Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Meri Zindagi Meri Marzi (1)

Meri Zindagi Meri Marzi (1)

میری زندگی میری مرضی (1)

زندگی اور ہمارے اعمال دوسروں پر اثر نہیں ڈالتے؟ کیا ہمارا ہر فیصلہ ہم تک ہی محدود ہوتا ہے؟ اس کا جواب بہت آسان ہے نہیں۔ ہمارے اعمال اور ہمارے فیصلوں کا اثر والدین خاندان معاشرے اور ساتھ ہی ساتھ انے والی نسلوں تک اثر ڈالتے ہیں۔ ہر بچہ جب اس دنیا میں اتا ہے وہ صرف ایک وجود نہیں ہوتا بلکہ اس کے والدین کی بے شمار امیدوں اور خوابوں کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ ماں کی گود سے لے کر جوانی تک کا سفر بچوں کا اپنا نہیں ہوتا۔

اس سفر میں والدین کی بے شمار قربانیاں شامل ہوتی ہیں۔ والدین اپنی بے شمار ضروریات اور خواہشات قربان کرتے ہیں۔ مگر اپنے بچوں کی ضروریات اور تعلیم و تربیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔ جب بچے جوان ہوتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا بری بات نہیں۔ زندگی کے فیصلے خود کرنے کے لیے اس قابل ہونا بھی ضروری ہے کہ آپ کا تجربہ اور پھر آپ میں صحیح غلط میں فرق کرنا اور ہار جیت کو برداشت کرنے کی ہمت ہو پھر آپ اپنی زندگی کا فیصلہ کریں تو بری بات نہیں۔

ہمارے والدین یا بڑے اگر ہمیں کسی چیز سے منع کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ اور تجربہ شامل ہوتا ہے۔ بس فرق یہ ہوتا ہے انہیں وہ چیز سمجھانی یا بتانی نہیں آرہی ہوتی یا اس وقت ہم خود سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے اور یہ جملے بولتے ہیں۔ میری زندگی میری مرضی یہ بات ٹھیک ہے۔ ہر انسان کو اپنی زندگی جی نے کا حق حاصل ہے۔ مگر اس حق کو درست طریقے سے استعمال کریں۔ یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا یہ حق صرف اور صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا درست ہے؟ کیا اس حق کے استعمال میں جائز اور ناجائز میں فرق کرنا ضروری نہیں؟

انسان کا ہر فیصلہ اس کی ذات تک محدود نہیں ہوتا۔ اس لیے زندگی کا کوئی بھی بڑا فیصلہ چاہے وہ آپ کی زندگی کا مقصد ہو چاہے وہ شادی کا فیصلہ ہو چاہے وہ آپ نے کوئی نیا بزنس شروع کرنا ہو کوئی بھی فیصلہ بغیر سوچے سمجھے نہ کریں۔ شادی کی بات کریں تو ہمارے معاشرے میں شادی صرف دو لوگوں میں نہیں بلکہ دو خاندانوں کا رشتہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ شادی کا فیصلہ صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک خاندانی اور نسلی شخص کا انتخاب کرکے کیا جائے۔ ہمارے ذہن میں سوال پیدا ہوگا؟ خاندانی اور نسلی شخص کا انتخاب کرنا کیوں ضروری ہے؟

انسان اچھا ہونا چاہیے نسل سے کیا فرق پڑتا ہے۔ فرق پڑتا ہے نسلی شخص کا انتخاب اس لیے ضروری ہے کیونکہ خاندانی اور قابل اعتماد انسان اور باعزت گھرانے سے ہو تو اس کے اندر حیا اچھے اخلاق اور مضبوط کردار احترام برداشت اور ذمہ داری جیسی خوبیاں بچپن سے ہی موجود ہوتی ہیں۔ یہ خوبیاں ازدواجی زندگی کے لیے بہت اہم ہیں۔ اچھی نسل کے شخص کا انتخاب نہ صرف آپ کے لیے بلکہ انے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔ لوگ تو جانور بھی اچھی نسل کے پالتے ہیں تاکہ وہ قابل اعتبار ہو اور ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں اور ان کی نسلوں کی بھی حفاظت کرے۔

آپ کا ایک شاندار انتخاب آپ کے ساتھ ساتھ انے والی نسلوں کے لیے بھی شاندار مستقبل کی نشانی ہے۔ زندگی میں کسی کا پسند آ جانا اور اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا بری بات نہیں۔ لیکن ہاں اس کے لیے غلط راستہ اختیار کرنا غلط ضرور ہے۔ شادی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔ نکاح ہمارا ایمان مکمل کرتا ہے اور ایمان کتنا ضروری ہے یہ ہم سب بہت اچھے سے جانتے ہیں۔ شادی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔ یہ صبر و تحمل برداشت محبت اور ذمہ داری کا کام ہے۔ اس کو جلد بازی میں نہ کریں۔ شادی پسند کی ہی کرنی چاہیے لیکن اس میں صحیح اور غلط کا خیال رکھا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے مستقبل والدین کی عزت اور انے والی نسلوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے بلکہ اہم ہے۔

میری زندگی میری مرضی کا یہ حصہ اول ہے پھر ملاقات ہوگی حصہ دوم کے ساتھ اس کو پڑھیں سمجھیں اور سمجھیں کیونکہ یہ سمجھنا میرے لیے آپ کے لیے نوجوانوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ میری زندگی میری مرضی کا حصہ اول پڑھ کے آپ نے کیا سیکھا یا آپ اس سے کتنا اتفاق رکھتے ہیں مجھے اس سے اگاہ ضرور کیجئے گا میرا کالم پڑھنے کا اور مجھے اپنا وقت دینے کا بہت شکریہ۔ اللہ تعالی ہمیں عزت والی شناخت عطا کرے۔

Check Also

Israel Ke Siyah Fam Yahoodi

By Wusat Ullah Khan