Artist
آرٹسٹ
اس کا کھلا منہ آسمان کی طرف ہے، شاید اپنی شہ رگ ٹٹولنے پر اسے اپنے اندر خدا نہیں ملا اسے لئے وہ آسمانوں کے پار بیٹھے خدا کو للکار کے اس سے اس کے موجود ہونے کی دلیل مانگ رہی ہے۔ اس کے ہاتھ اس کے بکھرے ہوئے لمبے بالوں کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں۔ شاید وہ اپنے بال نوچ رہی ہے یا انہیں اکھاڑنا چاہتی ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس بات کا غصہ اپنے خوبصورت بالوں پر نکالنا چاہتی ہے۔
اس کا کھلا ہوا منہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مسلسل دھاڑ رہی، چیخ رہی ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس کی آواز نہیں سن سکتا۔ شاید کچھ چیخیں بے آواز ہوتی ہے۔ شاید تم نے اس کی چیخوں کو قید کیا ہوا ہے۔ اس کی آنکھیں نہیں ہے بلکہ آنکھوں کی جگہ دو گہرے تاریک گڑھے ہیں جیسے کسی مرنے والے کے انتظار میں کسی نے دو قبریں پہلے سے کھود دی ہوں یا کسی زمانے میں آسمان سے کچھ شہاب ثاقب ٹوٹ کے ان آنکھوں میں گرے ہیں۔
وہ اپنی چیخیں زمان و مکان کے ہر چیز کو سنانا چاہتی ہے، اس کا دل کرتا ہے کہ آسمانوں کے اس پار ڈر کا ماحول بن جائے اور عرش معلی تھرتھرا اٹھے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ آنے والے زلزلوں اور طوفانوں کے اوسان خطا ہو جائے، درندے چھیر پھاڑنا بھول جائے، کراما کاتبین کے قلم اس کی چیخوں کی شدت سے ٹوٹ جائے اور فرشتے خدا سے یہ پوچھ بیٹھے کہ کیا قیامت برپا ہوگئی ہے؟
اپنے آرٹ پر اس کا تبصرہ سن کے میری آنکھیں پھیل گئی۔ میں نے اس کے ایک ایک لفظ کو محسوس کیا اور اس سے پوچھا، کیا میری یہ آدھا ادھورا آرٹ اتنا خوبصورت ہے؟ کیا اس میں واقعی اتنا کرب چھپا ہوا ہے یا تم اپنے اندر کا غبار نکال رہی ہوں؟ تم کسی ایک چیز سے شروع کرتی ہوں اور پھر باتوں باتوں میں زمان و مکان کی وسعتوں تک چلی جاتی ہوں، تم اپنی باتوں میں یہ پوری کائنات کا دکھ کیوں سمیٹتی ہوں؟
وہ کہنے لگی ہر آرٹ اپنے ذات میں ادھورا بھی ہوتا ہے اور پورا بھی۔ آرٹ کی تکمیل اس کی موت ہوتی ہے۔ ہر آرٹسٹ کو لگتا ہے وہ اپنی اس آرٹ سے بھی بہتر آرٹ تخلیق کر سکتا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں تمہارے خدا کو کیا سوجھی کہ ہم انسان اس کی سب سے بہترین تخلیق ٹھہرے۔ خدا کے آرٹ کی تکمیل اگر نہ ہوتی تو نہ جانے ہمیں کیا کیا شاہکار دیکھنے کو ملتے (بے اختیار اس کی آنکھوں میں دیکھ کے میرے دل نے کہا تم جیسے خوبصورت اور ذہین انسان کو تخلیق کرنے کے بعد واقعی اس کی آرٹ مکمل ہوگیا ہے)۔
میں اپنے دل کا غبار نکالتی ہوں لیکن میرا غم آفاقی، لامحدود اور زمان و مکان کی وسعتوں پر محیط ہے۔ ہر شعوری انسان کا غم لامحدود ہوتا ہے اور یہ غم سمٹنے کے بجائے خلا کی طرح مزید پھیلتا جاتا ہے! جن کی روحیں بھٹک رہی ہوں وہ اس دریا کے مانند ہے جو چٹانوں پر اپنا سر مارتے ہیں، شور مچاتے ہیں لیکن ان کی مقدر کا سمندر انہیں نہیں ملتا۔
تم اپنے ادھورے آپ کو قبول کرلوں جس طرح تم نے میرے ادھورے آرٹ کو قبول کرکے اسے سراہا۔ کاش! تم مجھے اپنی طرح آرٹ بنانا بھی سکھا دوں لیکن تم نہیں چاہتی کہ میں تم سے اچھا آرٹسٹ بن جاؤں، تم مجھ سے جلتی ہوں، جلن عورت کی فطرت جو ٹھہری، میں نے اسے چھیڑ کر کہا۔
وہ تڑپ اٹھی اور ایسی تڑپی کہ میں بھی تڑپ اٹھا، وہ شدت سے لفظوں پر زور دے کر کہنے لگی۔ خدا کرے تم دنیا کے سب سے بڑے آرٹسٹ بن جاؤں، کل کو جب ہم ساتھ نہیں رہے گیں اور ملاقاتیں ممکن نہیں ہوگی تو کم از کم میرے ساتھ تم سے ملنے کا یہ بہانہ تو رہے گا کہ میں اس آرٹسٹ سے مل کے اس سے کچھ سیکھنا چاہتی ہوں۔ رہی بات ادھورے آپ کو قبول کرنے کی تو کیا تم نے اب تک یہ بات قبول کرلی ہے کہ ہمارا ساتھ ادھورا رہے گا؟
وہ چپ ہوئی تو میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا، اس کے چہرے پر کرب کی شدت نمایاں تھی اور میں اس کے الفاظ کی گہرائی میں آنے والے دکھ کے طوفان کی آمد کو بھانپ گیا۔ میں چپ چاپ اسے دیکھتا رہ گیا اور چاہ کے بھی اسے جواب نہ دے سکا۔ شاید! کچھ سوالوں کا جواب بہترین خاموشی ہوتی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ بے بسی کے نہ جانے کتنے روپ ہوتے ہیں لیکن ہر بار اس لڑکی کی باتیں سن کے میں بے بسی کا کوئی نہ کوئی روپ دھار لیتا ہوں۔

