صحرائے چولستان میں قائم جدید لیبارٹری

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان توازن سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور جنگلی حیات کے تیز رفتار خاتمے نے انسانی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ جدید صنعتی ترقی نے انسان کو بے شمار سہولتیں فراہم کیں مگر اس کے نتیجے میں قدرتی وسائل بے دردی سے استعمال ہوئے اور ماحولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ ایسے حالات میں وہی قیادت اور ریاستیں دنیا کے لیے مثال بنتی ہیں جو ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی اپنی پالیسی کا مرکزی حصہ بناتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان کا شمار انہی عالمی رہنماؤں میں ہو رہا ہے جنہوں نے ماحولیات اور قدرتی ورثے کے تحفظ کو عملی وژن بنایا۔ صحرا اور اس کی خاموش وسعتوں سے ان کی گہری وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے خصوصاً پاکستان کے صحرائی علاقوں کے تحفظ اور اس قدیم کلچر کو محفوظ بنانے کا وژن انہیں اپنے والد بانی امارات، شیخ زاید بن سلطان النہیان (مرحوم) سے ملا ہے جن کی فکر تھی کہ قدرت کا تحفظ انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اس وژن کی ایک عملی اور روشن مثال پاکستان میں قائم کنزرویشن بریڈنگ سینٹر (CBC) ہے جو 2014 میں شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں وجود میں آیا۔
یہ منصوبہ پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ماحولیاتی اقدام ہے جو چولستان کے صحرا میں واقع لال سوہانرا کے علاقے میں قائم ہے۔ یہ ایک ایسا صحرائی خطہ تھا جسے بنجر اور بے جان تصور کیا جاتا تھا لیکن اب یہ جدید ریسرچ لیبارٹری وہاں صحرائی زندگی کو تحفظ اور بقا کی نئی شکل دینے میں مصروف عمل ہے کنزرویشن بریڈنگ سینٹر تقریباً 165 مربع کلومیٹر پر محیط ایک محفوظ علاقہ ہے جہاں قدرتی ماحول کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھتے ہوئے جنگلی حیات کو آزادانہ زندگی فراہم کی گئی ہے۔ یہاں صحرائی جانوروں کو پنجروں یا محدود احاطوں میں قید نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں ان کے قدرتی مسکن کے قریب ترین ماحول میں افزائشِ نسل کا موقع دیا گیا
ہے۔ چنکارہ، کالا ہرن، نیل گائے اور دیگر مقامی جنگلی جانور اس مرکز کا حصہ ہیں جو ایک متوازن ماحولیاتی نظام کی علامت ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق جنگلی حیات کا تحفظ صرف چند جانوروں کو بچانے کا نام نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کا عمل ہے۔ اسی لیے کنزرویشن بریڈنگ سینٹر میں جانوروں کے ساتھ ساتھ قدرتی نباتات کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
مقامی صحراوی پودوں کی کاشت، بیج بکھیرنے اور قدرتی سبزہ اگانے کے اقدامات زمینی اور فضائی دونوں طریقوں سے کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جانوروں کو قدرتی چارہ دستیاب رہے اور صحرا کا ماحولیاتی توازن برقرار رہے خاص طور پر خشک سالی اور قحط جیسے مشکل حالات میں بھی صحرائی حیات ختم نہ ہو صحرا میں زندگی کا سب سے بنیادی مسئلہ پانی کی کمی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جہاں یہ منصوبہ ماحولیاتی دانش کی ایک اعلی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ کنزرویشن بریڈنگ سینٹر میں موجود 23 قدرتی ٹوبے ہیں جو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ انہیں نہ صرف محفوظ کیا گیا ہے بلکہ جدید سائنسی اصولوں کے مطابق بحال بھی کیا گیا۔
ہیومن ویلفیئر اینڈ نیچر کنزرویشن سوسائٹی (HWNCS) کے تعاون سے واٹر بازرز کے ذریعے سال بھر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ شدید گرمی اور خشک موسم میں بھی جنگلی جانور محفوظ رہ سکیں۔ یہ منصوبہ اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ اگر نیت درست ہو تو صحرا بھی زندگی سے بھر سکتا ہے۔ کنزرویشن بریڈنگ سینٹر نے یہ ثابت کیا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ صرف سرسبز علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بنجر سمجھے جانے والے خطے بھی درست منصوبہ بندی سے زندہ اور فعال بنائے جا سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کنزرویشن بریڈنگ سینٹر محض ایک محفوظ علاقہ نہیں بلکہ پاکستان میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کا ایک عملی ماڈل بن چکا ہے۔ اس منصوبہ میں حکومت، اداروں اور عوام سب کے لیے یہ پیغام ہے کہ ترقی اور تحفظِ ماحول ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اگر پالیسی سازی میں ماحولیات کو ترجیح دی جائے تو پائیدار ترقی ممکن ہے۔ اسی پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا حالیہ دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ دورہ محض سفارتی ملاقاتوں یا معاشی معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اب پائیدار ترقی، ماحولیات، سرمایہ کاری اور انسانی فلاح جیسے وسیع شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔ کنزرویشن بریڈنگ سینٹر جیسے منصوبے اس شراکت داری کی عملی مثال ہیں جہاں ماحولیات کو دوطرفہ تعلقات کے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ دنیا آج ماحولیاتی انصاف کی بات کر رہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی آلودگی میں ان کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ ایسے میں دوست ممالک کی جانب سے ماحول دوست منصوبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری محض سفارتی تعاون نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری کے احساس کا اظہار بھی ہے۔ کنزرویشن بریڈنگ سینٹر آنے والی نسلوں کے لیے ایک زندہ ورثہ ہے۔
یہ منصوبہ ہمیں واضح کرتا ہے کہ اگر ریاستیں مستقبل کو مدنظر رکھ کر فیصلے کریں تو صحرا بھی تحفظ، بقا اور زندگی کی علامت بن سکتے ہیں اور شیخ محمد بن زاید النہیان نے اپنے والد کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو صرف حال نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بھی فکر کرے۔ مجھے کنزرویشن بریڈنگ سینٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ صحرا میں موجود جدید لیبارٹری ہے جو ہمارے صحراؤں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھنے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ یہاں ڈاکٹر، ماہر نباتات اور صحرائی حیات سے متعلق لوگ اپنی فیملی سے کٹ کر محض چولستانی زندگی کی بقا اور تحفظ کے لیے کام کرنے میں مگن ہیں۔
یہ محض ایک ماحولیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ماحول دوست قیادت، بین الاقوامی تعاون اور انسانی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ ایسے اقدامات ہی دنیا کو ایک محفوظ، سرسبز اور متوازن مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں جہاں ترقی اور فطرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھیں۔ پاکستان کلچرل ملک ہے۔ یہاں مختلف موسم، مختلف اقوام اور مختلف مزاج کا امتزاج ملتا ہے۔ یہ سب تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس جدید و قدیم کلچرل امتزاج، نباتات و حیاتات کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

