Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Khushiyon Ko Jeene Do

Khushiyon Ko Jeene Do

خوشیوں کو جینے دو

خوشیاں بچوں کی طرح معصوم اور بے اختیار ہوتی ہے۔ خوشی ایک ہلکی پھلکی تبدیلی کا نام ہے جو کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی وقت رونما ہوسکتی ہے۔ یہ کسی بھی چیز سے وابستہ ہوسکتی ہے اور کسی بوڑھی جادوگرنی کی طرح جادوئی قوت سے کوئی بھی روپ دھار سکتی ہے۔

خوشی بے زباں بھی ہوتی ہے اور بولتی بھی ہے۔ یہ خود کو ضائع بھی کرتی ہے اور خود کو ضائع ہونے بھی نہیں دیتی۔ یہ اپنے آپ کو منوا بھی سکتی ہے اور منوا نہیں بھی سکتی۔ یہ لمحوں کو امر بھی کرتی ہے اور بھلا بھی دیتی ہے۔ یہ مہمان بھی ہوتی ہے اور میزبان بھی۔ یہ کسی ایک جگہ ٹھہر بھی سکتی ہے اور اکتا کے اس جگہ سے کوچ بھی کرسکتی ہے۔ یہ وقت کو قید بھی کرسکتی ہے اور اسے اڑنے کے لئے پر بھی دے سکتی ہے۔

خوشی اپنی تمام شکلوں میں کسی نئی نویلی دلہن کی طرح خوبصورت، معصوم اور مقدس ہوتی ہے۔

خوشی کو انسانی سوچ کی طرح سفر کرنا بہت پسند ہے۔ اسے تفریق سے نفرت ہے، یہ انسانوں میں برابری کی قائل ہے اور انسانوں کو رنگ، نسل، ذات اور مذہب سے بالاتر ہوکر جوڑنا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ کسی کبوتر کی طرح کبھی ایک تو کبھی دوسرے یا کبھی کسی تیسرے کی چھت کی منڈیر پر جھانکتی ہوئی پائی جاتی ہے۔

خوشی ہر ذی روح کی طرح آزادی سے محبت کرتی ہے اور اسے پنجروں اور زنجیروں سے سخت نفرت ہے۔

ہم انسانوں پر یہ فرض ہے کہ خوشی کی فطرت کا احترام کرے اور اسے روایات اور مختلف تقدسات کے نام پر زنجیریں نہ پہنائیں بلکہ حقیقت سمجھ کے اسے خود سے لگایا جائے، اسے تسلیم کیا اور جو اس کا حق اور مقام ہے وہ اسے دیا جائے۔ ہمیں خوشی کے موقعوں پر کھل کے خوش ہونا چاہیے جیسے اگر کوئی نئے سال کی آمد پر خوش ہے تو اس کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے اور مختلف حیلے بہانوں کے نام پر اس سے خوش ہونے کا حق چھین نہیں چھیننا چاہئے۔ اسے اس فکر میں ہرگز مبتلا نہ کیجئے کہ وہ کچھ غلط کررہا ہے۔

خوشی کے جذبات انسان کو کچھ نیا، کچھ مختلف، کچھ اچھا اور کچھ بڑا کرنے کا عزم دیتی ہے، یہ کچھ کر دکھانے والی چنگاریوں کو اپنے فطری موت مرنے تک سلگنے دوں۔

موت سے یاد آیا نئے سال کی آمد پر لوگوں کو یہ دکھ کھاتا ہے کہ وہ موت کے زیادہ قریب آگئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ موت کے نام پر خوشی کے احساس پر اپنے اندر کے دروازے بند کردینے کے مترادف ہے۔ خوشیاں ڈر کے ماحول میں روپوش ہو جاتی ہے، موت کے نام پر انسانوں کو خوشیوں سے دور مت کریں۔ مانا کہ موت فطری انجام ہے لیکن اسے سر پہ نہ چڑھائیے کیوں کہ موت سے پہلے زندگی بھی تو اٹل حقیقت ہے اور اس خوبصورت حقیقت کو خوبصورتی سے جینا اور اپنے جیسے انسانوں کے لئے اسے خوبصورت بنانا ہمارا فرض ہے۔

زندگی خوشی کی طرح ایک خوبصورت احساس ہی تو ہے جسے محسوس کرنا اس کے بنیادی حقوق میں سے ہے۔ یہ ایک موقع ہے جو بس اک بار ملا ہے، کیوں نا ہم خود بھی جئے، دوسروں کے لئے بھی جینا آسان کریں اور خوشیوں کو بھی جینے دیں۔

Check Also

Aankhne Nahi Rahi Ke Tamasha Nahi Raha

By Syed Mehdi Bukhari