Aansu Aur Insan
آنسو اور انسان
مجھے آنسوؤں سے نفرت ہے کیوں کہ یہ انسان کے منہ پر تھوک کے اس سے کہتے ہیں کہ تم کتنے بے بس ہو، دیکھو اپنے اندر کا غبار دھونے کے لئے میرا سہارا لے رہے ہو۔ ہاں مجھے آنسوؤں سے شدید نفرت ہے پھر چاہے وہ خوشی کے ہوں یا دکھ کے ہوں، میرے خود کے ہوں یا کسی اور کے ہوں۔ البتہ میں آنسوؤں کی قدر کرتا ہوں، یہ سننے میں عجیب سہی لیکن آنسو گرانے کے بعد اکثر ہمارے اندر کا موسم تھوڑا بہت بدل جاتا ہے۔ ہمارے آنسو ہمارے اندر کی کیفیت کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ آنسو بہانے کے بعد اکثر امید کی ٹھندی ہوائیں چلنی لگتی ہے لیکن یہ سب کچھ اکثر عارضی ہوتا ہے۔
کوئی میرے سامنے روئے تو میں اسے چپ کرانے کی کوشش بالکل بھی نہیں کرتا، میرا دل کرتا ہے انسان جب روئے تو اتنا روئے کہ اس کی ہچکیاں بندھ جائیں یا دھاڑیں مار کے اتنا چیخ کے روئے کہ ہر ذی روح کی سننے کی صلاحیت ختم کر ڈالے۔ جیسے میرے چیخنے چلانے سے کفن جیسے سفید رنگ والے میرے کمرے کی دیواروں کی سننے صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔ اگر ایسا مجبوری میں ممکن نہ ہو تو انسان اتنا روئے کہ اس کی آنکھیں خود بخود خشک ہو جائے یا ان سے خون رواں ہو جائے۔ یہ آنکھوں سے خون رواں ہونے والی اصطلاح نہ جانے کس کی دریافت ہے لیکن کافی رومانٹک لگتی ہے۔ یہ رومانس ویسے ممکن نہیں لیکن چپ چاپ رویا جاسکتا ہے، یہ چپ چاپ آنسو بہانا مجھے رونے کی سب سے ذلیل اور بدترین شکل کیوں لگتی ہے؟ شاید یہ انسانوں پر کیا جانے والا بدترین سماجی جبر ہے اور جبر اپنی تمام شکلوں میں قابل نفرت ہوتا ہے۔
جب انسان روئے تو اسے رونے دوں۔ اس سے کہوں کھل کے آنسو بہاؤ، بھلا گھٹ گھٹ کے آنسو بہانے سے بھی کچھ ہوتا ہے؟
مجھے لگتا ہے رونا ہماری بچپن کی عادت ہے اور یہ واحد عادت ہوتی ہے جو مرتے دم تک ساتھ رہتی ہے۔ بچپن میں بھی جب ہم روتے تھے اور کوئی تسلی دے کے خود سے لگاتا تھا تو ہم کتنے جلدی چپ ہو جاتے تھے۔ خود سے لگانے سے یاد آیا میرا دوست اپنے باپ کی وفات پر بچوں کی طرح رو رہا تھا اور اسے خود سے لگانے سے بھی اس کی تسلی نہیں ہورہی تھی۔ یہ کچھ غم گلے لگانے سے بھی کم کیوں نہیں ہوتے؟ شاید باپ وہ واحد ہستی ہوتی ہے جس کے ہوتے ہوئے انسانوں اور خدا کی بھی ضرورت نہیں رہتی، باپ نہ رہے تو انسان خدا اور انسانوں کا محتاج ہوکے رہ جاتا ہے۔
روتے وقت ہم بچے بن جاتے ہیں اور بچوں کو اپنی ذات اور شناخت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن بچوں کو چپ کرانا، انہیں خود سے لگانا، ان کا غم بانٹنا اور انہیں خوش کرنا ہر انسان پر فرض ہے۔
روتے ہوئے انسان کے پاس بیٹھے شخص کو چاہئے کہ چاپ سامنے والے بندے کی مایوسی، گھٹن، بے بسی، غصے اور تمام منفی جذبات و خیالات کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرے۔ نفسیات کی زبان میں اس عمل کو سگمنڈ فرائڈ نے transferance کا نام دیا ہے۔ جب اس کے آنسو تھم جائیں اور وہ بولنا چاہے تو اسے بولنے دوں، اسے کھل کے سنو، سننے والوں کی کمی بھی خودکشی کے وجوہات میں سے ایک ہیں۔ اسے سننے کے بعد کچھ بھی مت کہوں، ایسی صورتحال میں دنیا کے تمام دلائل بے معنی ہو جاتے ہیں۔ روتے ہوئے انسان کو اپنا غم دنیا کے ہر غم سے بڑا لگتا ہے۔ بس اس انسان کو زور سے گلے لگاؤں، تسلی کے ہزار الفاظ بولنے سے بہتر یہ ہے کہ کسی انسان کو گلے لگایا جائے کیوں کہ گلے لگانے سے بڑی تسلی انسانوں نے اب تک دریافت ہی نہیں کی ہے۔ گلے لگانے کا دورانیہ جتنا طویل ہوگا اتنا یہ کارگر ہوگا۔
انسانوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے، خود کی ذات سے نکل کے ان کی ذات کی گتھیاں سلجھائیں کیوں کہ اس سے بہتر انسان کوئی نہیں جو کسی کی زندگی آسان بنائے اور کسی کا سہارا بنے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، کیا آپ کسی کا درد محسوس کرکے اپنے سینے میں جذب کر سکتے ہیں؟ اگر آپ کرسکتے ہیں تو مبارک ہوں آپ بہت خاص ہیں!
باقی آنسوؤں اور انسانوں کی کہانی تاقیامت جاری رہے گی۔

