Aalmi Aman Ka Naya Baab Aur Pakistan Ka Quaidana Kirdar
عالمی امن کا نیا باب اور پاکستان کا قائدانہ کردار

جنگ کے بادل جب آسمانِ سیاست پر گھنیرتے ہیں تو کبھی کبھی ایک چھوٹا سا ملک، اپنی حکمتِ عملی سے، ان بادل کو چیر کر امن کی کرنیں جھلملانے کا سبب بن جاتا ہے۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، تو پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ سفارتکاری کا فن صرف بڑی طاقتوں کی اجارہ داری نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو ہمسایوں کے تنازعات میں خود کو آگ میں نہیں جھونکتا بلکہ آگ بجھانے والا بن کر سامنے آتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقاتوں نے نہ صرف پاکستان نے مسلم ممالک ترکی، مصر اور سعودی عرب کو قائدانہ کردار کی بنیاد فراہم کی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک نئی ثالثی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ پاکستان نے اپنے کارڈز کو بہترین انداز میں کھیلا اور دنیا کو بتایا کہ امن کی راہ جنگ سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
تصور کیجیے ایک ایسے عالمی منظر نامے کو جہاں ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے بادل ہیں۔ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل ایک ایسا بدمعاش بن چکا ہے جو اپنی بقا کے لیے پورے خطے کو آگ میں جھونکنے پر تُلا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ بار بار اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کی افواج اپنی صلاحیت سے زیادہ دباؤ برداشت کر رہی ہیں۔ تنہا اسرائیل یہ طویل جنگ نہیں لڑ سکتا۔ اس کے پاس وہ ہوائی جہاز بردار بحری بیڑے (ایئر کرافٹ کیریئرز) نہیں جو امریکہ کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہونے ماضی میں جارج ڈبلیو بش، براک اوباما اور جو بائیڈن سے جنگ کی درخواست کی تھی، مگر تینوں نے انکار کر دیا۔ اب ٹرمپ دور میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ امریکی صدر، جو خود کو پسندیدہ راہنما سمجھتے ہیں، اپنی پاپولرٹی کو سب سے مقدم رکھتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز کی زد میں آنے والے دباؤ نے انہیں مجبور کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی ہر خواہش پر "yes sir" نہ کہیں۔
امریکہ کی عوامی رائے میں واضح اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے۔ ری پبلکن پارٹی خود محسوس کر رہی ہے کہ اگر ٹرمپ نے اس آگ میں کودا تو مڈ ٹرم الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس پیچیدہ کھیل میں چین نے ایک اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر کا مئی میں چین کا دورہ طے ہے اور بیجنگ چاہیے گا کہ یہ دورہ اس وقت ہو جب ایران پر کوئی بمباری نہ ہو رہی ہو۔ معاملہ پہلے ہی طے پا چکا ہو۔ ممکنہ طور پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ چین اس عمل کی کڑی ہو۔ کہ چین اب ضامن (گارنٹر) کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ روس بھی اس میں شامل ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، پاکستان، ترکی، مصر اور چین، سب مل کر ایک نئی گارنٹی کا ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں۔ یہ "پاکستان کی" سطح کی ضمانت نہیں بلکہ عالمی امن کی ایک مضبوط دیوار ہے جو جنگ کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے گی۔
پاکستان کی حالیہ کوششوں کو اگر ہم ادبی زبان میں بیان کریں تو یہ ایک ایسا شاہکار ہے جو "شطرنجِ سیاست" میں بادشاہت کا درجہ رکھتا ہے۔ سعودی عرب کا دباؤ تھا کہ پاکستان ایران کے خلاف ان کے دفاع میں کھڑا ہو جائے۔ مگر پاکستان نے سوچا ایران ہمارا ہمسایہ ہے، امریکہ سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں، چین ہمارا سب سے بڑا دوست اور معاشی پارٹنر ہے۔ کیا ہم ایک طرفہ جنگ میں کود کر اپنے تمام تر مفادات کو داؤ پر لگا دیں؟ جواب تھا: نہیں۔ بلکہ ہم ثالثی کا راستہ اختیار کریں گے۔ کیونکہ جو مذاکرات کروانے والا ہوتا ہے، وہ کسی کی طرف سے جنگ نہیں لڑتا۔
اسلام آباد میں ہونے والی ان ملاقاتوں نے تاریخ رقم کر دی۔ پاکستان، ترکی، مصر اور ایک سعودی عرب نے مسلم ممالک نے مل کر قائدانہ کردار کی بنیاد رکھی۔ یہ ملاقاتیں صرف رسمی نہیں تھیں بلکہ ایک سفارتی انقلاب تھیں۔ پاکستان نے اپنے "کارڈز" کو اس طرح کھیلا کہ سعودی دباؤ کو بھی ہینڈل کیا، ایرانی ہمسائیگی کا احترام کیا، امریکی اور چینی دونوں سے تعلقات کو متوازن رکھا۔ نتیجہ؟ چار مسلم ممالک اب عالمی ثالثی کے مرکز بن چکے ہیں۔ یہ وہ پاکستان ہے جو کشمیر، افغانستان اور اب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں بھی امن کا معمار بن رہا ہے۔
پاکستان کی یہ حکمتِ عملی "رستمِ ہند" کی بہادری نہیں بلکہ "شیخ سعديؒ" کی حکمت ہے، جنگ سے بچنا اور امن کو فروغ دینا۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے CPEC کے ذریعے چین کے ساتھ معاشی شراکت داری کو مضبوط کیا، امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو جاری رکھا، ترکی اور مصر کے ساتھ اسلامی تعاون کی بنیاد رکھی۔ اب یہ سب کچھ ایک جگہ جمع ہو کر ایران امریکہ کشیدگی میں ثالثی کا طاقتور ہتھیار بن گیا ہے۔
اسرائیل کی تنہائی اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ امریکہ کی اندرونی سیاست کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ، جو خود کو "ڈیل میکر" کہلاتے ہیں، جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسرائیل کی حمایت میں جنگ کی تو ان کی پاپولرٹی کا جنازہ نکل جائے گا۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کا بیان، "ہم اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کر رہے ہیں"، دراصل ایک خاموش اعتراف ہے کہ یہ جنگ طویل نہیں چل سکتی۔ امریکہ کے پاس جو وسائل ہیں، اسرائیل کے پاس نہیں۔ پچھلے تین امریکی صدور نے اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا۔ اب ٹرمپ کا دور بھی اسی حقیقت کا شکار ہے۔
پاکستان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی "غیر جانبدار ثالثی" کی حیثیت ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، سعودی عرب ہمارا برادر ملک۔ ہم نے نہ تو سعودی دباؤ کو قبول کیا نہ ایرانی جارحیت کو۔ بلکہ دونوں کو ایک میز پر لانے کی کوشش کی۔
اگر ہم تاریخ کی طرف دیکھیں تو پاکستان ہمیشہ سے امن کا علمبردار رہا ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے بعد بھی ہم نے سفارتکاری سے مسائل حل کیے۔ اب یہ وہی پاکستان ہے جو طالبان کے ساتھ امن معاہدوں میں ثالثی کر چکا ہے، افغانستان میں استحکام کے لیے کوشاں ہے اور اب ایران امریکہ تنازع میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔
عالمی رائے عامہ بھی اس جنگ کے خلاف ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو مڈٹرم میں شکست یقینی ہے۔ نیتن یاہو کی "بدمعاشی" اب ان کے اپنے لوگوں کے لیے بھی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی تھکن، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی، سب کچھ ایک طرف ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کا کردار "امن کا معمار" کا ہے۔ ہم نے جنگ کی بجائے بات چیت کو پسند کیا۔ ثالثی کی میز پر بیٹھ کر ہم نے ثابت کیا کہ ایک متوسط طاقت والا ملک بھی عالمی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ چین اور روس کی شمولیت نے اسے مزید مضبوط کر دیا ہے۔
پاکستان کی یہ کوششیں "گلِستانِ سعدی" کی ان سطروں کی یاد دلاتی ہیں: "بنی آدم اعضای یک پیکرند / کہ در آفرینش ز یک گوہرند"۔ انسانیت ایک ہے۔ جنگ اسے تقسیم کرتی ہے، امن جوڑتی ہے۔ پاکستان نے جوڑنے کا کام کیا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فتح ہے۔ عالمی تاریخ اسے یاد رکھے گی کہ جب بڑی طاقتیں جنگ کی راہ پر تھیں تو ایک پاکستان نے امن کی راہ دکھائی۔

