Brain Drain Ya Brain Gain?
برین ڈرین یا برین گین؟

پاکستان کی معاشی تاریخ میں انسانی وسائل کی بیرون ملک منتقلی ہمیشہ ایک بحث طلب موضوع رہا ہے۔ حال ہی میں حکومتی ایوانوں میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جہاں اس رجحان کو "برین ڈرین" (ذہانت کا انخلا) کے بجائے "برین گین" (ذہانت کا حصول) کی نئی اصطلاح سے نوازا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پرواز کارڈ کا اجرا، ہنرمندوں کے لیے 3 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے اور سکل انفارمیشن سسٹم کا قیام اس حکومتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کو بوجھ کے بجائے ایک متحرک معاشی قوت بنایا جائے۔
بلا شبہ کسی بھی حکومتی عہدیدار کا یہ عزم کہ نوجوانوں کو مفت کی روٹی توڑنے کا طعنہ نہ سننا پڑےایک مثبت تڑپ ظاہر کرتا ہے لیکن معاشی اشاریوں کا گہرا تجزیہ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ وزارتِ سمندر پار پاکستانی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی روزگار کی تلاش میں دیارِ غیر سدھارےجو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ بیورو آف امیگریشن اسے نظام کی بہتری اور سہولت کاری کا نتیجہ قرار دے رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کا بہترین ٹیلنٹ یہاں مواقع نہ ہونے، عدل و انصاف کے فقدان اور معاشی جبر اور مستقبل سے نا امید ہوکر ہجرت پر مجبور ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی اصل دولت سونا یا ڈالر نہیں بلکہ ان کے ذہین لوگ ہوتے ہیں۔ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں البرٹ آئن اسٹائن، نکولا ٹیسلا اور ایلون مسک جیسے تارکین وطن نے پہنچ کر اس معاشرے کی تقدیر بدل دی۔ جب کسی معاشرے سے بہترین دماغ نکل جاتے ہیں تو وہاں پیدا ہونے والا خلا اکثر نااہل لوگ پُر کرتے ہیں جس کا نتیجہ بالآخر پالیسیوں کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں ترسیلاتِ زر 19.7 بلین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال سے 11 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ رقوم معیشت کو عارضی آکسیجن تو فراہم کر سکتی ہیں لیکن کوئی بھی غیرت مند قوم صرف دوسروں کی بھیجی ہوئی رقم ترسیلات زر پر اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں برآمدِ ہنر (Export of Talent) کے بجائے برآمدِ خدمات (Export of Services) پر توجہ دینی ہوگی۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک نوجوان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بجائے اسے اپنے ہی گھر میں بیٹھ کر عالمی مارکیٹ سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ فری لانسنگ، آئی ٹی سیکٹر اور ای کامرس وہ شعبے ہیں جہاں ہم اپنے ٹیلنٹ کو بہتر ماحول، تیز رفتار انٹرنیٹ اور سازگار پالیسیاں دے کر اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔ جب ہمارا نوجوان پاکستان میں رہ کر بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کام کرے گا تو اس سے نہ صرف قیمتی زرِ مبادلہ آئے گا بلکہ ملک کے اندر ایک مضبوط معاشی نظام پروان چڑھے گا۔ تعلیمی اصلاحات جو نوجوانوں کو انٹرپنیورشپ کی طرف راغب کریں اور ملک میں چھوٹے کاروبار کے لئے حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔
قومی ترقی کا خواب تب تک ادھورا رہے گا جب تک ہم ہر شعبے میں بہترین ماہرین اور بلند پایہ انجینئرز پیدا کرنے کی طویل مدتی پالیسی نہیں بناتے۔ ہمیں صرف ورکرز تیار کرکے باہر نہیں بھیجنا بلکہ ایسے ایکسپرٹس پیدا کرنے ہیں جو ملک کے اندر صنعت و حرفت میں انقلاب برپا کر سکیں۔ شارٹ ٹرم ریلیف کے لیے ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے کے بجائے ہمیں تحقیق اور تخلیق (R&D) کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ برین ڈرین کو برین گین کہہ دینے سے معاشی سمت درست نہیں ہوگی۔
قوموں کی اصلاح تب ہوتی ہے جب وہ اپنی غلطیوں پر تفکر کریں، نہ کہ ہٹ دھرمی سے اپنے نقصانات کو فتوحات ثابت کریں۔ ہمیں ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھنی ہوگی جہاں کا نوجوان پرواز کارڈ لے کر باہر جانے کے بجائے اپنے ہی ملک کی تعمیر و ترقی میں پرواز کرنے کو ترجیح دے۔ اگر ہم نے اپنے ہیروں کو اپنی کانوں میں جگہ نہ دی تو وہ دوسرے ملکوں کے تاج کی زینت بنتے رہیں گے اور ہم صرف ڈالر گنتے رہ جائیں گے۔

