کون لوگ ہیں۔ مين ٹیلی ویژن چینلوں پر لڑائیاں چلتی ہیں اور کئی سياسی ورکروں نے ایسے ہی پروگراموں میں گھونسے اور زبان چلا کر ہی اپنے پارٹی میں نام پیدا کئے ہیں۔
ہم جہاں بھی سرکاری لوگوں اور افسران سے ملتے ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ صحافی بلیک میلنگ کرتے ہیں حالانکہ ان لوگوں سے زیادہ اپنے عہدوں اور اختیارات کو استعمال کرکے نظام، عوام اور سرکار کو بلیک میل کرنے والا دوسرا کوئی نہیں ہے لیکن چونکہ صحافت خود بے يارو مددگار ہو چکی ہے اس لئے اسے جو چاہتا ہے استعمال کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کی تذلیل کرتا ہے۔ جو صحافیوں کی نمائندہ تنظیمیں ہیں ان پر چند لوگوں کا قبضہ ہے۔ ایسے میں حقیقی لوگ کنارہ کش ہوگئے ہیں اور خوشامد پسند لوگ صحافتی لیڈروں اور سرکاری افسران کے ساتھ مل کر نظام پر قابض ہو چکے ہیں۔
صحافت جس کا مقصد صاحب اختیار لوگوں پر تنقید کرنا اور ان کی بد اعمالیوں کو سامنے لانا ہوا کرتا تھا آج وہ انھیں لوگوں کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہے اور آزادی صحافت کا نعرہ خود غلامی قبول کر چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی مستند صحافی کسی اختیار کے بندے کے خلاف بات کرتا ہے تو اگلے ہی دن اس شخص کے لئے کئی تعریفی قصیدے چھپ جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں صحافت اب اپنے ہی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہن کر غلامی کو قبول کر چکی ہے جبکہ چند حقیقی صحافیوں کی آواز گونجتی ہے تو کبھی کبھی صحافت کی رمک دکھائی دینے لگتی ہے اور پھر لمبا سکوت طاری ہو جاتا ہے۔
صحافت کی آزادی کا سفر اس اخلاقیات سے شروع ہوتا ہے جو صحافی تنظیمیں خود پر لاگو کرتی ہیں اور پھر اس کا پہرہ بھی دیتی ہیں۔ جب تک صحافتی تنظیمیں صحافیوں کو باقاعدہ میرٹ پر لائسنس جاری نہیں کریں گی تب تک صحافی کی عزت قائم نہیں ہوگی۔ یہاں حالت یہ ہے کہ گزشتہ دس سال سے ملک کے سب سے بڑے لاہور پریس کلب کی ممبر شپ پر پابندی عائد کی گئی ہے اور دو سال پہلے ممبر شپ کے لئے درخواستیں طلب کی گئی تھیں لیکن ان کا بھی کچھ نہ بن سکا اور عرصہ دراز سے سکروٹنی نہ ہونے کی وجہ دے نئے صحافیوں کو نہ تو ممبر شپ ملی ہے اور نہ ہی عرصہ دراز سے عملی صحافت کو خیرباد کہنے والوں کو رخصت کیا گیا ہے اور اس طرح ڈنگ ٹپاو پالیسی پر ہا بار الیکشن ہو جاتے ہیں۔

