Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Mazameen e Quran, Satarhvi Nimaz e Taraweeh

Mazameen e Quran, Satarhvi Nimaz e Taraweeh

مضامینِ قرآن، سترہویں نماز تراویح

اٹھارویں پارے کے کل 17 رکوع ہیں جس میں سورہ المومنون کے 6 رکوع اور سورہ النور کے 9 رکوع اور سورہ الفرقان کے 2 رکوع شامل ہیں۔ اس پارے کے مضامین میں ان مومنوں کا ذکر کیا گیا ہے جو آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ ان کی7 صفات بیان ہوئیں جو نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں، فضول بات نہیں کرتے، زکوۃ ادا کرتے، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی امانتوں اور وعدوں کی رعایت کرتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

انسانی پیدائش کے مراحل کا بیان کیا، موت اور قیامت کے دن دوبارہ زندگی بارے بتایا گیا۔ آسمانوں کی تخلیق، پانی جیسی عظیم نعمت، پھلوں کا ذکر اور خاص کر کھجور، انگور اور زیتون کی تخلیق اور ان سے نفع اٹھانے کا بیان ہوا۔ قدرت الیہہ کو مزید بیان کرتے ہوئے چوپایوں کو بیان کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو انسانی نفع اور خوراک کے لیے پیدا کیا۔ ابو البشر حضرت نوحؑ، ان کی دعوتِ توحٰید، قوم کی نافرمانی، کشتی بنانے کے حکم اور ان کی قوم پر عذاب کا حال بیان ہوا۔ قومِ عاد، قوم ہود کی طرف اشارہ کیا اور ان قوموں کا حال بیان کیا۔

کفار کا حال بیان ہوا جس میں ان کے باطل عقائد، نبی کی اطاعت نہ کرنے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے بارے تعجب اور دنیا کو ہی سب کچھ سمجھنے بارے مضامین آئے ہیں۔ ایک بار پھر اس پارہ میں حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی ہارونؑ کا فرعون کے پاس جانا اور فرعونیوں کے تکبر اور ان کے کلام کو بیان کیا گیا۔ حضرت عیسیٰؑ اوران کی والدہ کا واقعہ بیان کرکے قدرت الہیہ بیان ہوئی۔ کامل ایمان والوں کی 5 صفات کو بیان کرکےان کو بشارتیں دی گئیں۔ کفار کی ایک حالت کو بیان کیا گیا کہ مصیبت کے وقت وہ اطاعتِ الہی کرتے ہیں اور مصیبت ٹلنے کے بعد پھر عناد و سرکشی کی طرف منہ کر لیتے ہیں۔

انسان کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ برائی کو بھلائی سے دور کرے۔ وہ لوگ جو نیک بندوں کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو منع کیا گیا اور ان کو ایسا کرنے پر ان کے انجام بارے بیان ہوا اور یہ بتا دیا کہ لوگوں کو بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔ سورہ نور میں پردہ، شرم و حیاء، عفت و پاکدامنی کے اصول بیان ہوئے۔ اس میں مردوں اور عورتوں کی شرعی سزاؤں، مشرکہ و زانیہ عورت سے نکاح حرام قرار دیا گیا جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا کہ اگر زانی/زانیہ سچی توبہ کرلے تو نکاح جائز ہے تاہم مشرکہ عورت کے ساتھ نکاح کی حرمت باقی رکھی گئی۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے، چار گواہ پیش کرنے اور لعان کے احکام بیان ہوئے۔

حضرت ابوبکر کی شان بیان ہوئی، واقعہ افک جو 5 ہجری میں غزؤہِ بنی المصطلق سے واپسی پر پیش آیا اس کی طرف اشارہ اور اس میں خیر کے پہلو کو بیان کرکے مسلمانوں کو ادب کی تعلیم دی گئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ پر بہتان لگانے والوں کو تنبیہ کی گئی اور بہتان تراشوں کا رد کیا گیا اور مسلمانوں کو بہتان تراشی سے بچنے کی تاکید کی گئی۔ مالداروں کو غریبوں کا خیال رکھنے اور ان کی مالی امداد کرنےاور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا درس دیا گیا۔ بروزِ قیامت جب انسان اپنے گناہ چھپائے گا تو اسے بتا دیا گیا کہ تمہارے اعضاء ہی تمہارے کاموں کی گواہی دیں گے جو تم کرتے تھے۔

قرآن پاک کے اوصاف بیان کیے نزولِ قرآن کو عطائے ہدایت کہا، اللہ کے نور کو ایک بہت ہی عمدہ مثال سے سمجھایا گیا اور اللہ کے نیک بندوں کے ظاہری و باطنی اوصاف بیان کئے گئے۔ اطاعت رسول کی اہمیت بیان ہوئی اور اطاعتِ رسول پر منافقوں کا حال بیان ہوا۔ گھروں میں داخل ہونے کے طریقے بیان ہوئے اور خاص کر تین اوقات کا خیال رکھ کر احتیاط کرنے کو کہا گیا۔

سورہ فرقان میں مرکزی مضمون اللہ تعالیٰ کی توحید، نبوت اور قیامت کے احوال پر مبنی ہے۔ سورہ میں اللہ تعالیٰ کے حمد و ثنا، عظمت و شان اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہونے کو بیان کیا گیا۔ نبی اکرم کی تسلی کے لیے دیگر انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے جس میں حضرت موسیٰؑ، حضرت نوحؑ، قومِ عاد، قومِ ثمود، اصحاب الرس اور حضرت لوطؑ شامل ہیں کہ کس طرح ان کو اذیتیں دی گئیں اور کیسے لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور نافرمانیا ں کیں اس لیے اےمحبوب آپ ان کے رویے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ یہ ان کا پرانا دستور ہے۔ ان کا اور ان جیسے گمراہوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور یہ لوگ عذاب الہی کے حقدار ہیں مگر یہ عبرت حاصل نہیں کرتے ان سے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔

قدرتِ الہیہ کی نشانیاں بیان ہوئیں جن میں دن، رات، بارش، سمندر، تخلیقِ انسانی اور رشتے ناتے شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مزید صفات بیان کرکے توکل و تسبیح و تحمید کا حکم دیا اور پھر مقرب بندوں کے اوصاف بیان ہوئے۔ جھوٹی گواہی، شرک، لغویات سے احتراز اور سچی توبہ کرنے کا بیان کرکے بتایا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر شرک اور دیگر گناہوں کی بہت سخت سزا ہوگی۔

سورہ شعراء میں قرآن پاک کی عظمت کا بیان ہے کہ اسے ہدایت کا سرچشمہ بنایا گیا، اللہ تعالیٰ ہی کے پاس آسمان اور زمین کی بادشاہت ہے اور وہی آسمان و زمین کے سب راز جانتاہے۔ آقا کو کفار کی نافرمانیوں اور تنگ کرنے پر صبر کا درس دیا گیا کیونکہ آپ کا رب خوب دیکھنے والاہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

Check Also

Qaidion Ka Maseeha

By Amir Mohammad Kalwar