Mushahida
مشاہدہ
ڈوبتا سورج اپنی دن بھر کی تھکن ماتھے پر سجائے کسی مہربان بوڑھے آنکھ کی طرح مجھے پیار سے گھور رہا ہے، شاید وہ اپنی زیادتیوں کا مداوا کرنا چاہتا ہے۔ مجھے اس پر پیار آرہا ہے لیکن میں پھر بھی اس سے نظریں ملا نہیں پا رہا ہوں جیسے میں نے پیٹھ پیچھے اس کی بہت برائی کی ہو اور اسے سب پتہ چل گیا ہوں۔
پلیٹ فارم کے سامنے پڑا خالی بینچ کسی آنے والے کی راہ دیکھ دیکھ کے تھک چکا ہے مگر اس آنے والے کو آج دیر ہوگئی ہے یا شاید یہ بینچ انسانوں میں سے خود کو کمپنی دینے کے لئے کسی کا انتخاب کرنے کا سوچ رہی ہے۔ دل نے بے اختیار کہا اس کا انتخاب بن جاؤں لیکن پھر بھی اس کی تنہائی میں مخل ہونے کی گستاخی ہم چاہ کے بھی نہ کرسکے۔ ایسے موقعوں پر گستاخی نہ کرنا اکثر ہمارے ملال کا سبب بنی ہے۔
کچھ مسافر کندھوں پر بیگ لٹکائے ٹرین کا انتظار کررہے ہیں۔ یہ مسافروں کے لئے انتظار ضروری کیوں ہوتا ہے؟ یہ مسافر اتنے خودمختار، آزاد اور طاقتور کیوں نہیں ہوجاتے کہ سب کچھ چھٹکیوں میں ہو جائے اور انتظار کی بوریت سے گزرنا نہ پڑے۔ بوریت سے یاد آیا "یووال نواح ہراری" بوریت کو انسانی معاشرے کے لیے نہایت ضروری سمجھتا ہے شاید وہ انتظار کی بوریت سے واقف نہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے انتظار کی خوبصورتی اور بدصورتی دونوں اس کی بوریت میں چھپی ہوئی ہے۔
ان مسافروں کی طرح میں بھی ایک مسافر ہوں لیکن مجھے جہاں جانا ہے وہاں کوئی ٹرین نہیں جاتی۔ شاید مجھے کہیں بھی نہیں جانا ہے اس لئے میں اب تک کوئی ٹرین پکڑ ہی نہیں سکا۔ لیکن ٹرین پکڑنے سے پہلے میری منزل کہاں ہے، مجھے کہاں جانا ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ضروری ہے؟ یہ کچھ سوال اتنے بھیانک کیوں ہوتے ہیں اور یہ کچھ سوالوں کے جواب اتنے بیہودہ کیوں لگتے ہیں؟ مجھے یہ ماننا ہوگا کہ میری کوئی منزل ہی نہیں اور اس کمزور لمحے میں کوئی ٹرین میرے اوپر چڑھ کے اس سفر ناتمام کو تمام کردیں تو بہتر ہوگا لیکن یہ ٹرین کے نیچے ہڈیاں چٹخنے کی تکلیف کے حوالے سے سوچ کے ہی ٹھنڈے پسینے کیوں چھوٹ جاتے ہیں؟
برگد کا وہ بوڑھا پیڑ جو نصف صدی یا اس سے زیادہ عرصہ میں اپنے سامنے جنم لینے والی، جوان ہونے والی اور دم توڑنے والی ادھوری کہانیوں کا واحد گواہ ہے، وہ بانہیں پھیلائے مجھے بلا رہا ہے۔ وہ سگریٹ کی آخری کش، چائے کی آخری گھونٹ یا تم سے ہونے والی پہلی ملاقات کی طرح مجھے خوبصورت لگ رہا ہے۔ وہ مجھے وہ ساری دکھ بھری کہانیاں سنانا چاہتا ہے جو اس نے دیکھی ہے، سنی ہے یا خود اس کا حصہ رہ چکا ہے لیکن میرے تھراپسٹ نے مجھے اس قسم کی کہانیاں سننے سے سختی سے منع کیا ہے۔
برگد کی اس پیڑ کی گود میں ایک شخص بیٹھا ہوا ہے جس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں اور اس کی انسانی ستر کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن وہ اس سب سے بے نیاز کسی ایسے سے گفتگو کررہا ہے جسے میں دیکھ نہیں پارہا ہوں یا شاید وہ ہم انسانوں سے اکتا کے بوڑھے برگد کو اپنی کہانی سنا رہا ہے۔۔ اسے برباد دیکھ کے عجیب سی تسلی ہوئی اور دل میں برباد ہونے کی خواہش نے انگڑائی لی لیکن میں نے اگلے ہی پل نظریں ہٹا کے موقع پر اس خواہش کا گلہ گھونٹ دیا۔
دور کچھ نوعمر لڑکے جو ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں، لیکن شاید انہیں کسی نے پہلے سے سکھا دیا ہے کہ جوانی گستاخ ہوتی ہے، گستاخیاں پسند کرتی ہے۔ وہ سماجی بندشوں اور روایات کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا کے جوانی کا حق ادا کررہے ہیں۔۔ انہیں دیکھ کے دل نے کہا کہ اپنے اندر کے اندھیرے کو دھوئیں کے ان مرغولوں سے مزید دھندلا کردوں۔ یہ سگریٹ کو دیکھ کے سگریٹ کی طلب کیوں ہونے لگتی ہے؟ کچھ لڑکے کرکٹ کھیل رہے ہیں یہ سوچے بغیر کہ آنے والے وقتوں میں زندگی ان کے ساتھ کرکٹ سے بھی پیچیدہ کھیل کھیلنے والی ہے۔
پٹڑی کے کنارے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کا حسن کچھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھا گئی ہے۔ شاید وہ ایک دوسرے کو اپنے پرانے حسن کے قصے سنا کے فرار ڈھونڈ رہے ہیں۔
ان کے دائیں جانب سو قدم کے فاصلے کے پر درختوں کے بڑے بڑے تنے پڑے ہوئے ہیں جو بالکل کسی ڈائنا سور کی ہڈیوں کی طرح لگ رہے ہیں۔ کاش! ہم بھی ڈائناسور ہوتے تو آج ہر کرب سے آزاد ہوتے۔
میرے ساتھ ساتھ چلنے والا، مجھ سے مل کے مجھے ہر بار گلے لگانے والا وہ لڑکا مجھے آس پاس کی ہر چیز کے حدود اربعہ اور تاریخ بتارہا ہے، میں خاموشی اور توجہ سے اسے سن رہا ہوں۔ ہمارے آس پاس انسانوں کا میلہ لگا ہوا ہے لیکن پھر بھی یہاں ہر کوئی اکیلا ہے۔ بہت جلد ہم بھی کچھ خوبصورت لمحے ساتھ گزار کے تنہائی کو گلے لگا کے انسانوں کے اس میلے میں کھونے والے ہیں۔

