Identity Crisis
آئیڈنٹٹی کرایسس
اس کی محبوبہ مسلمان تھی اور وہ کرسچن تھا۔ وہ محبت کو ہر چیز سے بالاتر سمجھتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ محبت رنگ، نسل، عقیدے اور مذہب کی قید سے ماورا کوئی مقدس احساس ہے جو محبوب کی خوشنودی کے علاؤہ کسی بھی چیز کی تقدس کو نہیں مانتی۔
وہ محبت کو اپنی ذات میں مکمل سمجھتا تھا اور ملن کا قائل بھی نہ تھا لیکن محبوب ملن کا قائل ہو جائے تو ہر مکمل احساس ادھورا لگنے لگتا ہے۔ ملن کی بات اس شرط پہ طے ہوئی کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کا مذہب چھوڑ کے مسلمان ہو جائے۔
وہ مسلمان ہونے کے لئے راضی ہوا۔ کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہوگیا لیکن مسلمان ہوتے ہی اسے یہ طعنہ دے کے چھوڑ دیا گیا کہ جو اپنے مذہب، اپنے خدا، اپنے عقیدے سے وفا نہ کرسکا وہ کل کو میرے ساتھ بھی بے وفائی کرسکتا ہے۔
تب سے وہ اس کشمکش میں ہے کہ وہ مسلمان ہے، عیسائی ہے، مرتد ہے، بے وفا ہے، عاشق ہے یا پھر کون ہے وہ؟ مذہب مقدس ہے یا محبت؟ محبت کے لئے مذہب چھوڑنا برا ہے یا مذہب کے لئے محبت چھوڑنا بدتر ہے؟
اب تو اسے لگنے لگا ہے محبوب کو بیچ راستے میں چھوڑ کے محبت کو روند کے جانے والا مذہب چھوڑنے والے سے بڑا گناہ گار اور مجرم ہوتا ہے۔ لیکن مجرم اور گناہ گار محبوب ہو اور اسے تمام خطائیں معاف نہ ہو تو وہ محبوب کیسا، وہ محبت کیسی!
اسے کسی سے بھی گلہ نہیں بس آجکل وہ identity crisis کا شکار ہے۔

