Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Fazal Tanha Gharshin
  4. Professor Nazar Shahab: Balochistan Mein Classiciat Ki Aik Goonj

Professor Nazar Shahab: Balochistan Mein Classiciat Ki Aik Goonj

پروفیسر نذر شہاب: بلوچستان میں کلاسیکیت کی ایک گونج

پروفیسر نذر شہاب صاحب نے 12 اگست 1961 کو مری آباد کوئٹہ میں آنکھ کھولی۔ پرائمری تعلیم مری آباد کے ایک سرکاری سکول سے حاصل کی۔ میٹرک گورنمٹ ٹیکنیکل ہائی سکول کوئٹہ سے کیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد 1979 کو بی اینڈ آر میں جونیئر کلرک بن گئے۔ ڈیڑھ سال بعد بلوچستان یونیورسٹی میں بحیثیت اسٹینو ٹائپسٹ تقرر ہوئی اور دوبارہ ایف اے اور بی اے کے امتحانات پرائیوٹ حیثیت سے پاس کرنے کا عزم کیا اور کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں 1986 میں ایم اے اردو کر لیا۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی جستجو بھی رہی۔ بالآخر 1993 کو گورنمنٹ ڈگری کالج مستونگ میں اردو لیکچرار تعینات ہوئے اور 2024 میں گورنمنٹ ڈگری کالج مسلم باغ سے بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر ریٹائر ہوگئے۔

پروفیسر صاحب کے آباؤ اجداد کا تعلق توبہ کاکڑی سے ہے۔ انھوں نے قبائلی تنازعات اور علاقائی انتقامی کارروائیوں سے تنگ آکر خانوزئی سے تقریباََ پانچ میل دور مرغہ زکر بازئی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ وہ قومیت کے اعتبار سے کاکڑ قبیلے اور سلیمان خیل شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔

شہاب صاحب نے بھرپور جوانی گزاری ہے۔ جونیئر کلرک سے پروفیسر بنے، فٹ بال کے مایہ ناز کھلاڑی رہے، کراٹے بازی میں مختلف اسناد سے نوازا گیا، اسٹیج ڈراموں میں کامیاب کردار کے طور پر پہچانا گیا، ریڈیو پاکستان میں تین سال تک اناؤنسر رہے، فن مصوری میں معروف مصور کلیم خان صاحب کی زیر نگرانی ملکی سطح پر تعریفی اعزازات حاصل کیے۔ مرحوم عبد الحلیم صاحب سے گائیکی اور سروں کا فن سیکھا اور 1990 میں ادب کی پر خار وادی میں قدم رکھا۔ وہ شاعری میں غزل کے دلدادہ ہیں اور خالد ثاقب مرحوم سے اصلاح لیا کرتے تھے۔ میر، ذوق، مؤمن اور غالب سے متاثر ہیں۔ ان کی شاعری پر میر کے اسلوب اور فکر کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔

میں پروفیسر نذر شہاب کو ذاتی طور پر بہت قریب سے جانتا ہوں۔ ان کا اردو کلاسیکی عہد اور ادب سے بڑا لگاؤ ہے۔ پاکستانی ادب کی سست ترین رفتاری سے عموماََ اور بلوچستانی ادب کی زبوں حالی سے خصوصا نالاں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح وہ بلوچستان میں ادبی مراکز اور ادبی سرخیلوں سے بھی شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ میں نے بہ ذات خود جب بلوچستانی ادب اور بلوچستانی ادبا کو قریب سے دیکھنے اورسمجھنے کی کوشش کی تو کم از کم میں نے اردو پروفیسروں کو خصوصا اردو سے دور اور غیر اردو آفیسروں، بیورو کریٹوں اور ٹیکنو کریٹوں کو اردو ادب سے قریب پایا ہے۔

گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج میں ایک ملاقات میں پروفیسر صاحب نے سو غزلوں پر مشتمل اپنی شاعری کا مسودہ میرے حوالے کیا۔ شہاب صاحب کو ابھی تک بہت کم رسالوں اور اخباروں میں متعارف کرایا گیا ہے اور میری کوششوں سے اب تک چند طالب علموں نے ان پر مقالات بھی لکھے ہیں۔ شہاب صاحب نے ابھی تک اپنے شعری مسودے کو کتابی نام نہیں دیا ہے اور نہ ہی کتابی شکل دی ہے۔ تاہم اب میں نے ان کو اس کار خیر پر آمادہ کیا ہے۔ مسودے میں شامل تمام غزلیں سبز اور سیاہ روشنائی سے اپنی ڈائری میں ہاتھ سے لکھی ہیں۔ ہینڈ رائٹنگ صاف اور واضح ہے۔

حسب روایت مسودے کا آغاز حمد اور نعت شریف سے کیا ہے۔ حمد میں اللہ تعالیٰ سے دعا اور نعت میں حضرت محمد سے انسیت کی فضا آخر تک رہتی ہے۔

پروفیسر صاحب نے جب 1990 میں شعر لکھنا شروع کیا تو پہلی غزل اقبال کی غزل کے طرز پر لکھی:

نئی فکر کی ابتدا کر رہا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا کر رہا ہوں

یہ میری شرافت کہ تیری جفا کی
شکایت بہ طرز وفا کر رہا ہوں

حضرت اقبال کی طرح شہاب صاحب کی شاعری بھی نئی فکر کی ابتدا نوجوانی کی رعنائیوں اور شباب کے جمالیاتی تقاضوں سے کرتی ہے اور آہستہ آہستہ آفاقیت کی چوٹیوں کو چھو لیتی ہے۔ ایام جوانی میں عشق و محبت، رندی و سر مستی اور سوز و ساز کے ہنگاموں سے انکار ممکن نہیں۔ شاعری چوں کہ اظہار ذات کا بہترین ذریعہ بھی ہے اور تزکیہ نفس کا بھی۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے میں شہاب صاحب کی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ ان کی شاعری کا پہلا دور 1990 سے 9/11/2001 تک اور دوسرا دور 9/11/2001 سے آخر تک ہے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 9/11 نے نہ صرف سیاسی اور معاشی دنیا میں بھونچال پیدا کیا، بل کہ سماجی اور ادبی دنیا کو بھی مزاحمت، غور و فکر، سیاسی بحرانوں، معاشی ناہمواریوں اور غیر جمہوری رویوں سے مذید آشنا کیا۔ شعرا اور ادبا نے بھی اسی معاشرے کا حصہ رہتے ہوئے اپنے افکار و خیالات کو ادب کا جامہ پہنایا۔

اردو ادب میں ترقی پسند تحریک نے ایک انقلاب برپا کیا اور بیس سال تک ادب اور مادے کو ایک کرنے کی حتی الوسع شعوری کوشش کی۔ پھر ساٹھ کی دہائی میں جدیدیت نے دروں بینی، تحلیل نفسی، علامت نگاری، انفرادیت اور فکری آزادی کو اہمیت دی۔ جدیدیت در اصل ترقی پسندی سے فرار اور ذات میں پناہ لینے کی ایک کوشش تھی۔ شہاب صاحب نے ایک ایسے دور میں ادبی آنکھ کھولی جس میں ترقی پسندی دم تو ڑ چکی تھی، جدیدیت نے ادب کو ادیب کی ذات میں قید کر رکھا تھا اور مابعد جدیدیت (1980) نے گھٹنوں کے بل چلنا سکھ لیا تھا۔ (جدیدیت کی موت اور مابعد جدیدیت کی زندگی بعض نقادوں اور ادبیوں کے ہاں ایک نزاعی بحث ہے) اس لمبی چوڑی تمہید سے واضع ہوتا ہے کہ شہاب صاحب کے سامنے ترقی پسندی کے سخت اصول اپنانے کی شرط بھی نہیں تھی۔

جدیدیت کے دروں خانے میں قید ہونا بھی لازمی نہ تھا اور نہ ہی مابعدجدیدیت کی مقامیت یا تہذیب و ثقافت کی گلوکاری ضروری تھی، بل کہ ان کے سامنے ایک طرف سے مذکورہ بالا روایتوں کا حسین امتزاج یعنی غزل کے بنیادی اصول اور انفرادیت کا مسئلہ تھا۔ دوسری طرف سیاسی غیر جمہوری رویے، معاشی بداعتدالیاں اور سماجی نفسانفسی تھی۔ ایسے میں میر کا اسلوب، انداز بیان اور فکری اثرات کو اپنانا اور غزل کو غزل ہی برقرار رکھنا شاید اچھنبے کی بات نہ ہو۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے میر کی غزل کے حوالے سے جو ایک شعر کو دوسرے شعر سے کیفیت و احساس کے لحاظ سے الگ ہونے کی بات کی تھی۔ یہی قول کم سے کم شہاب صاحب کی شاعری کی مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ یعنی شہاب صاحب کی غزل میں چھے مختلف موضوعات کا ذکر ملا حظہ ہو:

میری خاموش زندگانی کی
میرے شعروں نے ترجمانی کی

موت کی التجا سے بہتر ہے
کر دعا عمر جاودانی کی

میں نے مغرب کو الوداع کہہ کر
اپنی دھرتی کی پاسبانی کی

خون ارزاں ہوا ہے انساں کا
جب سے قیمت بڑھی ہے پانی کی

گھر کا رستہ دکھا دیا مجھ کو
دوستوں نے یہ مہربانی کی

اضطرابوں میں کٹ گئی ہیں شہاب
راتیں اکثر میری جوانی کی

شہاب صاحب ابتدائی دور کی غزلوں میں محبوب سے بے وفائی کا شاکی، محبوب کی آنکھوں کا اسیر، احباب کی بے اعتنائی اور بے مروتی پر نالاں اور سماجی نفسانفسی پر شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ وہ محبوب کے سامنے میر تقی میر اور زمانے کے سامنے فانی بن جاتے ہیں۔ ان کی تمام تر شاعری پر ان کی ذاتی شرافت اور سنجیدگی مکمل چھائی ہوئی ہے۔ وہ کسی قیمت پر ذات کی بات کو باہر لانا نہیں چاہتے اور نہ ہی اپنی شکستگی اور نارسائی کا انکشاف کرنا پسند کرتے ہیں، البتہ شعر خود بخو درد اور سوز کو بے لباس کر دیتا ہے۔ بعض جگہوں پر شہاب صاحب نے شعوری طور پر ذات سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور بعض جگہوں پر لاشعوری طور پر عشق میں ناکامی کا ذکر بھی کیا ہے:

اجنبی سے حجاب ہو تو سہی
آئینے سے حجاب کیا معنی

ندامت راستہ روکے کھڑی ہے
میں خالی ہاتھ لوٹا ہوں سفر سے

کس طرح لوگ شاد ہوتے ہیں
دکھ میں اوروں کو مبتلا کرکے

شہاب صاحب کے مسودے میں ابتدائی دور ہی کی ایک غزل جوانی کی ناکامیوں اور نامرادیوں کی مکمل عکاس ہے۔ اس غزل کی ردیف "ہی نہ کر سکا" ہے، جس میں وہ ان تمام حقائق کو شعر کی زبان میں بیان کرتے ہیں جو وہ زندگی میں بل کہ جوانی میں کرنا چاہتے تھے، مگر بوجوہ نہ کر سکے۔ شہاب صاحب کا اپنی زندگی میں محبت میں ناکام ہونے کی بنیادی وجہ ان کا اپنی ذات پر بھروسا نہ ہونا ہے۔ حالاں کہ وہ نجی زندگی میں بہت منظم اور مضبوط آدمی ہیں۔ شاید شرافت اور سنجیدگی کی انتہا نے انھیں ادھورا کر دیا ہے۔

شہاب صاحب کی شاعری کا دوسرا دور ان کی شاعری کے پہلے دور سے بہت زیادہ مختلف نہیں، البتہ دوسرے دور میں احترام آدمیت، نا امیدی کے بجائے امید، سیاسی چال بازیوں پر تنقید، سرعام قتل و غارت کے بارے میں فکر مندی اور جابجا فلسفیانہ افکار کی چاشنی بھی ملتی ہے۔ شہاب صاحب نے مختلف نشستوں میں اپنے افکار پر 9/11 کے اثرات کا ذکر میرے ساتھ کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مجھے ان کی شاعری کو قدرے زیادہ غور سے پرکھنا پڑا۔ پہلے زمانی ترتیب دی (زمانی ترتیب دیتے وقت ان کی غزلوں پر کسی قسم کا سنہ موجود نہیں تھا۔ صرف ان کے بتانے پر اکتفا کیا) پھر 9/11/2001 کے بعد کی شاعری کوفی وفکری لحاظ سے جدا کرنے کی کوشش کی تو آخر میں بہت نازک فرق ڈھونڈ لیا، جس سے اختلاف اور انکار ممکن ہے۔ مگر ایک بات طے ہے کہ جوانی کے تقاضے اور بڑی عمر کے تقاضے الگ الگ ہیں اور انسان کا قومی اور بین الاقوامی حادثوں سے متاثر ہونا بھی ایک حقیقت ہے۔

بعض شعرا کے ہاں عصری تبدیلیوں کی شدت زیادہ اور بعض کے ہاں کم ہوتی ہے۔ شہاب صاحب کی نظمیں عافیت، شب تاریک کے جزیرے میں اور خاک آلود سحر بھی دوسرے دور کی تخلیقات ہیں۔ دوسرے دور کی غزل کا رنگ احمد ندیم قاسمی اور ناصر کاظمی کے فن سے بھی جابجا ملتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کے اثرات ملاحظہ ہو:

مظاہر کی اگر کثرت نہ ہوتی
تفکر میں پڑا آدم نہ ہوتا

اگر تکمیل ہوتی زندگی کی
تو احساس زیاں ہر دم نہ ہوتا

کبھی جینا کبھی مرنا نہ ہوتا
نہ ہوتا میں تو کیا اچھا نہ ہوتا

ہم نے اپنا عروج کب دیکھا
ابتدا ہی زوال ہے یارو

ناصر کاظمی کے فن نے بھی شہاب صاحب کے فن پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں:

بچھڑنے والوں کی شاید کوئی صدا آئے
اسی امید پہ مڑ مڑ کے دیکھتا ہوں میں

یہ ٹمٹماتے چراغوں کی روشنی شاید
کسی حسین سحر کی خبر سناتے ہیں

اک حسین یاد کی رعنائی میں کھو جاتا ہوں
دوستو! جب بھی کہیں ذکر بہار آتا ہے

پرو فیسر نذر شہاب کی شاعری میں (عطا شاد، عین سلام، محشر رسول نگری اور دیگر بلوچستانی عظیم شعرا کے برعکس) بلوچستانیت کا فقدان ہے۔ ان کی شاعری، اگر ایک طرف بلوچستانیت یا کسی خاص تحریک و تنظیم کی نمائندگی نہیں کرتی، تو دوسری طرف ان کی شاعری نے بلوچستان میں کلاسیکیت اور بیسویں صدی کے رجحانات کی بازگشت ضرور سنائی ہے۔ شہاب صاحب نے بحر خفیف مسدس مخبوں ابتر میں 30 غزلیں، بحر ہزج مسدس مخبوں ابتر میں 10 غزلیں، بحر متقارب مثمن محذوف میں چار غزلیں، بحر ہزج مثمن اخرب میں تین غزلیں اور بحر ہزج مثمن سالم میں دو غزلیں لکھی ہیں۔ تقریباََ پندرہ غزلیں متفرق بحروں میں لکھی ہیں۔ کسی خاص دبستان یا تحریک سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے خیالات میں انتشار اور پراگندگی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے خاص اسلوب متعین کرنے میں دقت ہوتی ہے۔

آمد کے راستے میں جابجا شعوری رکاوٹ کی وجہ سے ان کے اشعار ذہن پر دیر پا نقوش نہیں چھوڑتے۔ محاسن شعری میں سے تراکیب سازی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ لفظ "آئینہ" کو کئی جگہوں پر محبوب کے لیے استعاراتا استعمال کیا ہے۔ ذاتی زندگی میں تصنع اور بناوٹ سے پاک ہونے کا اثر کلام پر نمایاں ہے۔ ان کے کلام میں لفظی تصنع بہت ہی کم ملتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر جگہوں پر کئی بامعنی اور معنی خیز اشعار قاری کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تاہم ان کا کلام کسی حد تک عروضی خامیوں سے پاک ہے اور مصنف کی شخصیت کا عکاس ہے۔ ان کے کلام میں روانی، سلاست و سہل ممتنع اور شگفتگی اپنی آب و تاب پر ہے۔ ان کی شاعری کی ایک اور اہم بات ادبی پروپیگنڈوں سے انکار ہے۔

ان کی غزلوں میں اسماء کے بجائے افعال کا استعمال زیادہ ہے اور قافیے اور ردیفوں میں مصمتوں کے بجائے مصوتوں کا استعمال زیادہ ہے۔ شعر کی روانی کی خاطر لاشعوری طور پر افعال، امدادی افعال اور افعال ناقصہ کو بڑی ہنر مندی سے برتا ہے۔ اسی طرح ان کی شاعری میں خوف صرف ایک لفظ نہیں اور نہ ہی ڈر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے، بل کہ قدم قدم پر سوچنے اور سمجھوتے کا نام ہے۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے نحوی واحدوں کا استعمال ان کی شاعری کی خوب صورتی ہے۔ وہ مابعدجدیدیت اور جمالیاتی رجحانات میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

کلاسیکی ادب کے مطالعے نے اگر ان کو کلاسیک نہیں بنایا تو کم از کم کلاسکیت کی گونج کا ذریعہ ضرور بنایا ہے۔ دوسری طرف اگر اس مدہم گونج نے شہاب صاحب کو بلوچستان کا نمائندہ شاعر بھی نہیں بنایا تو کم از کم ان کے ہونے کا احساس ضرور دلایا ہے اور اصل بات شعر و شاعری کرنے کی نہیں، بل کہ اپنی ذات کا اثبات ہے۔

شہاب صاحب نے شعر و شاعری کرکے نہ صرف اپنے ہونے کا ثبوت دیا ہے، بل کہ اپنے پیچھے "چیزے دیگرے" چھوڑنے کا انتظام بھی کیا ہے۔

Check Also

Pir Bazar Ki Pirnian

By Azhar Hussain Azmi