Social Media Ne Hamein Insan Se Machine Bana Diya
سوشل میڈیا نے ہمیں انسان سے مشین بنا دیا
انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا، کیونکہ اس کے پاس دل ہے، احساس ہے، شعور ہے اور رشتوں کو نبھانے کی صلاحیت ہے۔ مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی وہی انسان رہ گئے ہیں؟ یا ہم اسکرینوں کے پیچھے بیٹھے ایسے وجود بن چکے ہیں جو جذبات کے بجائے ردعمل دیتے ہیں، سوچنے کے بجائے شیئر کرتے ہیں اور سمجھنے کے بجائے فوری فیصلہ سنا دیتے ہیں؟ کیا سوشل میڈیا نے ہمیں انسان سے مشین بنا دیا ہے؟
گزشتہ ایک دہائی میں سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کا رخ بدل دیا ہے۔ Facebook، Instagram، X اور TikTok جیسے ذرائع نے رابطے کو آسان بنایا، معلومات کی رفتار بڑھائی اور اظہارِ رائے کا دائرہ وسیع کیا۔ بظاہر یہ ترقی تھی مگر اس ترقی کے ساتھ انسانی رویوں میں بھی خاموش تبدیلی شروع ہوگئی۔ اب انسان تعلقات کو وقت دینے کے بجائے اسٹیٹس دینے کو ترجیح دینے لگا ہے۔ پہلے ملاقاتیں ہوتی تھیں، اب ویڈیو کال کافی سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دکھ بانٹنے کے لیے انسان انسان کے پاس جاتا تھا، اب صرف احساس ظاہر کرنے کے لیے جذباتی نشانات بھیج دیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ہمیں ردعمل کی مشین بنا دیا ہے۔ کوئی خبر آئی نہیں کہ ہم نے بغیر تحقیق کے اسے آگے پھیلا دیا۔ کوئی ویڈیو وائرل ہوئی نہیں کہ ہم نے بغیر تصدیق کے اس پر رائے قائم کر لی۔ سچ اور جھوٹ کا فرق دھندلا گیا ہے۔ ہم تحقیق کم اور فوری ردعمل زیادہ دینے لگے ہیں۔ یہ رویہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دے رہا ہے جہاں برداشت کم اور جذباتی ردعمل زیادہ ہے۔
نفرت انگیزی اور بدزبانی بھی اسی کلچر کا نتیجہ ہے۔ لوگ اختلافِ رائے کو دلیل سے نہیں بلکہ ذاتی حملوں سے جواب دیتے ہیں۔ یہ رویہ صرف آن لائن نہیں رہتا بلکہ حقیقی زندگی میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ معاشرہ آہستہ آہستہ تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور مکالمہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
نوجوان نسل اس کا سب سے بڑا شکار ہے۔ وہ لائکس اور فالوورز کو کامیابی کا معیار سمجھنے لگی ہے۔ خود اعتمادی اب اصل صلاحیت کے بجائے ڈیجیٹل مقبولیت سے جڑ چکی ہے۔ کم لائکس مایوسی اور زیادہ لائکس وقتی خوشی بن چکے ہیں۔ یہ نفسیاتی دباؤ نوجوانوں کو بے چینی میں مبتلا کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے ہماری توجہ اور برداشت بھی کم کر دی ہے۔ مختصر ویڈیوز اور تیز رفتار مواد نے ہمیں گہری سوچ سے دور کر دیا ہے۔ اب طویل مطالعہ اور سنجیدہ مکالمہ کم ہوتا جا رہا ہے۔
ایک اور خطرناک پہلو پرائیویسی کا خاتمہ ہے۔ ہم اپنی ذاتی زندگی کو نمائش بنا چکے ہیں۔ جینے سے زیادہ دکھانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور اندرونی سکون ختم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود دشمن نہیں۔ یہ صرف ایک ذریعہ ہے۔ اگر اسے مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ تعلیم، آگاہی اور روزگار کا مؤثر وسیلہ بن سکتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال ہے۔
اسی تناظر میں مفکرِ پاکستان کا پیغام آج بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم واپس انسان بن سکتے ہیں؟ جواب ہاں میں ہے، اگر ہم یہ طے کر لیں کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا حصہ ہوگی مگر ہماری زندگی نہیں۔ اگر ہم حقیقی رشتوں کو ترجیح دیں اور ورچوئل دنیا کو حدود میں رکھیں تو توازن بحال ہو سکتا ہے۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسل ہمیں دیکھ کر کہے کہ ایک زمانہ تھا جب انسان جذبات سے جیتا تھا، مگر پھر اس نے خود کو اسکرین کے حوالے کر دیا اور آہستہ آہستہ مشین بن گیا۔

