Zameer Ka Sipahi
ضمیر کا سپاہی

یہ تاریخ کا وہ سیاہ باب تھا جب بوسنیا ہرزیگووینا کی وادیوں میں اذان کی صداؤں کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے دبا دیا تھا، جب سربرینیتسا کی مٹی انسانیت کے خون سے تر ہو رہی تھی اور مہذب دنیا کے ایوانوں میں لفظوں کی نمائش جاری تھی۔ سربرینیتسا (Srebrenica) دراصل مشرقی بوسنیا ہرزیگووینا میں واقع ایک قصبہ ہے۔ یہ مقام جولائی 1995 میں ہونے والے ایک ہولناک قتلِ عام کی وجہ سے تاریخ میں انتہائی دردناک علامت بن گیا۔
یہاں کیا ہوا تھا؟ یہاں Srebrenica Massacre کے نام سے معروف اس سانحے میں بوسنیائی سرب افواج نے تقریباً آٹھ ہزار سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کو چند ہی دنوں میں قتل کر دیا۔ یہ علاقہ اُس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے "محفوظ علاقہ" قرار دیا گیا تھا اور وہاں ڈچ امن فوج تعینات تھی، مگر وہ شہریوں کو بچانے میں ناکام رہی۔
اسے کیوں اہم سمجھا جاتا ہے؟ اس لیے کہ یہ یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا اجتماعی قتلِ عام تھا۔ بین الاقوامی عدالتوں نے اسے نسل کشی قرار دیا۔
عالمی ضمیر ایک رسمی سوگ میں مبتلا تھا، بیانات تھے، قراردادیں تھیں، مذمتی تقاریر تھیں، مگر وہ ہاتھ نہ تھے جو ظلم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے۔ اسی زمانے میں ایک نام ابھرتا ہے، جاوید ناصر۔ ایک ایسا شخص جس نے تاریخ کے اس موڑ پر یہ ماننے سے انکار کیا کہ حق کی حفاظت صرف قراردادوں اور پریس کانفرنسوں سے ہو سکتی ہے۔ اس کے نزدیک حق کی آبرو عمل کے چراغ سے روشن ہوتی ہے اور اگر دنیا کے ایوان خاموش ہو جائیں تو بھی ایک فرد کی جرات تاریخ کا دھارا موڑ سکتی ہے۔ وہ شخص ریاستی عہدے پر فائز تھا، مگر اس کی شناخت عہدے سے بڑی تھی، وہ اپنے عہد کا ایک اخلاقی سوال تھا، کیا مظلوم کو اس کے حال پر چھوڑ دینا ہی سیاست ہے، یا سیاست کے سینے میں بھی کبھی ضمیر دھڑکتا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ اس دور میں اقوام متحدہ کی جانب سے عائد اسلحہ پابندی نے مظلوم اور ظالم کو کچھ اس حال میں لا کھڑا کیا تھا، کہ حملہ آور کے پاس تو اسلحہ رہے اور مدافع کے ہاتھ بندھے رہیں۔ ایسے میں جاوید ناصر نے اس بند دروازے پر دستک دی جسے عالمی مصلحتوں نے مقفل کر رکھا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک خفیہ حکمتِ عملی کے تحت دفاعی سازوسامان بوسنیائی مجاہدین تک پہنچا، جس میں ٹینک شکن ہتھیار اور جدید نظام شامل تھے اور یوں جنگ کی بساط پر ایک نئی چال چلی گئی۔ اس اقدام نے محض عسکری توازن نہیں بدلا، اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ کبھی کبھی قانون کی خشک عبارت سے اوپر ایک اخلاقی متن بھی ہوتا ہے، جسے تاریخ اپنی روشنائی سے لکھتی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستیں صرف معاہدوں کی پابند ہوتی ہیں یا وہ اپنے ضمیر کی بھی پابند ہو سکتی ہیں؟ اس سوال کا جواب شاید اسی جرات میں پوشیدہ ہے جس نے خاموشی کو توڑا اور دنیا کو یہ بتایا کہ بے بسی کوئی تقدیر نہیں، اگر ارادہ زندہ ہو۔
اس پس منظر میں سعودی عرب کی مالی معاونت کا ذکر بھی آتا ہے، جس نے اس تعاون کو عملی صورت دینے میں مدد دی۔ یہ تعاون محض جغرافیہ کا نہیں تھا، یہ ایک ایسی ہم آہنگی تھی جس میں خون، عقیدہ اور انسانی ہمدردی ایک لڑی میں پروئے گئے۔ جولائی 1995 میں جنیوا کے ایک اجلاس میں پاکستان نے اس پابندی کو غیر منصفانہ قرار دیا اور اُس وقت کے صدر فاروق لغاری نے مغربی دنیا کی "استرضائی پالیسی" پر تنقید کی۔ یہ الفاظ سفارتی آداب کے دائرے میں تھے، مگر ان کے پیچھے ایک بے چین ضمیر کی گونج سنائی دیتی تھی۔ بعد ازاں امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی اور 1995 کا سال ایک ایسے اختتام پر منتج ہوا جس نے جنگ کی آگ کو سرد کیا۔ یہ کہنا شاید مبالغہ ہو کہ ایک ہی اقدام نے سب کچھ بدل دیا، مگر یہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی کہ جرات مند فیصلے تاریخ کے توازن میں وزن نہیں رکھتے۔ کبھی کبھی ایک قدم، چاہے وہ پردوں کے پیچھے ہی کیوں نہ اٹھایا جائے، آنے والے برسوں کی سمت متعین کر دیتا ہے۔
پاکستان نے صرف پردۂ خفا میں کردار ادا نہیں کیا، امن مشنز میں شمولیت کے ذریعے اپنے فوجیوں کو بھی وہاں تعینات رکھا، جہاں خوف اور بے یقینی روزمرہ کی حقیقت تھی۔ یہ ایک پیچیدہ منظرنامہ تھا۔ سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی، عالمی قانون اور انسانی ہمدردی، سب ایک دوسرے میں گندھے ہوئے۔ برسوں بعد بھی مختلف عالمی حلقوں میں اس کردار پر بحث ہوتی رہی، سوال اٹھتے رہے اور قانونی و اخلاقی زاویوں سے اس کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ مگر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہی کہ جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حساب کتاب میں مصروف تھیں، تب ایک ریاست اور اس کے ایک عہدیدار نے اپنے انداز میں یہ پیغام دیا کہ ظلم کے مقابل کھڑا ہونا بھی سیاست کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ کے صفحات ہمیشہ سادہ نہیں ہوتے، وہ تضادات سے بھرے ہوتے ہیں اور انہی تضادات میں انسان کے اصل قد کا اندازہ ہوتا ہے۔ 16 اکتوبر 2024 کو 87 برس کی عمر میں جب جاوید ناصر اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بارے میں رائے مختلف ہو سکتی تھی، مگر یہ ماننا پڑا کہ انہوں نے اپنے عہد کے ایک نازک سوال پر خاموش رہنے سے انکار کیا تھا۔
آج جب ہم اس داستان کو پلٹ کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ محض طاقت کے ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی، وہ کبھی کبھی اُن دلوں میں بھی لکھی جاتی ہے جو بے خواب راتوں میں کسی دور دراز وادی کی چیخیں سنتے ہیں۔ بوسنیا ہرزیگووینا کی جنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عالمی نظام کی پیچیدگیوں کے باوجود انسان کا اخلاقی اختیار باقی رہتا ہے۔
یہ کالم کسی فرد کو تقدیس کے مقام پر بٹھانے کے لیے نہیں، بلکہ اس سوال کو زندہ رکھنے کے لیے ہے کہ جب ظلم اور مصلحت آمنے سامنے ہوں تو ایک باوقار قوم اور اس کے نمائندے کیا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق کی حفاظت کبھی آسان نہیں رہی، مگر وہ لوگ جو آسانی کے بجائے سچ کا انتخاب کرتے ہیں، وقت کے شور میں بھی اپنی گواہی محفوظ رکھ لیتے ہیں اور آخرکار، یہی گواہی آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بنتی ہے۔ کہ اگر ارادہ زندہ ہو تو خاموشی بھی ٹوٹ سکتی ہے اور اگر ضمیر بیدار ہو تو دنیا کی سرد مہری بھی کسی ایک شخص کے عزم کو منجمد نہیں کر سکتی۔
یہ تحریر ایک تاریخی واقعے کے تناظر میں اخلاقی جرات، ریاستی فیصلوں اور انسانی ضمیر کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک ادبی کوشش ہے۔
خونِ مظلوم سے لکھی گئی تاریخ بھی ہے
خامشی چیخ بنے، ایسی روایت بھی ہے
ایک فرد اُٹھے تو بدل جاتے ہیں موسم
ہاتھ خالی سہی، سینے میں تو حرارت ہے
صلح کی راہ میں کچھ لوگ چراغاں ٹھہرے
ورنہ ہر سمت اندھیروں کی حکومت ہے
نام رہ جاتے ہیں کردار کی خوشبو بن کر
وقت کے پاس یہی آخری حجّت بھی ہے

