Monday, 20 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Schoolon Mein Aaye Roz Chuttiyan, Haqaiq Kya Hain?

Schoolon Mein Aaye Roz Chuttiyan, Haqaiq Kya Hain?

سکولوں میں آئے روز چھٹیاں، حقائق کیا ہیں؟

ملک میں جب بھی بچوں کی ضرورت کے پیشِ نظر سکولوں میں چھٹیاں کی جاتی ہیں تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور ہر طرف سے ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے کہ "تعلیم تباہ ہو رہی ہے، بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، سکولوں میں بہت زیادہ چھٹیاں ہو رہی ہیں"۔ کوئی اساتذہ کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے، کوئی حکومت کو کوستا ہے اور کوئی پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے، مگر اس شور میں حقائق کہیں گم ہو جاتے ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور اس میں تسلسل بے حد ضروری ہے، لیکن ہر چھٹی ہمیشہ کسی "غفلت" کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے کچھ ایسی تلخ حقیقتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ درحقیقت تعلیمی اداروں میں ہونے والی زیادہ تر چھٹیاں عیاشی یا لاپرواہی کا نتیجہ نہیں ہوتیں، بلکہ مجبوری کی پیداوار ہوتی ہیں۔ ان فیصلوں کے پیچھے زمینی حقائق، بچوں کی صحت اور حالات کی سنگینی کارفرما ہوتی ہے اور اہم بات یہ کہ یہ چھٹیاں اساتذہ کے کہنے پر نہیں بلکہ حکومت اور محکمۂ تعلیم حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔

اگر ہم موسمی حالات کا جائزہ لیں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ پنجاب میں گرمی اپنی شدت کی انتہا کو چھوتی ہے اور سردی ہڈیوں تک اتر جاتی ہے، یہاں سکولوں کو ان موسموں میں کھلا رکھنا محض ایک "تعلیمی ضد" تو ہو سکتی ہے، مگر انسانی تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ آج بھی پنجاب کے بیشتر سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہزاروں سکولوں میں کلاس رومز ناکافی ہیں اور بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ جون کی تپتی دوپہر یا جنوری کی یخ بستہ صبح میں ایک معصوم بچہ کھلے آسمان تلے بیٹھ کر سبق یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ کیا یہ تعلیم ہے یا ایک آزمائش؟

یہ مسئلہ صرف سکول کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں ہزاروں بچے کئی کلومیٹر پیدل چل کر سکول پہنچتے ہیں۔ شدید گرمی میں یہ سفر کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا اور سردی میں یہ اذیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اگر حکومت چھٹیاں دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ دراصل بچوں کے حق میں ایک حفاظتی قدم ہوتا ہے، تعلیم دشمنی ہرگز نہیں۔ ایسے تکلیف دہ حالات میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ عارضی طور پر چھٹیاں دے دی جائیں۔ اگر محض عوامی تنقید سے بچنے کے لیے ایسے موسم میں بھی سکول کھلے رکھے جائیں تو یہ بچوں پر ظلم ہوگا۔

بدقسمتی سے بحیثیت مجموعی ہم مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے سطحی تنقید پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہم یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کیوں نہیں ہیں؟ آج بھی ہزاروں سکول عمارتوں، کمروں، پنکھوں، ہیٹرز اور صاف پانی جیسی ضروریات سے محروم کیوں ہیں؟ ہر بستی اور ہر گاؤں میں معیاری سرکاری سکول کیوں موجود نہیں؟ اور جو سکول موجود ہیں، انہیں آؤٹ سورس کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ تعلیمی بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے، ترجیحات کیا ہیں اور تعلیمی ڈھانچہ کمزور کیوں ہے۔ ہم صرف یہ شور مچاتے ہیں کہ "چھٹیاں کیوں ہو رہی ہیں؟"

دوسری طرف وہ چھٹیاں ہیں جو ملکی اور عالمی حالات کے پیشِ نظر دی جاتی ہیں۔ جب ملک کسی وبا کی لپیٹ میں آ جائے، جیسے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، یا جب سموگ کی زہریلی فضا سانس لینا دشوار کر دے، آشوبِ چشم یا کسی اور بیماری کا پھیلاؤ ہو، یا سیکورٹی خدشات جنم لیں، یا ملک معاشی و توانائی بحران کا شکار ہو تو ایسے میں سکولوں کا بند ہونا ایک ناگزیر فیصلہ بن جاتا ہے۔

یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایسے حالات میں تعلیمی ادارے بند کیے جاتے ہیں۔ جب پورا ملک کسی بحران سے گزر رہا ہوتا ہے تو ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ بازار بند ہوتے ہیں، دفاتر بند ہوتے ہیں، معیشت سست پڑ جاتی ہے اور لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر تعلیمی ادارے بھی وقتی طور پر بند ہو جائیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں، بلکہ ایک اجتماعی قربانی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہر طبقہ قربانی دے رہا ہوتا ہے تو پھر تعلیم کے میدان میں اس قربانی کو ہی تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم ترجیحات کا تعین کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ہمیں چھٹیوں سے زیادہ فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ ہمارے بچوں کو کیسی تعلیم مل رہی ہے، کن حالات میں مل رہی ہے اور کیا ہم انہیں ایک محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کر پا رہے ہیں یا نہیں۔ اگر ایک بچہ شدید گرمی میں بے ہوش ہو جائے، سردی میں بیمار پڑ جائے یا آلودہ فضا میں سانس لیتے ہوئے اپنی صحت کھو دے تو ایسی "تعلیم" کو وقتی طور پر روک دینا ہی بہتر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تنقید کا رخ درست کریں۔ ہمیں اساتذہ کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے تعلیمی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ ہمیں حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہر سکول میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، کلاس رومز کی کمی کو پورا کیا جائے، اساتذہ کی تعداد بڑھائی جائے، نصاب کو جدید اور متوازن بنایا جائے اور تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ ایک سازگار تعلیمی ماحول فراہم ہو سکے۔ طلباء اور اساتذہ کے مسائل حل کیے جائیں۔ اسی طرح آؤٹ سورسنگ پالیسی پر بھی سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کہ آیا یہ واقعی تعلیم کے حق میں ہے یا نہیں۔

تعلیم یقیناً اہم ہے، لیکن بچوں کی صحت، جان اور حفاظت اس سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ ایک صحت مند بچہ ہی بہتر انداز میں سیکھ سکتا ہے، آگے بڑھ سکتا ہے اور ملک و قوم کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر حالات ایسے ہوں کہ سکول کھلے رکھنا بچوں کے لیے خطرہ بن جائے تو پھر چھٹیاں دینا دانشمندی ہے، کمزوری نہیں۔

آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر چھٹی تعلیم دشمنی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہ انسان دوستی کا تقاضا ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیم سے مخلص ہیں تو ہمیں شور مچانے کے بجائے نظام کی اصلاح کے لیے آواز اٹھانی ہوگی، کیونکہ مسئلہ چھٹیوں کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔

Check Also

Schoolon Mein Aaye Roz Chuttiyan, Haqaiq Kya Hain?

By Abid Mehmood Azaam