Wednesday, 01 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Meri Zindagi Meri Marzi (2)

Meri Zindagi Meri Marzi (2)

میری زندگی میری مرضی (2)

میری شادی کا والدین کی عزت اور آنے والی نسلوں سے کیا تعلق ہے؟ تعلق تو ہے وہ بھی بہت مضبوط تعلق۔ کیا صرف لوگ آپ کو آپ کے نام سے ہی جانتے ہیں؟ کیا آپ کے شناختی کارڈ پر صرف آپ کا ہی نام موجود ہے؟ کیا جس گھر میں آپ رہ رہے ہیں وہاں کے بجلی کا بل گیس کا بل صرف آپ کی جیب سے ہی ادا ہوتا ہے۔ اگر آپ لڑکی ہیں تو کیا آپ پرسکون نیند نہیں سوتی اس گھر میں جو آپ کے والدین کا ہے۔ اب اس پر بہت سی لڑکیاں یہ کہیں گی کہ لڑکیوں کا تو کوئی گھر ہوتا ہی نہیں۔ اگر حقیقت دیکھی جائے تو لڑکوں کا بھی کوئی گھر نہیں ہوتا۔ مکان ہوتا ہے۔ اس مکان کو ایک کردار گھر بناتا ہے جس میں پیار محبت صبر برداشت اور سب کو لے کے چلنے کی ہمت ہو وہ مکان کو گھر بناتا ہے۔

اس مکان کو ایک تربیت یافتہ عورت مکان کو گھر عورت بناتی ہے۔ ایک لڑکی بناتی ہے۔ اس ٹاپک پہ پھر کبھی بات کریں گے۔ آپ کی ذات کا بہت گہرا تعلق ہے والدین کی عزت کو قائم رکھنے میں دوسری لڑکیوں کے لیے اسانیاں پیدا کرنے میں۔ جب کوئی لڑکی اچھا کام کرتی ہے تو وہ پوری دنیا کی لڑکیوں کے لیے اسانیاں پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی لڑکا اچھا کام کرتا ہے تو وہ لڑکوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور جب کوئی لڑکی وقتی جذبات میں آ کر برا کام کرتی ہے جیسے خود خوشی گھر سے بھاگ کر شادی کرنا وغیرہ۔ وہ نہ صرف خود کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ اپنے والدین کی عزت خاندان کی عزت اور معاشرے کی عزت بھی تباہ کر دیتی ہے اور اپنے جیسی پتہ نہیں کتنی لڑکیوں کے لیے مشکلات پیدا کرکے چلی جاتی ہے اور اس کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہوتی۔

ان لڑکیوں کے خوابوں زندگی کے مقاصد ان کی ازادی اور ان کے زندہ ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے قبر خود کر جاتی ہیں۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے آپ نے کس لڑکی کے کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ اس کو جو دوسروں کے لیے اسانیاں پیدا کرتی ہے یا جو دوسروں کے لیے مشکلات کھڑی کرتی ہے۔ یہ فیصلہ آپ کا ہے کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں نا میری زندگی میری مرضی۔ اب اس میں غلطی صرف اور صرف لڑکے یا لڑکی کی نہیں۔ اس غلط راستے کو اختیار کرنے پر مجبور کرنے والی مخلوق ہمارے والدین ہیں۔ جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو ٹھیک سے سمجھا ہی نہیں۔ جنہوں نے بچے کے بدلتے ہوئے رویے کو نوٹ ہی نہیں کیا کبھی۔ جنہوں نے بچے کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے بڑھنے والے جذبات کا خیال ہی نہیں رکھا۔

بچے پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ مگر شک کے ساتھ نہیں دوستی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے نظر رکھیں۔ کیونکہ کل آپ سے بھی سوال کیا جائے گا کہ کیا آپ جانتے تھے آپ کا بچہ کیا کرتا ہے کیا نہیں۔ بچے کو قابو میں رکھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اسے آزادی دی لیکن اتنی جتنی ضرورت ہے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی رہنمائی کرتے رہیں یہ بہت ضروری ہے۔ اب ہمارے والدین کرتے کیا ہیں جہاں بچے کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے وہاں سختی کر جاتے ہیں اور جہاں سختی کرنی چاہیے وہاں نرمی کر جاتے ہیں۔

اب سارا والدین کو قصوروار کہنا تو اچھی بات نہیں ہے نا انہوں نے تو اپنی عقل کے مطابق جتنا بہتر سمجھا ہمارے لیے کیا اب ہم اس قابل ہو گئے ہیں۔ کہ اپنی زندگی کے فیصلوں کو سوچ سمجھ کر اور بڑوں کے مشوروں کے ساتھ کریں۔ چلیں والدین نے تو ہمارے ساتھ غلط کیا ہی کیا۔ کیا جو اب ہم کر رہے ہیں وقتی جذبات میں آکر غلط راستے کا انتخاب وہ درست ہے؟ والدین اور خاندان کی عزت کو چھوڑیں۔ کیا ہم اپنی عزت کی حفاظت کر رہے ہیں؟

Check Also

Sohail Ahmad Par Gustakhi Ka Ilzam Ya Propaganda?

By Muhammad Riaz