Sirf Pinky Nahi, Asal Mafia Ko Bhi Giraftar Karen
صرف پنکی نہیں، اصل مافیا کو بھی گرفتار کریں

کراچی کی ایک مقامی عدالت میں پیشی کے دوران مبینہ کوکین ڈیلر کے سامنے آنے والے مناظر ہی نہیں، بلکہ پولیس کو دیا گیا اس کا کھلا چیلنج بھی حیران کن ہے۔ اس واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری اور پھر عدالت میں اس کا "شاہانہ" طرزِ عمل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنے نظام کی بے بسی صاف دیکھ سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ملزمہ کسی سنگین جرم میں ملوث قیدی کے بجائے ایک بااثر شخصیت کے طور پر عدالت میں داخل ہوئی۔ ہتھکڑیوں سے آزاد ہاتھ، پانی کی بوتل اچھالنے کا لاابالی انداز اور پولیس افسر کا اسے راستہ دکھاتے ہوئے پیچھے چلنا، اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ قانون کا آہنی ہاتھ شاید سب کے لیے برابر نہیں ہے۔ جہاں معمولی جرائم میں ملوث افراد کو پابندِ سلاسل کرکے لایا جاتا ہے، وہاں ایک مبینہ ڈرگ ڈیلر کا یہ تمکنت بھرا انداز عوامی حلقوں میں شدید بے چینی کا باعث بنا ہے۔
ملزمہ کی ماضی کی مبینہ آڈیوز نے اس کیس کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس نے پولیس کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا: "ہم دھڑلے سے کام کر رہے ہیں، اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو، ہم نے پورے کراچی میں اندھیر مچا رکھا ہے، روک سکو تو روک لو"۔ خود کو "برانڈ" قرار دینا اور اداروں کو للکارنا اس بات کی عکاسی ہے کہ منشیات کے سوداگر کس حد تک نظام کو اپنی مٹھی میں سمجھتے ہیں۔ آڈیو میں ملزمہ کا یہ اعتراف کہ وہ برسوں سے یہ کام کر رہی ہے مگر کوئی اسے پکڑ نہیں سکا، ان اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جن کی ذمہ داری معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنا ہے۔
انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کے خلاف سات سال قبل بھی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ 2019 میں اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق وہ پاکستان میں منشیات فروشی کا نیٹ ورک چلاتی تھی۔ اس دوران وہ کراچی سے لاہور فرار ہو کر اشتہاری رہی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں "ڈرگ پیڈلر" کے طور پر کام کرتی رہی۔ ذرائع کے مطابق اس کا ہدف شہر کے پوش علاقوں کی نجی پارٹیاں اور تعلیمی ادارے رہے ہیں۔ اگرچہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ رعایت صرف ایک اتفاق تھی یا اس کے پیچھے وہ اثر و رسوخ کارفرما ہے جو منشیات کے کالے دھندے سے کشید کیا جاتا ہے؟
اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس کوکین ڈیلر کی پشت پناہی کرنے والا بااثر اور طاقتور مافیا اسے سزا ہونے دے گا؟ اس کیس کا سب سے ہولناک پہلو وہ زہر ہے جو یہ نیٹ ورک ہماری نوجوان نسل میں منتقل کر رہا ہے۔ کوکین اور دیگر مہنگی منشیات کا استعمال اب تعلیمی اداروں میں بھی ہو رہا ہے۔ ملک میں لاکھوں افراد اس لعنت کی وجہ سے اپنی زندگیاں تباہ کر چکے ہیں اور ان گنت گھر اجڑ گئے ہیں۔ جب ایک مبینہ ڈیلر کو عدالت میں خصوصی پروٹوکول ملتا ہے تو نہ صرف مجرموں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں بلکہ ان والدین کا ریاست پر اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے جو اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہوئے خوفزدہ رہتے ہیں۔
یہ کیس انصاف کے تقاضوں کا ایک بڑا امتحان ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ تاثر عام ہے کہ امیر اور غریب کے لیے قانون کے الگ الگ پیمانے ہیں۔ جب تک ملزم کے ساتھ برتاؤ میں اس کی مالی حیثیت جھلکے گی، تب تک بے چینی کم نہیں ہو سکتی۔ قانون کا حسن اس کے یکساں نفاذ میں ہے اور جب یہ توازن بگڑتا ہے تو لاقانونیت جنم لیتی ہے۔
انمول عرف پنکی کا کیس محض ایک فرد کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، بلکہ اس وسیع نیٹ ورک کی طرف اشارہ ہے جس نے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے۔ اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو صرف وقتی جذبات یا میڈیا ٹرائل تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کی جڑوں تک پہنچا جائے۔ ہمیں صرف پیادوں کو نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپے مہروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے مافیا کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ یہ سب قوم کے بچوں کے دشمن ہیں جن کا واحد مقصد انسانی جانوں کی قیمت پر دولت سمیٹنا ہے۔ انصاف صرف عدالت کے فیصلے کا نام نہیں، بلکہ اس اطمینان کا نام ہے جو ایک عام شہری کو یہ دیکھ کر حاصل ہو کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک صحت مند اور محفوظ پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں منشیات کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا اور نظام کے ان سوراخوں کو بند کرنا ہوگا جہاں سے "برانڈڈ مجرم" فرار کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔

