Meri Zindagi Meri Marzi (3)
میری زندگی میری مرضی (3)

فرض کریں راستے میں ایک لاوارث بیگ پڑا ہوا ہے۔ جس کا کوئی مالک نہیں کوئی خاندان نہیں والدین نہیں۔ سوچیں لوگ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ سب سے پہلے تو وہ بیگ کو اٹھائیں گے۔ کھولیں گے۔ اس کی تلاشی لیں گے چیک کریں گے کہ وہ بیگ ان کے کام کا ہے یا نہیں۔ اگر تو ان کے کام کا ہے اور ان کی ضروریات کے مطابق ہے تو وہ اسے استعمال کریں گے۔ اگر وہ ان کے فائدے کا نہیں اور ان کی ضرورت پوری نہیں کرے گا تو لوگ اس کو کچرے میں پھینک دیں گے۔ یا پھر سڑک پر ہی لاوارث چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
لاوارث بیگ دیکھ کر کوئی اسے ٹھوکر مارے گا کوئی اسے پھاڑ دے گا کوئی اسے پھینک دے گا یا پھر اس بیک کا وجود ہی ختم کر دے گا۔ بیگ کا وجود ہی ختم کر دیں گے لوگ اگر وہ ان کی ضرورت کے مطابق نہیں اگر اس بیک کا کوئی مالک نہیں۔ اب ذرا سوچیں اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے اس بیگ کی جگہ آپ ہو یا میں ہوں تو جس کا کوئی خاندان نہیں جس کا کوئی والی وارث نہیں جس کو کوئی روکنے والا نہیں جس کو کوئی ٹوکنے والا نہیں لوگوں کو تو چھوڑیں سوچیں اگر ہمارا ہمارے نفس پر کنٹرول نہ ہو تو ہمارا کا نفس ہمارا کا کیا حال کرے گا؟ وہ ہم سے کتنے گناہ کروائے گا۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے ضمیر کی آواز ہم سے چھین لے گا۔ اگر ہم نے یہ جملہ کہنا ہی ہے میری زندگی میری مرضی تو پھر اس کے ذمہ داری بھی خود لیں صرف ایک گھنٹہ صرف ایک گھنٹہ سوچیں کہ آپ کا وجود آپ کا عمل آپ کا بولنا آپ کا ہنسنا کیا دوسروں پر اثر انداز نہیں ہوتا کیا؟ کیا ہماری وجہ سے معاشرے میں اچھی مثال قائم ہو رہی ہے؟ کیا ہم معاشرے کے لیے ایک بری مثال تو ثابت نہیں ہو رہے؟ اگر ہم نے اپنی مرضی کرنی ہی ہے تو ایک بار ان ساری چیزوں کے بارے میں ہمیں ضرور سوچنا چاہیے۔ اگر ہم سوچیں گے نہیں۔ اگر ہم سمجھیں گے نہیں۔ اپنی مرضی کریں گے۔ تو ہم ایک سمجھدار انسان نہیں ہیں۔
میں کیوں سوچوں میں لوگوں کا کیوں سوچوں۔ میں گھر والوں کا کیوں سوچوں۔ میں آنے والی نسلوں کا کیوں سوچوں، میں نے آنے والی نسلوں کو جواب نہیں دینا ہے میں نے والدین کو جواب نہیں دینا ہے۔ میں نے لوگوں کو جواب نہیں دینا ہے۔ میں نے اپنا جواب اپنے رب کو دینا ہے تو میں لوگوں کو ثابت کیوں کروں۔ مجھے نہیں ضرورت کسی انسان کی۔ سچ میں کیا مجھے اور آپ کو ضرورت نہیں انسانوں کی اپنوں کی ضرورت نہیں۔ سچ میں ذرا سوچیں چار انسانی کندھوں کے بغیر میں اور آپ کیا قبر میں پہنچ جائیں گے۔ کیا ہم خود کفن پہن سکتے ہیں؟ کیا ہم خود کو خود غسل دے سکتے ہیں۔ اگر ہم خود کو خود غسل نہیں دے سکتے خود کو کفن نہیں پہنا سکتے تو پھر ہم یہ کیسے بول سکتے ہیں؟ میری زندگی میری مرضی۔
یہاں پہ میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ آپ لوگوں کی خوشامد کرنا شروع کر دیں۔ بس یہ کہنا چاہ رہی ہوں اللہ نے جو انسانوں کے حقوق لگائے ہیں ان کو ادا کریں اور اس لالچ میں نہیں کہ ہمیں ان سے کچھ چاہیے اس لالچ میں کہ اللہ ہمیں اس کا اجر دے گا۔
مجھے اور آپ کو قبر میں اترنے کے لیے بھی اپنے چار محافظوں کے کندھوں کی ضرورت ہے۔ ایک عزت دار قبر حاصل کرنے کے لیے بھی اپنے محافظ والد، بھائی، شوہر اور بیٹے کی ضرورت ہے۔ اگر آج ہم ان کی عزت کا خیال کریں گے۔ تو کل ہمیں عزت والی قبر حاصل ہوگی۔ قبر میں عزت کے ساتھ اتارا جائے گا۔ ہمارے لیے کوئی تو فاتحہ پڑھنے والا ہوگا۔ اگر ہم زندگی کو اللہ کی رضا اور اپنوں کے لیے گزارے اور دوسروں کے لیے فائدے مند ثابت ہو تو یقین کریں اللہ تعالی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی بڑھا کر دیتا ہے ہمیں عزت دار قبر ملے گی ہمیں کفن بھی نصیب ہوگا۔
اب یہ فیصلہ آپ کا اپنا ہے کہ آپ نے اپنے والدین کی دعاؤں کے ساتھ اور ان کے سائے اور شفقت کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ یا انہیں ناراض کر کر اپنی مرضی کرکے اپنے لیے پچھتاوے اکٹھے کر کر زندگی گزارنی ہے۔ یہ فیصلہ صرف اور صرف آپ کا ہے۔ ہمیں تو اس دنیا میں انے سے لے کر اس دنیا سے جانے تک والدین کی اپنوں کی جنہیں ہم کہتے ہیں نا لوگ ان لوگوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہمارا نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بھی لوگوں کی ضرورت ہے اپنی محافظوں کی ضرورت ہے۔ ایک حدیث میں اتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس مسلمان کی وفات ہو جائے اور اس کے جنازے پر چالیس ایسے لوگ نماز جنازہ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش اس کے حق میں قبول فرما لیتا ہے"۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، حدیث 2199)
کس نے کہا؟ یہ بات نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے۔ اس بات کو غور سے پڑھیں فرمایا کس نے ہیں نبی کریم ﷺ نے جو کہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے اور ان کی کہی ہوئی ہر بات سچ ہے اس میں تو شک ہی نہیں۔
راوی: حضرت عبداللہ بن عباسؓ
صحیح مفہوم
بیان میں بعض لوگ اسے اس طرح کہتے ہیں کہ "جس کا جنازہ زیادہ لوگ پڑھ لیں وہ جنتی ہو جاتا ہے"۔
لیکن حدیث کا اصل مطلب یہ ہے: اگر 40 مخلص مسلمان جنازہ پڑھیں اور وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے ہوں تو اللہ ان کی سفارش (دعا) قبول فرما لیتا ہے۔ یعنی مغفرت اور رحمت کی امید ہوتی ہے۔
اب آپ بتائیں کیا ہمیں اپنوں کی ضرورت نہیں کیا؟ ہماری زندگی میں ایسے 40 لوگ موجود ہیں۔ اپنے رشتے مضبوط کریں۔ ہم نے اپنا جواب اللہ کو ہی دینا ہے۔ لیکن اللہ تعالی بھی فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کے حقوق ادا کرنا تم پر فرض ہے۔ اللہ کے بندوں کو ان کا حق دیا جائے۔ اگر آپ اپنے فرض پورے کر رہے ہیں تو اپنا حق لینا آپ کا حق بنتا ہے۔ لیکن تب جب آپ اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔ اگر آپ دوسروں کو ان کا حق دے رہے ہیں تو یقین کریں آپ کو آپ کا حق ضرور ملے گا۔ پھر آپ کہہ سکتے ہیں میری زندگی میری مرضی۔
میری زندگی مگر میرے رب کی مرضی میرے اپنے رب کی رضا میں راضی ہوں کا سفر اختیار کر لیں زندگی آسان ہو جائے گی اور زندگی کا ہر فیصلہ میری زندگی میری مرضی سے نہیں قدرت کے اصولوں اللہ کے حکم اور سنت رسول کے مطابق کریں۔ تاکہ ہماری یہ دنیا بھی آسان ہو اور ہماری آخرت بھی آسان ہو جائے۔ میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتوں سے نوازے اور ہمیں جہنم کی اگ سے محفوظ رکھے۔
میرا مقصد بھی یہی ہے کہ اللہ مجھے اللہ کی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا کرے اور میں مخلوق خدا کے لیے آسانیاں پیدا کر سکوں۔ اللہ تعالی میرے لیے اور آپ کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ہمیں انسان ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بننے کی بھی توفیق عطا کرے۔ خوش رہیں خوشیاں بانٹیں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے اسانیاں پیدا کرکے جائیں۔ اب ہمارے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ہمیں فرق نہیں پڑنا چاہیے لیکن جب ہم چلے جائیں گے تب لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے ہمیں اس کی فکر ضرور کرنی چاہیے۔

