Sab Isi Rastay Par Chalna Chaal Rahe Hain
سب اسی راستے پر چلنا چاہتے رہے ہیں

امیر ہونا زندگی کا مقصد تو نہیں، مگر بری بات بھی نہیں، بشرطیکہ اس کے لیے غلط راستہ اختیار نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جلد امیر ہونے کے اکثر راستے کسی نہ کسی درجے میں "شارٹ کٹ" ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے اکثر غلط اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ اپنی جائیداد بیچ دینا بھی ایک طرح کا شارٹ کٹ ہے، مگر وہ دولت تو اکثر اجداد کی کمائی ہوتی ہے۔ اگر امیر خاندانوں کی تاریخ کھنگالی جائے تو کہیں قسمت کی مہربانی، طاقت، استحصال، لوٹ مار اور کہیں طویل محنت کی داستانیں ملتی ہیں۔ محنت سے امیر ہونا ممکن ضرور ہے، لیکن اس میں وقت لگتا ہے۔
تعلیم، تجربہ، سرمایہ اور مسلسل جدوجہد کے باوجود ایک عام آدمی چند برسوں میں ارب پتی نہیں بنتا۔ لوگ برسوں کاروبار کرتے ہیں، عمر کا بڑا حصہ پردیس میں کھپا دیتے ہیں، تب کہیں جا کر آسودگی نصیب ہوتی ہے، لیکن جب کوئی شخص چند سال میں مڈل کلاس سے اچانک شاہانہ زندگی تک پہنچ جائے، مہنگی گاڑیاں بدل رہا ہو اور کروڑوں کے اثاثے بنا لے تو سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ یہ سب کیسے ہوا؟
کسی جائز ذریعے سے کم وقت میں ایسی جست لگانا تقریباً ناممکن ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بھی تو محنت کرتے ہیں، لیکن محض "کڑی محنت" ہر دولت کی وضاحت نہیں ہوسکتی۔ اگر صرف محنت ہی کامیابی کا واحد معیار ہوتی تو مزدور، ریڑھی بان اور تین تین نوکریاں کرنے والے لوگ سب سے زیادہ امیر ہوتے۔ دنیا میں ڈاکا، دھوکا، فراڈ اور دوسروں کا حق مارنا اس لیے جرم کہلاتا ہے کہ ہر محنت "جائز" نہیں ہوتی، اگرچہ ان کاموں میں مشقت بہت لگتی ہے۔
آج بہت سے لوگوں نے عملی طور پر غلط کو بھی جائز مان لیا ہے۔ مذہب ناجائز ذرائع سے روکتا ہے اور حسابِ آخرت کا خوف دلاتا ہے، مگر دولت کی ہوس نے انسان کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ اسے اخلاقی حدود یاد نہیں رہیں۔ اگر مذہب کو ایک طرف رکھ کر دنیا کے مسلمہ اصولوں کو بھی دیکھا جائے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ دھوکے اور جرائم سے حاصل ہونے والی دولت قابلِ احترام نہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ آج انہی ذرائع سے دولت کمانے والوں کو طاقت، پروٹوکول اور تحفظ میسر ہے۔ کوکین ڈیلر انمول پنکی، ایان علی، فضیلہ عباسی اور اس طرح کے کئی کردار ہمارے سامنے ہیں، جن کی پشت پناہی بااثر لوگ کرتے ہیں اور قانون کے ہاتھ ان تک پہنچنے سے پہلے ہی رک جاتے ہیں۔
دوسری طرف ایک عام آدمی صبح سے رات تک پسینہ بہا کر صرف بنیادی ضروریات ہی پوری کر پاتا ہے۔ متوسط طبقے کا فرد اپنے بڑوں کو ساری زندگی مشقت کرتے دیکھتا ہے اور پھر خود بھی اسی چکی کا حصہ بن جاتا ہے۔ بڑی مشکل سے ایک نوکری یا معمولی کاروبار بنتا ہے اور پھر ساری عمر گھر اور فیملی کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے۔ زندگی بھر کی جمع پونجی سے شاید ایک چھوٹی گاڑی یا چند مرلے کا گھر بن پائے اور انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کب جوانی سے بڑھاپے کی دہلیز پر آ کھڑا ہوا۔
ایسے ماحول میں جب انسان اپنے خوابوں کو سیدھے راستے سے پورا ہوتے نہیں دیکھتا تو وہ غلط راستوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ پھر معاشرہ ایسے کردار پیدا کرتا ہے جو جرم، فراڈ، منشیات یا سوشل میڈیا کی بے ہودگی کے ذریعے تیزی سے ترقی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کوکین ڈیلر انمول پنکی جیسے کردار محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک "ذہنیت" کی علامت بن چکے ہیں۔ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ صرف امیر ہونا چاہتا ہے، چاہے راستہ کچھ بھی ہو، کیونکہ اب عزت اور اثر و رسوخ کا پیمانہ کردار نہیں بلکہ پیسہ ہے۔
رزقِ حلال اب بہت سوں کے نزدیک "انتخاب" نہیں، بلکہ "مجبوری" بن چکا ہے، جبکہ ناجائز ذرائع کامیابی کا تیز ترین راستہ دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ خاموشی سے ان کرداروں کو برا بھی کہتے ہیں اور دل ہی دل میں ان جیسا بننے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ بہت سوں کے لیے وہ ہر شخص "آئیڈیل" ہے جو صاحبِ ثروت ہے۔ چونکہ طاقت پیسے سے آتی ہے اور پیسہ ان "پنکیوں" کے راستے پر چلنے سے جلدی ملتا ہے، اس لیے مجمع انہی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

