Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Trump Bila Wajah Jhanjhalahat Ka Shikar Nahi

Trump Bila Wajah Jhanjhalahat Ka Shikar Nahi

ٹرمپ بلاوجہ جھنجھلاہٹ کا شکار نہیں

میامی میں سعودی سرمایہ کاری کے ایک اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ طنزیہ اور غیر سفارتی جملہ، جس میں سعودی ولی عہد کے بارے میں نامناسب اور بے ہودہ انداز اختیار کیا گیا، درحقیقت ایک ایسی شکست خوردہ قیادت کی عکاسی کرتا ہے جو دباؤ اور اضطراب کا شکار ہو۔ امریکی صدر کی سعودی ولی عہد پر شرمناک تنقید کی بنیاد امریکی صیہونی استعمار کی سعودی عرب اور ایران کو جنگ میں ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش میں ناکامی کا اظہار ہے۔ عرب ممالک کو امریکا کے سامنے اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے اور اسی بنیاد پر اپنے تعلقات از سرنو استوار کرنے چاہئیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں الفاظ کا انتخاب ریاستی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے اور یہاں ٹرمپ کے لہجے کی سختی کے پیچھے واضح بے چینی، شکست، فرسٹریشن اور جھنجھلاہٹ جھلکتی ہے۔

اسی پس منظر میں جب ہم ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل جس اعتماد کے ساتھ اس محاذ پر اترے تھے، وہ اعتماد متزلزل دکھائی دیتا ہے۔ انہیں توقع تھی کہ وہ محدود وقت میں اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس سامنے آئے۔ ایران کے کئی نقصانات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے باوجود نہ تو اس کا نظام کمزور ہوا اور نہ ہی کسی بڑی اندرونی تبدیلی کا خواب پورا ہو سکا۔ اس کے برعکس ایران نے اپنی مزاحمت، استقامت اور حکمت عملی کے ذریعے خود کو ایک مضبوط اور پُراعتماد فریق کے طور پر منوایا ہے۔

اسرائیل، جو طویل عرصے سے خطے میں عسکری برتری کا دعویدار رہا، اب واضح دفاعی دباؤ کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کے سکیورٹی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور عالمی سطح پر اس کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ داخلی سطح پر بھی بے چینی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں عوامی حلقوں میں جنگ کے تسلسل پر تشویش پائی جاتی ہے۔ عوام خوفزدہ ہیں اور اسرائیل کی حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔

امریکا کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ ماضی میں امریکا اکثر اتحادیوں کے ساتھ مل کر عالمی معاملات میں پیش قدمی کرتا رہا، کمزور ممالک پر جنگیں مسلط کرتا اور تباہی مچاتا رہا، مگر اس بار اسے وہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ اپنے اتحادیوں سے ہی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ نیٹو جیسے مضبوط اتحاد کی جانب سے مکمل اور غیر مشروط تعاون کا فقدان ایک اہم سفارتی کمزوری ہے۔ یورپی ممالک کی ہچکچاہٹ اور اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا کی عالمی قیادت کو سنجیدہ چیلنج درپیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت کے بیانات میں بھی اس بے اطمینانی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ کئی امریکی وزرا کہہ چکے ہیں کہ امریکا اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔

ساتھ ہی امریکا کے اندرونی حالات بھی معنی خیز ہیں۔ مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے، جن میں لاکھوں شہری شریک ہوئے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی سطح پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف ردعمل موجود ہے۔ "نو کنگ ڈے" جیسے احتجاجی مظاہروں میں عوامی شرکت امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔ جب کسی ریاست کے اندر عوامی اعتماد متزلزل ہو جائے تو اس کی بیرونی حکمت عملی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔

ایران کے حوالے سے یہ تاثر بھی مکمل طور پر درست نہیں کہ وہ اس تنازع میں تنہا ہے۔ عالمی سطح پر اسے مختلف طاقتوں کی سفارتی اور اسٹریٹجک حمایت حاصل ہے۔ روس، چین اور دیگر اہم ممالک کا تعاون اس کے ساتھ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاہم ایران نے اپنی داخلی قوت، حکمت اور استقامت کے ذریعے خود کو منوایا ہے۔ بحر ہرمز نے ایران کی برتری اور اسرائیل-امریکا کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ اس کی بندش سے پوری دنیا متاثر ہوئی اور اس کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل قرار پائے ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں پاکستان کی اہمیت بھی غیر معمولی طور پر بڑھ کر سامنے آئی ہے۔ ایک ایٹمی طاقت اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان نہ صرف خطے میں توازن قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ مختلف فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایک فعال سفارتی کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ روابط اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت، اسے ایک کلیدی حیثیت عطا کر رہی ہے۔

یہ ایک قابلِ غور پہلو ہے کہ جو امریکا اور ٹرمپ خود کو عالمی ثالث کے طور پر پیش کرتا رہا، آج وہی مختلف تنازعات میں دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے اور بارہا اس کا اعتراف بھی کر چکا ہے۔ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں پاکستان کی شمولیت اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے اس کی حیثیت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو دیکھ کر بھارت تشویش میں مبتلا اور میڈیا پر واویلا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار اور اس کی سفارتی فعالیت خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے رہی ہے۔ عالمی سیاست میں یہ تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور وہ قوتیں جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھیں، اب نئے حقائق کا سامنا کر رہی ہیں، بلکہ جنگ کے خاتمے کے بعد انہیں مزید حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Check Also

Mujhe Pakistani Hone Par Fakhar Hai

By Najam Wali Khan