Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Aaliyah

Aaliyah

عالیہ

عمران ہاشمی کی فلم "آوارہ پن" کا گانا "تو پھر آؤں" مصطفی زاہد کی آواز میں روح کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی جنوری کی کی طویل ٹھنڈی رات کی خاموشی قائم ہے۔ لیٹے لیٹے اکتا کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ ہٹا کے دیکھا تو چاند کو خاموش، اداس اور ہمیشہ کی طرح تنہا پایا۔ شاید اس تنہائی کی ماری بیچاری چاند کو بھی ہماری طرح نیند نہیں آتی اور وہ اس کے لئے ترس رہی ہے۔

یہ نیند اتنی ضروری کیوں ہوتی ہے؟ شاید، اگلے دن کی لڑائی لڑنے کے لئے پچھلے دن کا تھکن اتارنا ضروری ہوتا ہے، اس لئے نیند مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی۔ لیکن ہم تو اکثر تھکن پر تھکن اوڑھتے جاتے ہیں اور پھر کسی روز پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے سو کے ساری قضا نیند ایک ساتھ پوری کرلیتے ہیں۔

لیکن قضا نماز کی طرح کیا قضا نیند بھی ادا ہو جاتی ہے؟

سوکر اٹھنے کے بعد جسم اکثر دکھنے لگتا ہے اور مزید تھکن کا احساس ہوتا ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ میری قضا نیند ادا نہیں ہوئی۔۔ ہاں نماز کا خدا ہی جانے! لیکن خدا تو سب پہلے سے جانتا ہے، تو ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ خدا ہی جانے؟ جاننے والا اور کیا کیا جانے؟ یہ جاننا بھی عجیب ہے جو سب کچھ جانتا ہے اسے پرواہ ہی نہیں اور جو تھوڑا بہت جان لیتا ہے وہ برداشت ہی نہیں کر پاتا۔ انسانوں کا جاننا، ان کی آگہی کچھ پل کے سرور کے بعد عذاب بن جاتی ہے اور مختلف سوالات انسان کے ذہن میں پنپنے لگتے ہیں۔

ہمارا تو جاننا بھی عذاب ہے۔ جاگنا بھی عذاب ہے اور سونا بھی عذاب ہے۔ آجکل تو نیند میں بھی خود کو بیزار، اداس اور تھکا ہوا پاتے ہیں جیسے بیزاری اور اداسی اب چوبیس گھنٹوں پر محیط ہوچکی ہو۔

اداسی سے یاد آیا یہ لوگوں کو اپنی جان لینے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکں اداسی زندگی کا حصہ ہے زندگی نہیں! ہم کیوں اسے اس کا حصہ دینے کی بجائے پوری زندگی ہی دے دیتے ہیں؟ جبکہ یہ صرف اپنا مانگتی ہے۔ اداسی کے سبب مرنے والوں کے غم میں بہت سارے غمگین ہوتے ہیں لیکن سچ پوچھئے تو ہمیں اداسی کے سبب مرنے والوں کا دکھ بالکل بھی نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ نجات پالیتے ہیں۔ البتہ پیچھے زندہ رہ جانے والوں کا دکھ ہم روح کی گہرائیوں سے محسوس کرتے ہیں۔

ایک تو یہ مصطفی زاہد کے گائے ہوئے لائنوں کے بیچ عمران ہاشمی کی "عالیہ، عالیہ، عالیہ" کی پکار کانوں کو بہت بری لگتی ہے۔ شاید وہ دھاڑیں مار کے اپنی "عالیہ" کو پکار رہا ہے۔ یہ دھاڑے مارنا شاید رونے کی انتہا ہوتی ہے۔ یوں تو مجھے آنسوؤں سے سخت نفرت ہے لیکن دھاریں مار کے رونے والے پر پیار آتا ہے۔ یہ رونے کی واحد شکل ہے جو بے حد رومانٹک لگتی ہے۔ اس کمبخت عمران ہاشمی پر رشک آتا ہے کہ مرد ہوکے رو رہا ہے اور چیخ چیخ کر اپنی محبوبہ کو پکار رہا ہے۔ کیا خوب catharsis ہوئی ہوگی اس کی!

عمران ہاشمی چیخ کے کیتھارسز کررہا ہے، میں لکھ کے دل ہلکا کررہا ہوں لیکن تم نے تو اپنے اندر ہی اندر میرا گلہ گھونٹ دیا ہے۔۔ تم کیا کرتی ہو؟ تمہاری وجہ سے مجھے اکثر سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جیسے حلق میں کچھ پھنس گیا ہوں۔ شاید تمہاری جدائی اور وجودی کرب کے بیچ پھنس چکا ہوں۔ یہ سانس لینے میں دشواری سگریٹ کی وجہ سے ہرگز نہیں ہے کیوں کہ سگریٹ کب کا چھوڑ چکا ہوں۔ کبھی کبھی لگتا ہے تمہارے چھوڑ جانے کے بعد مجھے سگریٹ کا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ دھوئیں میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے لیکن جب زندگی ہی دھواں دھواں ہوں پھر کیا کیا جائے؟

گانے کی خوبصورت لائنز تو میں لکھنا ہی بھول گیا۔ آجکل سب کچھ بھولتا جارہا ہوں، خصوصاً جن چیزوں سے دور رہوں انہیں میں جلد بھول جاتا ہوں جیسے ہفتہ پہلے مدتوں بعد اک جنازہ میں شریک ہوا تو بیچ میں جنازہ کی نیت ہی بھول گیا، تیسری بار دہرانے پر بھی یاد نہ آیا تو لمبی سانس لے کر مولوی کے اللہ اکبر کہنے پر ہاتھ اٹھائے اور آخر تک ایک لفظ کہے بغیر چپ رہا۔ گھر آکے کلمے دھرائے تو استغفار اور رد کفر والے کلمے بھی بھول گیا تھا۔ ماتھے پر شکن ابھرے تو اندر سے آواز آئی کہ سکول میں پانچویں جماعت کے بعد کبھی کلمے دہرائے ہی نہیں۔ خود کو تسلی دی کہ ڈاکٹر اسرار کے بہ قول کلمہ تو بس ایک ہی ہے یہ باقی یہ تو دیو بندیوں کی ایجاد ہے، لیکن پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو مجبوراً نئے سرے سے دوبارہ کلمے یاد کئے، آیت الکرسی دھرائی اور معنی و مفہوم بھی ڈھونڈ نکالا۔ معنی و مفہوم ڈھونڈ نکالنے کے بعد لگا انسان چاہے تو زندگی کے علاؤہ ہر چیز کی معنی بہ خوبی نکال سکتا ہے بس یہ زندگی کی معنی ڈھونڈ نکالنا اس کی بس کی بات نہیں یا شاید میرے جیسے انسانوں کی بس کی بات نہیں۔ باقی کوئی اتنا مشکل بھی نہیں!

عمران ہاشمی بدستور عالیہ کو پکار کے دھاڑیں مار رہا ہے۔

Check Also

Iran, Navishta e Deewar Aur Islahat Mein Takheer Ki Qeemat (1)

By Saad Makki Shah