Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Khote Sikkay Aur Sache Log

Khote Sikkay Aur Sache Log

کھوٹے سکے اور سچے لوگ

میرے ایک بینک کے ساتھی فراز خان نے خان پور سے مجھے یہ واقعہ لکھ بھیجا ہے کہ ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ اپنے ان خاص مریدین سے مخاطب تھے وہ خاص مریدین جوکہ درجہ کمال کو پہنچ چکے تھےاسی دوران گفتگو میں بابا جیؒ نے فرمایا کہ شہر ہرات میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ جن کا کاروبار سالن بنا کر بیچنا تھا۔

حسب معمول وہ سالن کی دیگ بنا کر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے سالن طلب کیا بزرگوں نے دے دیا بدلے میں اس عورت نے بابا جی کو بطور قیمت کھوٹا سکہ دیا۔ بابا جی نے بغیر اس عورت پر ظاہر کیئے کہ مجھے کھوٹے کھرے کی پہچان ہے کہ نہیں غلے میں سکہ رکھ دیا اور خاموش ہوگئے۔ اب اس عورت نے گاؤں کی ساری عورتوں کو بتایا کہ فلاں جگہ پر ایک بابا جی ہیں انکو کھوٹے سکے کی پہچان نہیں ہے۔ پھر اور عورتیں اور لوگ آئے بابا جی سے سالن طلب کرتے اور بدلے میں کھوٹے سکے دے کر چلے جاتے۔

بابا جی بھی بغیر کچھ بولے قبول کرتے اور سالن دے دیتے کچھ روز بعد بابا جی شدید بیمار ہوگئے اور ان کا پتہ لینے کے لیئے گاؤں کے کچھ لوگ آئے۔ بابا جی نے فرمایا کہ مجھے مصلہ بچھا دو شاید میرا وقت آگیا ہے۔ جب ایسا کیا گیا تو بابا جی اٹھے اور اپنے سامنے مصلے پے کھوٹے سکوں کی تھلیاں بھی رکھ دی اور یوں اللہ کے آگے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالی تیری مخلوق کھوٹے سکے لے کر آتی رہی میں قبول کرتا رہا۔ اے پیکر حق یا رب آج میرا وقت آخر ہے۔ تو بھی آج میری کھوٹی نمازیں کھوٹے روزے کھوٹے سجدے اور کھوٹی عبادتیں قبول فرما۔

تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہاں مکان کے درو دیوار کانپنے لگے اور آواز آئی کہ قبول کی تمہاری دعااور درگزر کیا گیا تمہارا حساب کتاب سے اور جنت میں نبیوں اور صدیقوں کا پڑوسی کردیا گیا۔ بحوالہ (راحت القلوب فوائد الفواد)۔ شاید ہی اس سے بہتر کوئی رضاالہی بذریعہ خدمت انسانیت کی اچھی اور اعلیٰ مثال کوئی اور ہو سکتی ہے۔

ہمارے خاندان میں رواج تھا کہ جب کوئی خاتون گھر کا آٹا گوندھنے لگتی تو پہلے ایک مٹھی آٹا الگ نکال کر ایک ڈبے میں ڈال دیا جاتا۔ جسے اللہ نام ک مٹھی کہا جاتا تھا اور جب اکٹھا ہو جاتا تو اسے خیرات کردیا جاتا تھا۔ ان بزرگوں کا خیال یہ تھا کہ روزمرہ عبادات کی قبولیت کے لیے خیرات بہت ضروری ہے۔ لہذا اپنے دن کا آغاز خیرات سے کیا جائے۔ گاوں کے چوپال یا تکیہ میں مسافروں اور راہگیروں کے لیے پانی، آگ، چارپائی بستر، حقہ، کھانا فراہم کرنے کے لیے ایک شاہ جی مقرر تھے۔

یہ شاہ جی اس تکیہ کے منتظم تھے۔ ان کو گاوں والوں نے اس کام کے عوض چند ایکڑ زمیں دی ہوئی تھی۔ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ ہر مسافر کے قیام وطعام فراہم کریں۔ کیونکہ گھروں میں ماچس نہیں ہوتے تھے اس لیے تکیہ پر ہر وقت آگ کا انتظام رکھیں۔ تکیہ پر بیٹھنے والوں کے لیے حقہ پانی تیار رکھیں۔ یہ تکیہ یا گاوں کا مہمان خانہ گاوں کے معزز لوگوں کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ ہمارے گاوں میں کبھی کوئی فقیر آواز نہیں لگاتا تھا۔

بس تکیہ پر آکر بیٹھ جاتا تھا اور جب تک اس کا دل چاہتا وہاں ٹھہرا رہتا تھا۔ گاوں بھر میں قصائی کی کوئی دکان نہ تھی۔ گاوں کا کوئی ایک نوجوان صبح سویرے جمنا کنارے جاکر ایک آدھ ہرن یا نیل گائے شکار کر لاتا اور پورے گاوں میں اس کا گوشت بانٹ دیتا۔ گاوں کی سبزیاں سب کی سانجھی سمجھی جاتی تھیں۔

فراز خان کی تحریر نے مجھے بہت سے اللہ والے یاد دلا دئیے جو تقویٰ و عاجزی پر آج بھی قائم ہیں اور اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ عبادات کی قبولیت کے لیے انسانیت کی خدمت کرنا بھی بہت ضروری ہے جی ہاں ! کھوٹے سکے چل رہے ہیں اور کھوٹے سکے قبول کرنے والے آج بھی موجود ہیں۔

پچھلے دنوں ایک فلاحی ادارے کی جانب سے قائم مصنوعی اعضاء کے فری کیمپ میں مجھے ایک بہت ضعیف بزرگ ملے۔ جواس ادارے کو معذور افراد کے لیے ایک ویل چیر عطیہ کرنے آے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پینشن پچاس ہزار روپے کے قریب ہے۔ وہ پورے سال اپنی پینشن سے رقم بچاتے رہتے ہیں اور جب رقم اکٹھی ہو جاتی ہے۔ تو ایک ویل چیر خرید کر اس ادارے کے ذریعے کسی مستحق کو دے دیتے ہیں۔

ڈاکٹر رمضان صاحب جو اس فلاحی ادارے کو چلا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ بےشمار لوگ ہمارے فری کیمپ میں مصنوعی اعضاء اپنا نام بتاے بغیر عطیہ کرتے ہیں۔ جسے ہم مفت اور بلا فیس اس کیمپ میں یہ اعضاء لگا کر معذوروں کو چلنے پھرنے کے قابل کرتے ہیں اور بے شمار دعائیں سمیٹتے ہیں۔ مجھے بھی میرے ایک مرحوم دوست نے مجھے اختیار دیا ہوا تھا کہ کسی بھی ضروت مند کی مدد کے لیے جب چاہیں مجھے سے عطیہ لے لیا کریں وہ کہتے تھے کہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کس کی مدد کر رہے ہو اور کس لیے کر رہے ہواور نہ میرا نام لے کر مدد کیا کریں اور وہ ہر ماہ ایک فری میڈیکل کیمپ کا خرچ اپنا نام ظاہر کیے بغیر چپ چاپ برداشت کرتے تھے۔

میرے ایک اور مشہور پروفیسر ڈاکٹر دوست ہیں جو ہر ہفتے تین دن باقاعدگی سے اپنے آبائی گاوں میں غریب مریضوں کے لیے فری میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں جہاں وہ چھوٹی موٹی سرجری کے ساتھ دوائی بھی مفت فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح میرے ایک بچپن کے ساتھی اور دوست محمد سعید چشتی مرحوم جو اسلام آباد میں رہتے تھے اور نہایت ایماندار انسان تھے۔

بڑے بڑے عہدوں پر رہنے کے باوجود عیالداری کی باعث تنخواہ میں ان کا گزارہ بمشکل ہو پاتا تھا۔ لیکن جب بھی کسی ضرورت مند نے ان سے سوال کیا یا کوئی فلاحی کام ہوا وہ فوراََ مجھے فون کرتےاور کہتے یار مجھے اتنے پیسے ادھار دےدو۔ میں کہتا کہ میرے پاس نہیں ہیں تو کہتے یار کسی سے ادھار پکڑ کر ہی دے دو اور پھر وہ ہر ماہ وہ ادھار تھورا تھوڑا کرکے ادا کرتے رہتے۔ یوں تمام عمر وہ میرے مقرض ہی رہے۔ لیکن لوگ کی مدد اور فلاحی کاموں سے پیچھے نہ ہٹے اور اپنی آخری سانسوں تک یہ کام جاری رکھا۔

مجھے ایک ایسے ریسٹورنٹ کا پتہ ہے جہاں آج بھی ضروت مند اور بھوکوں کو بڑے باعزت طریقے سے کھانا مفت پیش کیا جاتا ہے۔ مجھے بینک ملازمت کے دوران بےشمار ایسے لوگوں سے واسطہ پڑاجو ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی تنخواہ میں سے مستقل ایک رقم شوکت خانم کینسر ہسپتال یا ایدھی ایمبولینس سروس والوں کو بھجواتے تھے اور اب بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔

میرا ایک دوست کریانہ مرچنٹ ہے اس نے مجھے بتایا کہ ایک صاحب جو خود بھی سفید پوش ہیں ہر ماہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کسی غریب اور ضرورت مند کا ادھار تو لمبے عرصے سے پھنسا ہوا نہیں ہے؟ اور اگر وہ ادھار ان کی بساط میں آتا ہے تو ادا کر دیتے ہیں آج تک انہوں نے اپنا نام و پتہ ظاہر نہیں کیا۔

مجھے ایک ایسی روحانی شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جو روزآنہ شام کو ہسپتال کے ایک کونے میں بیٹھ کر نادار مریضوں کو مفت ادویات کی چٹ جاری کرتے ہیں اور بہت سے ڈاکٹرز کو انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں جسے ضرورت مند سمجھو میرے پاس بھجوادویا خود ہی فلاں فلاں میڈیکل سٹور سے دوائی میرے اکاونٹ میں خرید کر فوری دے دو۔ یہاں بہاولپور میں دوستوں کا ایک ایسا گروپ موجود ہے جو ہر گروپ کاخون عطیہ کرنے کے لیے صرف ایک کال کا منتظر ہوتا ہے۔

میں چند ایسے گمنام رضاکاروں کو بھی جانتا ہوں جو ہسپتال میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو کھانا فراہم کرتے ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں ایمبو لنس، ویل چیر، اسٹریچر وغیرہ کا انتظام بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن کبھی اپنا نام اور اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔ کون ہیں یہ لوگ؟ جی ہاں یہی وہ اچھے دلوں کے سچے لوگ ہیں جو ہمارےجیسے لوگوں کے کھوٹے سکے چلا رہے ہیں۔

بے شک ہماری اس دنیا اور معاشرے میں بےشمار اچھے اور نیک لوگ ابھی بھی موجود ہیں۔ جن کی بدولت یہ نظام خدمت انسانیت چل رہاہے۔ مگر یہ گمنام خدائی خدمت گار کسی شہرت یا ایوارڈ کے طلب گار نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے سچے اور کھرے لوگ ہر شہر اور ہر بستی میں موجود رہتے ہیں جو لوگوں کے کھوٹے سکے قبول کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہونے دیتے۔

آئیے آج سے ہم بھی یہ عہد اور عزم کریں کہ اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کے دےُ ہوے رزق سے مستحق لوگوں کے لیے حصہ ضرور نکالیں گے اور رضا الہی بذریعہ خدمت انسانیت کرکے اپنی عبادات کو درجہ قبولیت خداوندی سے سرفراز کر سکیں گے۔ حدیث نبویﷺ ہے "لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دے اور لوگوں میں بدتر وہ ہے جو لوگوں کو تکلیف دے"۔

Check Also

Sakoon Ki Talash

By Muhammad Zeashan Butt