Friday, 23 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Hospital Aur Manfi Khayalat

Hospital Aur Manfi Khayalat

ہسپتال اور منفی خیالات

ہسپتال ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں وقت گھونگھے کی دم پہ سوار ہو جاتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد انسان کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آبادی کا مسئلہ واقعی میں توجہ طلب ہے۔ یہ زیادہ آبادی ہی تو ہے جس کی وجہ سے انسانوں کی بھیڑ سے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ لیکن خیر، اس بھیڑ کا حصہ تو ہم سب بھی ہے۔ ہم سب اس بھیڑ کا حصہ کیسے بنے؟

ہم سب میں سے جو بھی والدین کی پہلی اولاد ہے ان میں سے زیادہ تر کو وجود محض اس لئے بخشا گیا کہ ان کی والدین کی جنسی صحت ثابت ہو جائے۔ پہلی اولاد "لوگ کیا کہیں گے" والی زہر آلود تیروں سے بچنے کے لیے ڈھال ہی تو ہوتی ہے۔ باقی دوسرے اور تیسرے یا اس سے آگے تب ہی سوچا جاتا ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے سے اکتا جائے تب وہ کسی ایسے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ جس سے وہ دونوں خود کو ریلیٹ کرسکے۔ کبھی کبھی تو ڈیوڈ بانٹر پر رشک آتا ہے جس نے کھل کے افزائش نسل کے اس پورے جھنجھٹ کے خلاف پوری فکری عمارت کھڑی کردی ہے۔

شاید میرا تھراپسٹ ٹھیک ہی کہتا ہے کہ مجھے پہلے اپنے اور پھر دوسروں کے منفی خیالات کو چیلنج کرنا پڑے گا۔ منفی خیالات سے منفی انرجی خارج ہوتی ہے اور انسان پورا کا پورا ڈیوڈ بانٹر کی طرح منفی ہو جاتا ہے لیکن اس کی باتیں کبھی کبھی اتنی دل کش کیوں لگتی ہے؟ یہ منفی اور مختلف خیالات پڑھنے سے، اسے لکھنے سے، اسے دوسروں کو سنانے اور اس کی تبلیغ کرنے سے عجیب سا سکون کیوں ملتا ہے اور اسے خود چیلنج کرنے سے عجیب سی بے سکونی کیوں ہوتی ہے؟ ہاں۔۔ میرا تھراپسٹ یہ بھی کہتا ہے کہ سکون میں بے سکونی ہے اور بے سکونی کی انتہا میں ہی سکون ہے۔

بات ہسپتال اور آبادی سے کہاں نکل گئی۔ یہ باتیں کہاں سے کہاں کیوں اور کیسے نکل جاتی ہے؟ جون ایلیاء کو بھی یہ باتوں کا گلی سے نکل کے گلی گلی پہنچنا حیرت میں مبتلا کرتا تھا۔

چلو ہسپتال واپس چلتے ہیں جہاں کوئی اپنے مریض کے خاطر اپنے بڑھاپے کی لاج نہیں رکھ رہا ہے تو کوئی اپنی جوانی اور حسن کو خاطر میں نہیں لارہا ہے۔ کوئی خود کی الجھنوں سے بے پرواہ ہے تو کوئی اپنے بیماری سے غافل ہوکے دوسرے کے تیمارداری میں مصروف رہتا ہے۔ کچھ لوگ تو حد ہی کر جاتے ہیں یعنی لاٹھی اور چھڑی کے سہارے چل کے اپنے مریض کی بقاء کی جنگ میں اس کا ساتھ دینے کے لئے چلے آتے ہیں۔

عورتوں کو تو چھوڑو وہ تو ہسپتال میں پدر شاہی سماج کے طے کردہ قوانین کا قتل عام کرتے پھرتے ہیں۔ کوئی نرس بنی ہوئی ہے تو کوئی ڈاکٹر اور کوئی ٹیکے لگاتی ہے۔ غرض ہر عورت اس مخصوص دائرے سے نکل کر کچھ خاص کرتی پھر رہی ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات جس نے مجھے متاثر کیا، وہ عورت کے روزمرہ کا معمول یا ذمہ داری ہی سہی لیکن ایک عورت ماتھے پہ شکن لئے لوگوں کی بھیڑ سے بے پرواہ راستے میں بیٹھی اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اس کو دیکھ کے ذہن میں کچھ مثبت تو کچھ منفی خیالات بھی آئے اور مجھے ان دونوں کا مستقبل بعید ستانے لگا میں سوچ رہا تھا کہ اگر کل کو یہ بچہ بڑا ہوکے اس عورت سے یہ کہے کہ تم نے میرے لئے کیا ہی کیا ہے تو یہ عورت اس سے کیا کہی گی۔

میں یہیں سوچ رہا تھا کہ دور ایک آدمی پہ نظر پڑی جو کسی کو گود میں لئے پھولے سانس کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھارہا تھا نزدیک آنے پہ دیکھا تو اس کی گود میں ایک بوڑھی عورت تھی جو یقیناً اس کی ماں ہی تھی۔ اسے دیکھنے کے بعد سب کچھ اک کھلی کتاب کی طرح مجھ پہ واضح ہوگیا اور میں نے خود کو ٹوک کے خود سے کہا مثبت سوچا کروں یار تم بھی نا کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہوں۔

Check Also

LY-80 Missile Ka Kamyab Tajurba, Pak Behria Ka Karnama

By Shahid Nasim Chaudhry