Catharsis
کیتھارسز
ایک عجیب سی بے چینی ہے اور اس کی وجہ معلوم نہیں۔ یہ بے چینی بلا وجہ کیوں ہوتی ہے؟ شاید یہ بلا وجہ نہیں! کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہے لیکن وہ رات کی تاریکی میں تاریکی سے کہیں لپٹ چکی ہے اور میں اس کو ڈھونڈ نہیں پا رہا ہوں۔ میں اسے ڈھونڈ کیوں رہا ہوں؟ یہ ڈھونڈنا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے؟ یہ ڈھونڈنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ چیزیں یونہی آسانی سے کیوں نہیں ملتی، ہر چیز کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا ضروری کیوں ہے؟
ٹھوکروں سے یاد آیا دیوار پر میرے دائیں جانب منصور حلاج کی طرح لٹکتی گھڑیال کی سیکنڈ والی سوئی وقت کے چٹان کو Sissyphus کی طرح دھکا دے رہی ہے اور وقت رات کو دل میں بدلنے کی کوشش میں ٹھوکریں کھارہا ہے۔ شاید میں چٹان ہو اور وقت Sissyphus ہے یا شاید ہمارا معاملہ الٹ ہی ٹھیک لگتا ہے۔
گھڑیال کی یہ سوئی چیختی کیوں ہے؟ شاید، اس کے کندھوں پر وقت کا بھوت سوار ہے اور وہ چیخوں کی صورت میں اپنا سٹریس کم کررہی ہے! لیکن مجھے اس کا یہ شور اتنا برا کیوں لگ رہا ہے جیسے کوئی سوئی کی حرکت سے پیدا ہونے آواز کے ساتھ میرے روح کو سوئیوں سے چھیر رہا ہوں اور ایک منٹ میں ساٹھ سوئیاں، ساتھ منٹ میں چھتیس سو سوئیاں میری روح کے آرپار اتر رہی ہوں۔ یہ چھتیس سو سوئیوں سے آگے میری سوچ کیوں نہیں جاتی؟ میں حساب میں کمزور ہو اور فیل ہوا تھا تبھی تو مجھے گولڈ میڈل نہیں ملا تھا۔ لیکن مجھے اس بات کا دکھ ہرگز نہیں بلکہ اس بات کا دکھ ہے کہ جب کسی آنے والے زمانے میں مایوس رہنے پر گولڈ میڈل ملنے لگے گیں گے تو تب میں سب سے زیادہ گولڈ میڈل جیت جاؤں گا۔
کبھی کبھی تو لگتا ہے یہ ساری سوچ ہی لاحاصل اور بے معنی ہے، کسی بھی چیز کی کوئی افادیت نہیں، ہم یونہی پڑھ کے، لکھ کے، حاصل کرکے اپنی جوانیوں کو سقراط کی طرح زہر پلا دیتے ہیں لیکن امر نہیں کر پاتے۔
کبھی کبھی اس سوچ کے خلاف ذہن کے کسی گوشے میں یہ تحریک اٹھتی ہے کہ جوانیاں برباد ہونے کے لئے ہی تو ہوتی ہے، جوانی گمراہ، بھٹکی ہوئی اور آوارہ گرد ہوتی ہے۔ جوانی شوخی اور گستاخیاں پسند کرتی ہے۔ حاصل ویسے تو موت ہوتی ہے لیکن یہ جوانی کے لئے آب حیات ہے۔ شاید جوانی بھی پوسٹ ماڈرنسٹ ہوتی ہے اور صحیح اور غلط کے ہر معیار کو جوتے کی نوک پہ رکھتی ہے۔
جوانی میں آوارہ گردی تو ٹھیک ہے لیکن فکری آوارہ گردی کا کیا جائے ہے؟ فکری آوارہ گرد تو ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں اور سفر میں رہنے والے کہیں کے بھی نہیں رہتے۔ سفر کی کسی نہ کسی موڑ پر اکتاہٹ فطری بات ہے لیکن یوں پر موڑ پر اکتاہٹ انہونی سی لگتی ہے۔ یہ سفر بھی عجیب سی تلاش کا نام ہے۔ خود کی تلاش، خدا کی تلاش، خوشی کی تلاش اور خودی کی تلاش! اسی طرح کسی کو سکون کی تلاش ہے تو کوئی یار ڈھونڈ رہا ہے، کوئی قرار ڈھونڈ رہا ہے اور کوئی فرار ڈھونڈ رہا ہے۔
کس کو کیا ملتا ہے مجھے نہیں پتہ اور نہ مجھے کسی سے کچھ مطلب ہے۔ مجھے تو بس اپنی کیتھارسز سے مطلب تھی اور فی الحال مجھے لگ رہا ہے کہ میری کیتھارسز ہوگئی ہے۔ ہاں، میں اب پرسکون ہوں۔

