Wali Ullah (7)
ولی اللہ (7)

گھر کا ماحول اب زہر آلود ہو چکا تھا۔ میں ایک ایسے مجرم کی مانند تھا جس کی ہر حرکت، ہر خاموشی، ہر سانس پر شبہے کی عینک سے دیکھا جاتا۔ ابو کی نظروں میں وہ پیار ختم ہو چکا تھا جو کبھی میرے لیے ان کی آنکھوں کا سرمہ تھا۔ اب وہاں بس ایک ٹھنڈی، سخت ناراضگی تھی، جیسے کوئی پتھر ہو گئے ہوں۔ وہ مجھ سے بات کرتے بھی تو ایسے، جیسے کوئی اجنبی ہوں۔ بس ضروری ہدایات: "دکان پر فلاں کام کر دینا"۔ "اس کا حساب درست کر لینا" اور ختم۔
دکان پر جانا ایک عذاب بن چکا تھا۔ وہ دکان جو کبھی ہماری معاشی کشتی تھی، اب ایک ایسا میدان تھی جہاں ابو کی خاموش ڈانٹ مسلسل پڑتی رہتی۔ وجہ صاف تھی۔ ہمارے گاہک زیادہ تر حضرت صاحب کے مریدین تھے، جو ہمارے علاقے کے بزرگ مانے جاتے تھے۔ شہر کے اس حصے کی اکثریت انہی سے عقیدت رکھتی تھی۔ اب لوگ آتے، سامان تو لیتے، مگر بات کہیں نہ کہیں میرے موضوع پر آ ہی جاتی۔ "ارے بھئی، آپ کے لڑکے کو کیا ہوا؟ سنا ہے اب وہ ولیوں کے منکر ہو گئے ہیں؟ اب آپ لوگ بھی حضرت صاحب کے دربار پر نہیں آتے۔ کہیں آپ بھی تو،؟"
ابو ان وضاحتوں سے تھک چکے تھے۔ کبھی نرمی سے سمجھانا، کبھی انکار، کبھی بات کو ٹال دینا۔ مگر ہر بار ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچتی۔ جو شخص کبھی محلے میں باعزت اور دیندار سمجھا جاتا تھا، اب اس کے بیٹے کی وجہ سے اسے اپنے ایمان کے دفاع میں کھڑا ہونا پڑ رہا تھا۔ اس تمام نفسیاتی اذیت کا غصہ، بے بسی اور شرمندگی کا ایک گھنا گھونٹ، وہ مجھ پر اُتارتے۔ کاروبار پر بھی اثر پڑنے لگا تھا۔ پیر بھائی اب دکان پہ کم آتے تھے، نئے تعلقات بنانے میں دشواری ہوتی۔ مگر میری نظر اب صرف ایک ہدف پر تھی: دین کو سمجھنا۔ میں نے سوچا، جب دکان پر بیٹھ کر بھی صرف جھگڑا ہی ملنا ہے، تو بہتر ہے کہ وہ وقت میں قرآن و سنت کی تفہیم پر لگاؤں۔ میں نے دکان جانا چھوڑ دیا۔
ایک دن بازار میں سامان لینے گیا ہوا تھا کہ سکول کے زمانے کے ایک دوست ذیشان سے ملاقات ہوگئی۔ وہ میری حالت دیکھ کر حیران رہ گیا: داڑھی، ٹوپی، سادہ کپڑے۔ سکول کے زمانے میں، میں اس کی نظر میں ایک "لبرل" طالب علم تھا، جو مذہبی رسومات سے کوسوں دور بھاگتا تھا۔ "ضرغام! یہ کیا صورتحال ہے؟ تم تو بالکل، مولوی صاحب لگ رہے ہو! ارے ذیشان بڑے عرصے بعد نظر آئے!" اس نے خوشی سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "لیکن آپ کو دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے۔ چلو، چائے پیتے ہیں۔ کسی اچھی جگہ بیٹھتے ہیں"۔
میں نے ہاں کر دی۔ شاید کچھ نئی باتیں سننے کو ملیں گی، ذہن تازہ ہوگا۔ ایک پرسکون کیفے میں بیٹھ کر میں نے اپنے سفرِ ہدایت، اپنے نئے عقائد اور گھر والوں سے پیدا ہونے والے اختلافات کا ذکر کیا۔ ذیشان غور سے سنتا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ "ضرغام! تم تو بالکل ہمارے عقائد پر آ گئے ہو! ہم بھی یہی کہتے ہیں"۔ اس نے جوش سے کہا۔ "ہم؟" میں نے پوچھا۔
"ہاں! ہماری ایک جماعت ہے۔ ہمارا لیڈر ڈاکٹر عمران ہیں۔ بہت جدید تعلیم یافتہ ہیں، ان کا یوٹیوب چینل ہے جہاں وہ ہر اتوار زوردار لیکچر دیتے ہیں۔ دیکھو نا، ہم کس طرح توحید کا کام کر رہے ہیں۔ ان تمام باباؤں، پیروں کو بے نقاب کر رہے ہیں جنہوں نے جھوٹی کرامتوں اور چالاکیوں سے عوام کو بیوقوف بنا رکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب تو ان فرقہ پرست مولویوں کی ایسی کی تیسی کر دیتے ہیں۔ ہماری زوردار تبلیغ سے لاکھوں لوگ ان درباروں اور فرقہ پرستی سے دور ہو کر سچی توحید کی طرف آ رہے ہیں!"
میں نے comparative study کے دوران ڈاکٹر عمران کے لیکچر بہت سنے تھے۔ ان کا اندازِ بیان بلاشبہ پرجوش اور دلآویز تھا، مگر مجھے ہمیشہ ان کے طریقہ کار پر اعتراض رہا تھا۔ میں نے کہا، "ذیشان بھائی، ڈاکٹر صاحب کے لیکچر میں نے سنے ہیں۔ علم اور جوش تو بہت ہے، مگر ان کے طریقہِ تبلیغ سے میرا اختلاف ہے۔ تبلیغ کا مقصد ہے لوگوں کے دلوں کو نرمی، پیار اور دلیل سے اللہ کی طرف بلانا۔ نبی کریم ﷺ کا طریقہ مبارک تھا (خوشخبری دو، نفرت نہ پھیلاؤ۔ آسانی پیدا کرو، مشکل نہ بناؤ۔ صحیح بخاری)۔ ڈاکٹر صاحب تضحیک اور طنز کا اسلوب اختیار کرتے ہیں، جو دوسروں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ ہمارا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، دلوں کو بدلنا اللہ کے اختیار میں ہے: "انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدى من يشاء" (بیشک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ القصص: 56)"۔
میں نے اپنی بات جاری رکھی، "دوسری بات، ڈاکٹر صاحب ہر فرقے کے علماء کو نشانہ بناتے ہیں، جس کی وجہ سے پورے مذہبی طبقے میں ان کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ ہاں، اہل تشیع ان سے نرم گوشہ رکھتے ہیں، کیونکہ وہ بنو امیہ کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں۔ لیکن ہماری ترجیح آج کے مسائل ہونے چاہئیں، پندرہ سو سال پرانے تاریخی جھگڑوں کو اچھال اچھال کر فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اختلاف تو احترام کے دائرے میں رہ کر بھی کیا جا سکتا ہے اور اصل بات کہ ہم اہل بیت کی سیرت سے کیا سیکھتے ہیں"۔
ذیشان میری بات سنتا رہا۔ میں نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا، "اور ذیشان، قادیانیوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا موقف انتہائی کمزور ہے۔ وہ انہیں کافر تو کہتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ عجیب دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اہل کتاب سے بہتر ہیں کیونکہ یہ قرآن و سنت کا احترام کرتے ہیں۔ یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ قادیانیت کی تکفیر امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اسلام سے خارج کر دینے والا عمل ہے۔ پھر ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اگر قادیانی دجال ہیں، تو بریلوی، دیوبندی بابے بھی تو یہی کرتے رہے۔ یہ موقف سراسر باطل ہے۔ کسی بریلوی، دیوبندی یا اہل حدیث عالم نے کبھی صریح نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، نہ ہی اپنی علیحدہ امت بنائی۔ ہاں، عقائد میں کمزوریاں اور بدعات ہیں، جن پر میں بھی بات کرتا ہوں، مگر احترام کے دائرے میں رہ کر۔ فرقوں بارے میں اللہ کا فرمان سخت ہے: "ان الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعا لست منهم في شيء" (جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے، (اے نبی) آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ الانعام: 159)۔ مگر اصلاح کا طریقہ تضحیک تو ہرگز نہیں ہو سکتا"۔
میں نے آخری نقطہ واضح کیا، "اور دیکھو، لبرل طبقہ ڈاکٹر صاحب سے کیوں خوش ہے؟ کیونکہ لبرل طبقہ براہ راست اسلام پر حملہ نہیں کر سکتا، وہ مولوی کو نشانہ بناتا ہے۔ اب جب ایک "مولوی" ہی دوسرے مولویوں کے خلاف تلوار لے کر کھڑا ہو جائے، تو لبرلز کے لیے اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس سے نفرت کی دیواریں اور اونچی ہوں گی، طبقات میں کوئی اصلاح نہیں آئے گی اور اب تو ڈاکٹر صاحب سیاست میں بھی طبع آزمائی کر رہے ہیں، جو ایک بالکل ہی مختلف جنگ ہے"۔
ذیشان نے میری تمام باتیں غور سے سنیں، پھر کہا، "ضرغام، تمہارے سوالات سمجھ آنے والے ہیں۔ میرا خیال ہے تمہیں ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحب سے ملنا چاہیے۔ اس اتوار کو ان کی اکیڈمی میں لیکچر ہے، میں تمہاری ملاقات کروا دوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم ہمارے مشن میں ضرور شامل ہو جاؤ گے"۔ میں نے سوچا، اچھا موقع ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے براہ راست بات ہو سکے گی، شاید میری باتوں کا کوئی اثر ہو۔ میں نے ہامی بھر لی۔ اتوار کو لیکچر تھا۔ ڈاکٹر عمران نے "بدعات اور فرقہ پرستی" کے موضوع پر بریلویوں اور دیوبندیوں کو خوب "لتیڑا"۔ لیکچر کے بعد ذیشان نے میرا تعارف کروایا، "ڈاکٹر صاحب، یہ ضرغام ہیں۔ یہ بھی پیروں، درباروں سے نکل کر سیدھی توحید پر آئے ہیں"۔
ڈاکٹر عمران نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا، "ماشاءاللہ! بہت اچھا۔ تم جیسے نوجوانوں کی ہمیں ضرورت ہے"۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔ میں نے بھی نہایت ادب سے اپنے چند اختلافی نکات بیان کیے، خاص طور پر تبلیغ کے اسلوب اور تاریخی مسائل کو چھیڑنے کے نقصانات پر۔ وہ میری بات سنتے رہے، مسکراتے رہے، مگر واضح تھا کہ وہ انہیں قبول نہیں کر رہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو بہت سے مذہبی حلقوں میں پایا جاتا ہے: اپنے آپ کو ہی حق پر سمجھ لینا، دوسرے کو سمجھنا صرف ایک رسم ہوتا ہے۔
دو دن پر سکون گزرے۔ پھر وہ رات آئی جو میری زندگی کے دھارے کو ہی موڑ دینے والی تھی۔ عشاء کے وقت گھر لوٹا۔ دروازہ کھولا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی بھٹی میں داخل ہو رہا ہوں۔ ہال میں بابا جان کھڑے تھے، ان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا اور جسم کانپ رہا تھا۔ ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھا، جس کی اسکرین سے ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ "یہ دیکھ! یہ دیکھ اے بے غیرت! یہ کون ہے؟" ان کی آواز گونجتی ہوئی، غصے سے بھرپور تھی۔ امی بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے نکلیں، آنکھوں میں خوف تھا۔ "کیا ہوا؟ اے اللہ، قاسم، خیر تو ہے؟"
"خیر؟" بابا جان کی آواز میں طنز کی ایک کڑواہٹ تھی، "خیر تو اس گستاخ، اس مرتد ڈاکٹر عمران کی مریدی اختیار کرنے میں ہے! جس کا صبح شام کام ہے اولیاء اللہ پر، بزرگوں پر بھونکنا! آج، آج حضرت صاحب کے بیٹے نے مجھے بلایا۔ پورے دربار میں مجھے شرمندہ کیا! کہنے لگے، "قاسم صاحب، تم لوگوں نے اگر یہی کرنا ہے، تو ہمارے در پر کیوں آتے ہو؟ تمہارا بیٹا ہمارے دشمنوں سے گلے مل رہا ہے اور تم ہمارا دم بھرتے پھرتے ہو؟" پورے دربار میں میرا مذاق اڑا دیا گیا! میری عزت، میری حیثیت، سب خاک میں ملا دی تم نے!" غصے سے ان کی رگیں پھڑک رہی تھیں۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی، "ابا جان، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں نے تو صرف۔۔ "
میری بات کاٹتے ہوئے انہوں نے موبائل میری آنکھوں کے سامنے کر دیا۔ اسکرین پر وہی ویڈیو تھی جس میں میں ڈاکٹر عمران کے ساتھ کھڑا مسکراتے ہوئے نظر آ رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے چینل پر لیکچر کے بعد کی ملاقات کی یہ تصاویر اپلوڈ کر دی تھیں، شاید "تبدیلی کی کہانی" کے طور پر۔ "دیکھ! یہ تیری شرمناک تصویر! پورا شہر دیکھ رہا ہے! ہر کوئی جانتا ہے کہ قاسم کا بیٹا ان گستاخوں کا حامی ہے!" بابا جان کا غصہ عروج پر تھا۔
ادھر سے بھائی احسان اور بھابھی بھی آ گئے۔ بھائی کا چہرہ بھی سخت تھا۔ "ابا، اب آپ ہی فیصلہ کریں۔ ہماری عزت سب کے سامنے روندی جا رہی ہے"۔ ابا جان نے مجھ پر ایک ایسی نظر ڈالی، جیسے وہ مجھے پہچان نہیں پا رہے۔ پھر انہوں نے وہ الفاظ کہے جو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک خنجر بن کر پیوست ہو گئے۔ ان کی آواز میں غصہ تھا، مگر اس سے زیادہ ایک ٹوٹنے، بکھرنے اور فیصلہ کر لینے کا درد تھا"۔ آج فیصلہ ہوگا۔ تو نے ہمارے راستے کو، ہمارے بزرگوں کو، ہمارے عقیدے کو ٹھکرا دیا ہے۔ اب یہ گھر تیرے لیے نہیں ہے۔ نکل جا۔ دفع ہو جا یہاں سے۔ میں سمجھوں گا میرے دو ہی بیٹے تھے اور ایک آج مر گیا میرے لیے"۔
ہوا گھٹ گئی۔ کمرے کی دیواریں مجھ پر گرنے لگیں۔ میں نے امی کی طرف دیکھا، وہ ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھیں۔ بے بسی سے امی نے روتے ہوئے کہا، "قاسم، تمہارا بیٹا ہے، کچھ تو خیال کرو"۔ "میرا بیٹا وہی ہے جو ہمارے دین پر چلے!" بابا جان نے گرج کر کہا، "یہ مسلمان ہے یہ جنتی ہے اور ہم کافر ہیں! یہی صلہ ملا ہمیں اس کی پڑھائی کا! گھر سے نکل کر اسے لگ جائے گا پتہ! باپ کی کمائی کے بغیر کیسے گزارا ہوتا ہے! دو دن میں سارا مفتی نکل جائے گا!"
میرا جسم لکڑی کے ایک مجسمے کی طرح بے حس ہو چکا تھا۔ میں نے الٹے قدموں چلنا شروع کیا۔ دل ایک ایسے خالی پن میں ڈوب رہا تھا جس کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا تھا۔ ماں کی ہچکیاں، باپ کی گرج، بھائی کی بے رحم آنکھیں، سب ایک ہولناک خواب لگ رہا تھا۔
دروازہ میرے پیچھے بند ہوا۔ نہیں، دروازہ نہیں، میرے ماضی، میری پہچان، میری پناہ گاہ پر تالا پڑ گیا۔ ایک زنجیر ٹوٹی اور اس کے ٹکڑوں نے مجھے ہی زخمی کر ڈالا۔ سڑک پر کھڑا میں ایک ایسا درخت تھا جسے جڑوں سمیت اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہو۔ رات کی ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر میں اسے محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔ اندر تو ایک آگ تھی، ایک چیخ تھی جو حلق تک آ کر رک گئی تھی۔
پھر اچانک، ایک نرم، کانپتی ہوئی، مگر انتہائی مضبوط گرفت نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ زہرا تھی، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، مگر ان میں ایک ایسی حتمیت تھی جس کے سامنے پورے گھر کا طوفان ہیچ تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ بس میری نظر میں اپنی نظر گاڑھ دی۔ اس کی آنکھوں میں میرے لیے جو کچھ تھا، وہ ہزاروں الفاظ سے زیادہ وزنی تھا۔ وہاں صرف پیار ہی نہیں تھا، میری راہ پر اس کا یقین تھا۔ اس نے میرا ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیوں میں لے لیا، جیسے کوئی ننھا پرندہ، جو گھونسلے سے گر گیا ہو، اسے بچا رہی ہو۔ اس کی انگلیاں میری انگلیوں میں گندھ گئیں۔ یہ ایک لمس تھا، یہ لمس کہہ رہا تھا: "تم اکیلے نہیں ہو"۔ اس کی آواز میں لرزش تھی، مگر ہر لفظ ایک پہاڑ کی طرح ٹھوس تھا۔ "تیرے ساتھ جو گزری ہے"، وہ رکی، سانس لیا، گویا اپنے وجود کی پوری طاقت کو الفاظ میں ڈھال رہی ہو"، ۔۔ تیرے ساتھ ہی گزرے گی"۔
میں اپنے ہمسفر کے سہارے چل رہا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ جس راستے پر چلنے کی قیمت اتنی بڑی چکانی پڑتی ہو، وہ ضرور حق کا راستہ ہوگا۔ فرمانِ الٰہی یاد آیا: "احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا امنا وهم لا يفتنون" (کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ العنکبوت: 2)۔ زہرہ کے ہاتھ کی گرمائی نے میرے وجود میں واپس خون دوڑا دیا۔ آنکھوں میں جو سوکھے تھے، اب آنسوؤں کی ایک نرم نمی محسوس ہوئی۔ یہ رنج کے آنسو نہیں تھے۔ یہ ایسی کٹھن آزمائش میں کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کے اعزاز کے آنسو تھے۔ خالی سڑک پر ہمارے قدموں کی آواز ہوا میں گم ہو رہی تھی۔ اب منزل کا علم نہ ہونے کا ڈر نہیں تھا۔ فرمانِ الٰہی ذہن میں گونجا: "ومن يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب" (اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ الطلاق: 2-3)۔

