Awami Transport Aur Kiraya Nama
عوامی ٹرانسپورٹ اور کرایہ نامہ

پنجاب میں بہت سے فلاحی کاموں لسٹ موجود ہے اچھی بات ہے حکومت کی ترجیحات عوامی ہونی چاہیے بہت اچھی بات ہے کاموں کی تعریف بھی ہونی چاہیے اور مثبت تنقید بھی ہونی چاہیے تاکہ توازن برقرار رکھنے کا عمل سست روی کا شکار نہ ہونے پائے مگر بدقسمتی سے ہم ماضی میں کیئے جانے والے اچھے کاموں میں شمار نہیں کرتے جو کہ اچھی سوچ نہیں۔ آج ہم آپ کو پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور نظام کے حوالہ سے کچھ بنیادی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام کسی بھی ملک کی تہذیب اور ترقی کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب تک اس شعبے میں شفافیت، ایمانداری اور سہولت نہیں آئے گی، عام آدمی یوں ہی خوار ہوتا رہے گا۔ حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اس بنیادی مسئلے پر فوری توجہ دیں۔
پاکستان خصوصاً پنجاب جیسے بڑے صوبے میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام ایک ایسے عذاب سے کم نہیں جس سے روزانہ لاکھوں مسافر دوچار ہوتے ہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے جو براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے لیکن افسوس کہ اس کی اصلاح کی طرف کبھی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ فوٹو سیشن روزانہ کی بنیاد پر ملیں گے مگر فیلڈ ورک نہیں۔
ٹرانسپورٹ کے کرایہ جات کے تعین کے لیے حکومت وقتاً فوقتاً نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بسوں، ویگنوں، رکشوں اور کوسٹرز میں کوئی باقاعدہ "کرایہ نامہ" آویزاں نظر نہیں آتا۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر مسافروں سے اپنی مرضی کا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ پٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو کرایہ فوراً بڑھا دیا جاتا ہے، لیکن جب فیول کی قیمتیں کم ہوں تو کوئی بھی کرایہ کم کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اس استحصالی رویے کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور کئی بار دست گریبان بھی ہونا پڑھتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کا مافیا طاقتور ہے اور بہت سرکاری اہلکاروں کی روزی روٹی کا سوال بھی ہے جو اس مافیا کو سپورٹ کرتے ہیں۔ دوران سفر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں سیٹوں اور پردوں کی کیا صورتحال ہے
زیادہ تر عوامی گاڑیاں ٹوٹی پھوٹی، گرد آلود اور بدبو سے بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ نہ سیٹیں درست حالت میں ہیں اور نہ ہی گاڑیوں میں صفائی کا کوئی انتظام۔ دورانِ سفر پسینے، دھوئیں اور شور کا ایسا امتزاج بنتا ہے جو صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور اور کنڈکٹرز کا رویہ مسافروں کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی اور بدتمیزی پر مبنی ہوتا ہے۔ سواری کو عزت دینے کے بجائے اسے جھڑکنا، دھکے دینا اور کرایہ پر جھگڑنا معمول بن چکا ہے۔ خواتین اور بزرگ افراد کے ساتھ بھی بدسلوکی کی جاتی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ تربیت اور تہذیب نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔
ٹریفک پولیس کا کردار بھی نصف سے زیادہ خاموش تماشائی کا لگتا ہے۔ جگہ جگہ ناکے اور چیکنگ تو ہوتی ہے لیکن عوامی ٹرانسپورٹ میں اوور لوڈنگ، زائد کرایہ، بغیر فٹنس گاڑیاں اور بے ہنگم ڈرائیونگ سب کچھ کھلے عام جاری رہتا ہے۔ اگر پولیس واقعی اپنا فرض دیانت داری سے ادا کرے تو پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
غریب عوام کے پاس کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں۔ ذاتی گاڑی رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے عام آدمی مجبوراً اسی فرسودہ اور تکلیف دہ نظام پر انحصار کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ روزانہ لاکھوں لوگ زلیل و خوار ہو کر سفر کرتے ہیں کوئی پرسانِ حال نہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ہر پبلک گاڑی میں کرایہ نامہ لازمی آویزاں کروائے۔ مسافروں کو شکایت درج کروانے کے لیے ہیلپ لائن اور آن لائن سسٹم فعال بنایا جائے اور گاڑی میں نمایاں مقام پر آویزاں ہوں، ڈرائیور اور کنڈکٹرز کے لیے تربیتی کورسز اور اخلاقی تعلیم لازم کی جائے۔ ٹریفک پولیس کو محض چالان کرنے کے بجائے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
نئی اور معیاری بس سروسز کو فروغ دے کر پرانی اور کھٹارہ گاڑیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں چونکہ عام آدمی سفر کرتا ہے اس لیے ضروری ہے اس پر توجہ دی جائے۔ چالان کرلینا کوئی مناسب اقدامات نہیں بعض اوقات ٹریفک پولیس کا رویہ دوران سفر شکایت کرنے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شکایت کندہ نے کوئی بڑا جرم کرلیا ہو کیونکہ ٹرانسپورٹ مافیا تکڑا ہے۔

