Saturday, 10 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Zafar Iqbal
  4. Helmet Aur Ghair Muhazzab Rawaiya

Helmet Aur Ghair Muhazzab Rawaiya

ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ

کسی بھی مہذب معاشرے اور مہذب قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریاستی قوانین پر عمل درآمد کریں اور ریاست کا بھی فرض ہے وہ اپنی عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے۔

آئیں آج ہم ہیلمٹ اور ٹریفک قوانین پر تفصیلی بحث کرتے ہیں ہم روزانہ سوشل میڈیا پر ہیلمٹ اور جرمانوں کی ذکر سنتے ہیں اور کچھ تو دکھ بھری کہانی ہوتی ہیں آئیں ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔

پنجاب میں جب سے محترمہ وزیرِ اعلیٰ نے ٹریفک قوانین پر سختی اور ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے، تب سے سڑکوں پر ایک عجیب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر چوک، ہر ناکے پر ٹریفک اہلکار، ہر موٹر سائیکل سوار مشکوک اور ہر شہری خوف میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ روزانہ مقامی اور سوشل میڈیا پر بھاری جرمانوں، موٹر سائیکلوں کی بندش، گرفتاریوں اور مبینہ رشوت کی داستانیں گردش کر رہی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اچانک پورا صوبہ ہی قانون شکن قرار دے دیا گیا ہو۔

یہ بات طے ہے کہ ہیلمٹ پہننا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟

کیا قانون کا مقصد اصلاح ہے یا خوف؟

کیا ریاست شہری کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے یا صرف جرمانوں کے ذریعے آمدن بڑھانا؟

پاکستان موٹر وہیکل آرڈیننس اور پنجاب موٹر وہیکل رولز کے تحت موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے اور خلاف ورزی پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی قانون یہ بھی سکھاتا ہے کہ نفاذ مرحلہ وار، شفاف اور عوام دوست ہونا چاہیے۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں قانون اچانک لاگو نہیں کیا جاتا بلکہ پہلے آگاہی دی جاتی ہے، تشہیری مہم چلائی جاتی ہے، ڈیڈ لائن دی جاتی ہے اور اس کے بعد سختی کی جاتی ہے۔

ہم نے حالیہ برسوں میں دیکھا کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو متعدد بار اعلانات، مہلت اور واضح ڈیڈ لائن دی گئی۔ حکومتی سطح پر میڈیا مہم چلی، پھر جا کر عمل درآمد ہوا۔ اگر پنجاب حکومت واقعی ٹریفک نظام میں انقلاب لانا چاہتی ہے تو یہی طریقہ یہاں کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ کیوں عوام کو پہلے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ فلاں تاریخ تک ہیلمٹ، نمبر پلیٹ اور کاغذات مکمل کر لیں، اس کے بعد سخت کارروائی ہوگی؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ قصور ہمیشہ عوام کا ہی ٹھہرا دیا جاتا ہے، جبکہ ریاستی نظام کی خامیوں پر کوئی بات نہیں کرتا۔ آج بھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹریشن، ٹرانسفر اور نمبر پلیٹ کے معاملات غیر شفاف ہیں۔ جعلی اور فینسی نمبر پلیٹس کھلے عام استعمال ہو رہی ہیں۔ کالے شیشے، فلیشر لائٹس اور پولیس کلچر عام ہے۔ نان کسٹم گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ ٹریفک سگنلز یا تو خراب ہیں یا موجود ہی نہیں۔ اسپیڈ بریکر سائنسی اصولوں کے بغیر بنے ہیں۔ اسکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے سامنے سائن بورڈز کا فقدان ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان سب پر عمل درآمد کون کروائے گا؟

یا قانون صرف غریب موٹر سائیکل سوار کے ہیلمٹ تک محدود ہے؟

ایک ذاتی تجربہ اس پورے نظام کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک شہری کو روکا گیا۔ سوال ہوا: ہیلمٹ ہے؟ جواب: جی ہے۔ نمبر پلیٹ؟ جی ہے۔ لائسنس؟ جی ہے۔ پھر کہا گیا کہ موٹر سائیکل پر تین افراد کیوں بیٹھے ہو؟ موٹر سائیکل بند، ایف آئی آر کی دھمکی، رات حوالات میں گزارنے کا خوف۔ جان چھڑانے کے لیے پندرہ ہزار روپے طلب کیے گئے۔ اگلے دن سپرداری، پھر تھانے کے منشی کی "خدمت"۔ آخرکار موٹر سائیکل ملی۔ اب بتائیے، یہ قانون تھا یا کھلی لوٹ مار؟

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاؤ کا حق دیتا ہے اور آرٹیکل 25 مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر قانون صرف کمزور پر لاگو ہو اور طاقتور آزاد گھومے تو یہ انصاف نہیں، مذاق ہے۔ اگر حکومت بھاری جرمانے عائد کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی سفری سہولیات بھی فراہم کرے۔ بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، واضح سائن بورڈز، درست سگنل سسٹم اور شفاف ایکسائز نظام کے بغیر سختی محض ظلم بن جاتی ہے۔

یہ کیسا انصاف ہے کہ کالے شیشوں والی گاڑیاں، جعلی نمبر پلیٹس اور نان کسٹم گاڑیاں نظر انداز ہو جائیں، مگر ایک عام شہری صرف ہیلمٹ نہ پہننے پر کچلا جائے؟ کیا ہیلمٹ پہن کر منشیات فروش بن جانا قابلِ قبول ہے؟ کیا قانون صرف ایک شق پر ہی ختم ہو جاتا ہے؟

ہیلمٹ واقعی زندگی بچاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی زندگی کا حصہ ہے۔ آج کے حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہیلمٹ سے زیادہ ضروری چیز جیب میں بھاری رقم ہونا ہے، تاکہ ٹریفک اہلکاروں کو دے کر جان چھڑائی جا سکے۔

قانون کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، خوف پھیلانا نہیں۔ اگر نیت واقعی صاف ہے تو پہلے نظام درست کیا جائے، پھر مرحلہ وار قانون نافذ کیا جائے اور آخر میں جرمانے کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ گواہ ہے کہ زبردستی سے نظام قائم نہیں ہوتا، صرف نفرت جنم لیتی ہے۔ مگر کب تک؟

Check Also

Difai Sanat Aur Maeeshat

By Hameed Ullah Bhatti