Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Solar Ka Safar, Roshni Se Maeeshat Tak

Solar Ka Safar, Roshni Se Maeeshat Tak

سولر کا سفر، روشنی سے معیشت تک

آج سے کچھ دھائی قبل تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ سولر کیا چیز ہے اور یہ سورج سے توانائی حاصل کرنے کا کتنا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے؟ پھر توانائی کے پہ در پہ بحرانوں، لوڈ شیڈنگ اور مہنگی توانائی نے متبادل ذرائع کی تلاش پر مجبور کردیا تو ایسے میں سورج سے توانائی کا جدید تصور سامنے آیا تو یہ پاکستان میں بھی مقبول ہوا۔

سولر توانائی کا سفر سورج کی روشنی سے شروع ہوتا ہے۔ سورج سے آنے والی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں اور سولر پینلز ان شعاعوں کوجذب کرکے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر نیٹ میٹرنگ پالیسی کے بعد لوگوں نے اسے اپنی مالی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک اچھی سرمایہ کاری سمجھ کربھی اپنایا۔ پاکستانی حکومت نے سولر سسٹم کو پروموٹ کرنے میں نمائیاں کردار ادا کیا اور لوگوں اس جانب راغب کرنے کے لیے بہتر پالیسیاں سامنے آئیں ایسے میں "روشن اپنا گھر اسکیم" کے تحت مفت سولر پینل کی فراہمی اور مختلف بینکوں کی گرین فنانسنگ اسکیموں نے سولر سسٹم کو آسان اقساط پر فراہم کرنا شروع کردیا۔ یوں کاروباری سرگرمیوں کا ایک نیا باب کھل گیا۔ ایسے میں حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی بینکوں اور مقامی فرموں نے سولر توانائی کے لیے کم شرح سود پر قرضے اور اقساط میں واپسی کی سہولت دینے کا اعلان کیا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

دوسری جانب غریب طبقہ نے بھی اپنی جمع پونجی، بچت کے علاوہ اپنی اشیاء مثلاََ سونے کے زیورات اور گاڑیاں وغیرہ فروخت کرکے سولر سسٹم خریدنا بہتر سمجھا یوں عوام کی ذاتی رقم مقامی فرموں اور بنکوں کے قرض سے گھر گھر یہ سسٹم پہنچنے لگا اور بجلی بل کی بجائے سولر کی قسط ادا ہوتی رہی ہے۔ سولر سسٹم اتنا خوبصورت پروجیکٹ تھا کہ ہر دوسرا گھر ایک چھوٹا سرمایہ کار بن کر حکومت کی یہ سستی معاونت لینے لگا جبکہ کہ حکومت کی جانب سے ایک پائی بھی سولر سے حاصل شدہ بجلی پر نہیں لگتی تھی۔ اس پر لگنے والا گرین میٹر تک عام شہری اپنی جیب سے لگواتا تھا۔

چاہیے تو یہ تھا کہ وہی بجلی حکومت کمرشل سرگرمیوں میں مصروف افراد کو تین گنا ایکسٹرا ریٹ پر مہیا کرکے کاروباری طبقہ کی حوصلہ افزائی کرتی اور ملک میں روزگار کے مواقع بڑھتے۔ گرڈ اسٹیشنوں کے اربوں روپے کےفرنس آئل سے جان چھوٹتی اور ڈالر باہر جانا کم ہو جاتا۔ سولر کی اس بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے بہت سے خدشات پیدا ہوئے اور چھ ماہ قبل ایک سروئے رپورٹ سامنے آئی کہ ممکن ہے کہ بہت جلد دن کے اوقات میں گرڈ اسٹیشن بند ہو جائیں کیونکہ ضروریات زندگی کے لیے سولر سسٹم دن کے اوقات میں بجلی میں خود کفیل ہوتا جارہا تھا۔

سولر سسٹم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری شاید اشرفیہ کی آپی پیز کو راس نہیں آرہی تھی جنہیں پچھتر فیصد بند حالت کے گرڈ اسٹیشن پر سو فیصد ادائیگی ہو رہی تھی اور پھر ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے سب کے پر کاٹنے کے لیے نیٹ میٹرینگ کو بل میٹرنگ میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز کا اعلان کرکے غریب عوام کو پریشان کردیا گیا۔

میرے بہت سے ہمسایوں اور دوستوں نے بنک سے قرضہ لے کر یہ سولر سسٹم لگوائے تھے جن کی اقساط ابھی باقی ہیں۔ خیال یہ تھا کہ سات سالہ معاہدئے کے دوران بل کی بجائے قسط ادا کرکے کچھ نہ کچھ بچت کر لی جائے گی۔ ان میں سے کچھ نے اپنا پیٹ کاٹ کر یا کسی سولر ایجنٹ سے قرضہ لے کر یہ سولر سسٹم لگوائے تھے جن کی اقساط ابھی کئی سال تک دینا پڑیں گیں اور ساتھ ساتھ بل بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اس دوہرئے مالی بوجھ پر نیٹ میٹرنگ کے سات سالہ معاہدئے سے بندھی عوام حیران ہے کہ اب کیا کرے اور کہاں جائے؟ کیونکہ سولر سسٹم کا یہ عروج حکومتی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔

اب سنا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لےکر نیپرا کو نظر ثانی کے لیے کہا ہے اور نوٹیفیکشن پر فی الحال عملدرآمد موخر کردیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی جاری رہے گی اور امید کی جارہی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے سابقہ صارفین کو معاہدے کے مطابق یونٹ کے بدلے یونٹ سولت فراہمی بھی جاری رہے گی۔ وگرنہ عام عوام خصوصی متوسط طبقہ اپنے بنک کی اقساط ادا نہیں کر پاےگا۔ جس کی باعث ڈیفالٹ ریٹ بڑھے گا اور بنک کی ایک بہت بڑی رقم کے بھی پھنس جانے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ نظر ثانی ضرور اس نوٹیفیکشن میں تبدیلی کا باعث بنے گی اور حکومت عوامی جذبات اور مجبوریوں سمجھتے ہوئے بہتر فیصلہ کر سکے گی۔

نیپرا سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نیٹ میٹرنگ سابقہ صارفین کے لیے حسب سابق بحال رہے گی تاہم نئے صارفین کے لیے کی گئی تمام ترامیم موثر رہیں گی اور فکسڈ چارجز بھی لاگو رہیں گے اور فروری تک موصول ہونے والی درخواستیں بھی اس ضمن میں شامل ہوں گی۔ لیکن اس فیصلے کے باوجود سولر سسٹم کی خریداری پر فرق پڑئے گا اور سولر سسٹم میں بیٹری کا استعمال بڑھ جائے گا اور لوگ اب ہائبرڈ سولر سسٹم کی جانب متوجہ ہو نا شروع ہو جائیں گے۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سولر سسٹم نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ افزائی کرکے سستی بجلی کی پیداوار مزید بڑھائی جاتی تاکہ ملک میں یہ وافر اور سستی بجلی ناصرف لوڈشیڈنگ سے نجات دلا سکےبلکہ توانائی کے حصول میں مدد گار ثابت ہو سکے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ کی پالیسی کیسے ترتیب دی جاتی ہے۔

بہر حال سولر کا یہ سستا سفر خدشات کے باوجود رواں دواں ہے جو ملکی معیشت اور توانائی کے سستے حصول کے لیے ایک اچھی سرمایہ کاری ہے۔ شکریہ جناب وزیر اعظم پاکستان آپکی توجہ، نوٹس اور معاہدے پر عملداری سے غریبوں کا بھرم بھی قائم رہا اور سولر کا سفر بھی جاری رہا۔ سولر سسٹم صرف سورج کی کرنوں سے بجلی کی فراہمی ہی نہیں کرتا بلکہ ہماری معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بھی ہے اور بہت سے لوگوں کا روزگار اس شعبہ سے وابستہ ہو چکا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی ایجادات کے پیش نظر اس صنعت میں آنے والی تبدیلیاں سستی ترین توانائی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔

Check Also

Pir Bazar Ki Pirnian

By Azhar Hussain Azmi