Tuesday, 10 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Zindagi Aur Kahaniyan

Zindagi Aur Kahaniyan

زندگی اور کہانیاں

بچپن میں ہم عمرو عیار، ٹارزن اور ہرکولیس کی کہانیاں شوق سے پڑھتے تھے۔ سکول کے لئے جو پیسے دیئے جاتے تھے اکثر اس سے یہی کہانیاں خریدتے تھے۔ کبھی کبھار ڈھیر ساری کہانیاں خریدنے کے چکر میں چھوٹے یا بڑے بھائی کے پیسوں پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے۔ اس حرکت پر اب بھی شرمندگی ہوتی ہے اور ان کے لئے دل سے دل دکھتا ہے کہ میری وجہ سے انہوں نے سکول کی دنوں میں تکالیف اٹھائی۔

ڈائجسٹ وغیرہ بہت کم ہی ہاتھ آتے تھے۔ سچی کہانیاں کبھی کبھار پڑھ لیتے۔ نونہال اور شاہین بھی کبھی مل جاتا۔ شعاع اور کرن وغیرہ بھی پڑھنے کو ملے۔ اخبار جہاں کو تین عورتیں تین کہانیاں پڑھنے کے لئے بک سیلر کی دکان سے کرایہ پر گھر لے جایا کرتے تھے اور بعد میں کرایہ دیئے بنا لوٹاتے تھے۔ تین عورتیں تین کہانیوں سے بعد میں اکتاہٹ ہوئی کیوں کہ ہر کہانی دکھوں سے بھرپور ہوتی اور دیو، پریوں اور جادوگروں کی کہانیاں پڑھنے والا یہ سب اتنی آسانی سے ہضم نہیں کر پاتا۔

بچپن میں ہماری دنیا محدود ہوتی ہے۔ ہمارا مشاہدہ، ہمارا تجسس، ہمارے دکھ، ہمارے شوق اور حتیٰ کہ ہماری دعائیں بھی محدود ہوتی تھی۔ جیسے بچپن میں ہم یہ دعا مانگتے تھے کہ خدا کرے ہمارے سکول پر آسمانی بجلی گرجائے۔ جب بارش ہوتی تو یہ دعا مانگتے کہ سکول سیلاب میں بہہ جائے۔ گاؤں میں میت ہوجاتی تو تین دن تک مدرسے کی چھٹی ہوتی۔ تین دن کے بعد ہم یہ دعا مانگتے کہ کاش کوئی اور مرجائے اور یہ چھٹیاں مزید طویل ہو جائے۔ مرنے سے یاد آیا لڑکپن میں کسی اپنے کے مرنے کی دعا بھی محض اس لیے مانگتے تھے کہ کسی کی ایک جھلک دیکھ سکے۔ زبردستی کی وہ دیوانگی زیادہ دیر تک چل نہ سکی تھی۔

بڑے ہوئے تو سیلاب، آسمانی بجلی، دیوانگی اور کسی اپنے کی فوتگی کو قریب سے دیکھا تو بچپن اور لڑکپن والے آپ پر ہنسی آئی اور بچپن میں مانگی ہوئی دعاؤں سے گھن آئی۔ خدا جو بچپن میں ہماری دعائیں سنتا تھا اس کے حوالے سے بچپن میں سوچتے تو کسی مہربان بزرگ کا تصور ذہن میں آتا جو بانہیں پھیلائے ہمیں خود سے لگاتا اور ہمیں چاکلیٹ یا بسکٹ وغیرہ دیتا تھا۔ بڑے ہوکے بچپن کے خدا والے تصور پر غور کیا تو ہنسی آئی اور پہلے بچپن اور پھر خدا پہ ٹوٹ کے پیار آیا کہ بچپن میں ہم کتنے پیارے اور معصوم تھے، ہمارا خدا بھی ہماری طرح کتنا پیارا اور معصوم تھا جو پیاری پیاری اور معصوم دعائیں پیار سے سن کے معصومیت سے رد کرتا تھا۔

بچپن میں جو پہلا باقی باقاعدہ ناول پڑھا تھا وہ "دیوی" تھا۔ اس ناول کے لئے دو سو بیس روپیہ کیسے اور کتنے وقت میں جوڑا، یہ کہانی اگر قاسم علی شاہ کو سنائی جائے تو اس سے متاثر ہوکر شاید وہ کسی یونیورسٹی میں اس حوالے سے ایک سیشن رکھے۔ دیوی ایک غیر مسلم لڑکی کی کہانی تھی جس نے اسلام قبول کرلیا تھا اور پھر ظلم کی کالی آندھیوں کا ڈٹ کے سامنا کیا تھا۔ یہ ناول کس نے لکھا تھا یاد نہیں، بعد میں یہ ناول آدھا چوہوں کی خوراک بنا اور باقی آدھے کو مجبوری میں جلانا پڑا۔

دیوی سے پیر کامل تک کا فاصلہ طے کیا۔ پیر کامل نے عمیرہ احمد کے نام سے آشنا کیا اور اس کے ناولوں سے ہوکے گزرے۔ پھر نمرہ احمد زندگی میں آئی۔ نمرہ کے بعد ہاشم ندیم پہ دل آیا۔ رمضان میں نسیم حجازی کو پڑھنا محبوب مشغلہ رہا۔ بعد میں شعور کی نس پھوٹی تو فکری سفر کے مزید راستے دیکھنے کو ملے اور ابھی تک فکری آوارہ گردی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔

یوں بہت سی کتابوں سے ہوکے گزرے لیکن بچپن میں ڈر ڈائجسٹ میں پڑھا اس کہانی کے ٹائٹل کے نیچے لکھے یہ جملے اب بھی یاد ہے کہ اس کہانی کو آپ رات کے وقت یا تنہائی میں ہرگز نہ پڑھیے گا ورنہ نیند آپ سے ہفتوں کے لئے دور ہو جائے گی۔

شاید میں نے وہ کہانی رات کے وقت اپنے بستر میں لائٹر کی روشنی میں اکیلی پڑھی تھی۔ اس وجہ سے مجھے اب بھی نیند نہیں آرہی ہے یا شاید آجکل میں اس کہانی سے بھی ڈراؤنی کہانی نہایت تشویشناک عقیدت سے پڑھ رہا ہوں اور اس کا عنوان زندگی ہے۔

ہاں، زندگی ڈر ڈائجسٹ کی کہانیوں سے بھی ڈراؤنی کہانی ہے۔

Check Also

Basant Ke Mamle Mein

By Javed Chaudhry