Islah Usi Ki Karen Jisko Zaroorat Hai
اصلاح اسی کی کریں جس کو ضرورت ہے

ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے عزیز اور دوست اپنی غلطیوں کو سمجھیں اور بہتر بنیں۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی کی غلطی کو درست کروانا چاہتے ہیں، مگر ڈرتے ہیں یا محبت کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں۔
وہ شخص ہمارے لیے عزیز ہوتا ہے اور ہمیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں تعلق خراب نہ ہو، یا وہ غصہ نہ ہو جائے، یا ہماری عزت نفس پر ضرب نہ لگے۔ اسی خوف کی وجہ سے ہم اکثر دوسروں کے سامنے بات کر لیتے ہیں یا خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور نتیجتاً تعلق میں تھوڑا تھوڑا فاصلہ آجاتا ہے۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم براہِ راست اس شخص سے، نرمی، محبت اور اخلاق کے ساتھ بات کریں۔ کسی دوسرے کے ساتھ بات کرنے سے نہ صرف اثر کم ہوتا ہے، بلکہ رشتے بھی کمزور ہو سکتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا ایک واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے۔ ایک صحابی کسی غلطی میں مبتلا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے نہ اسے دوسروں کے سامنے تنقید کی، نہ غصے میں بات کی، بلکہ محبت، حکمت اور نرمی کے ساتھ اسے سمجھایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صحابی نے اپنی عادت درست کی اور تعلق مضبوط رہا۔
یہ اصول آج بھی ہماری زندگیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ چاہے سامنے والا شخص ہمارے لیے عزیز ہو یا سخت مزاج ہو، اصلاح ہمیشہ براہِ راست، نرمی اور حکمت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یہی طریقہ رشتوں کو مضبوط بناتا ہے، دلوں میں خوشی پیدا کرتا ہے اور اختلافات کے بیچ پل باندھتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گی جو ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا بہتر ہو، اسے ڈر یا خوف کی وجہ سے نہ چھوڑیں۔ آپ اس کی بری عادت کو ٹھیک کرنے میں اس کی مدد کریں پیار محبت اور اخلاق کے ساتھ اسے اگاہ کریں کہ وہ اس معاملے میں غلط ہے یا اس وقت وہ غلطی پر ہے۔ ہمارا سب سے بہتر دوست وہ نہیں جو غلط پر ہمارا ساتھ دے بلکہ وہ ہے جو غلط پر ہمیں ڈانٹے ہمیں سمجھائے اور ہماری اصلاح کرے۔ دوسروں کی اصلاح ضرور کریں لیکن ادب کے دائرے میں رہ کر اور یاد رکھیں ہر بندے نے اپنی عقل کے مطابق لینا ہے۔ اس لا ضرور کریں لیکن زیادہ امید نہ رکھیں آپ نے اپنا فرض پورا کیا اور اس فرض کا اجر اللہ کی ذات آپ کو ضرور دے گی۔
صحیح اصلاح ہمیشہ اسی کی کریں جس کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ جسے آپ سکھانا چاہتے ہیں۔ یہی حقیقی طاقت ہے: نرمی، پیار اور سمجھداری سے اصلاح کرنا، نہ کہ سختی یا خاموشی سے تعلق کھو دینا۔
اصلاح کے بارے میں حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الدِّينُ النَّصِيحَةُ" (صحیح مسلم، حدیث 55)
ترجمہ: "دين اصلاح اور نیک نصیحت پر قائم ہے۔
یہ حدیث بھی ہمیں یہی سکھاتی ہے۔ دین کا اصل حصہ نرمی اور محبت کے ساتھ اصلاح کرنا ہے۔ جو ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بہتر ہو، اسے براہِ راست اور نرمی کے ساتھ نصیحت کرنا ضروری ہے۔ یہ تعلقات کو مضبوط بھی رکھتا ہے اور دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔
دوسروں کی اصلاح ضرور کریں مگر انہیں شرمندہ نہ کریں۔ اصلاح کرنے اور شرمندہ کرنے میں زمین اسمان کا فرق ہے۔ اللہ تعالی ہمیں ہمارے فرائض کو ایمانداری سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم یہاں پر میں اتفاق کے ساتھ رہنے کی بھی توفیق عطا کرے۔

