Sunday, 05 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Riyasat Ke Liye Lamha e Fikriya

Riyasat Ke Liye Lamha e Fikriya

ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ

حکومت ایک بار پھر "عالمی مجبوریوں" اور "ذمہ دارانہ فیصلوں" کی آڑ لے کر عوام پر ایسا معاشی بم گرا چکی ہے، جس کے اثرات ہر گلی، ہر بازار، ہر چولہے اور ہر دسترخوان تک پہنچیں گے اور زندگی کو مزید اجیرن بنا دیں گے۔ 55 روپے کے سابقہ اضافے نے جو مہنگائی کا طوفان برپا کیا تھا، قوم ابھی اس کے اثرات سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ 137 روپے کا نیا اضافہ ایک اور قیامت بن کر نازل ہوگیا۔ اس طوفان کا مقابلہ آج بھی ایک عام آدمی ہی کر رہا ہے۔

وہ شخص جو بیس یا تیس ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے، وہ 458 روپے فی لیٹر پیٹرول خرید کر اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات کیسے پوری کرے؟ حکمران طبقہ کی جانب سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بیرونِ ملک بھی پیٹرول مہنگا ہے، مگر اصل فرق قیمت نہیں بلکہ قوتِ خرید ہے۔ جرمنی میں ایک مزدور کی یومیہ آمدنی تقریباً 36 ہزار روپے کے برابر ہے، جبکہ پاکستان میں بمشکل 1500 روپے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے، اس لیے قیمت بڑھانا ناگزیر تھا۔ مان لیا کہ عالمی حالات اثر انداز ہوتے ہیں، مگر پورا بوجھ عوام پر ڈال دینا ناگزیر ہے، نہ ہی منصفانہ ہے۔ یہ صریحاً ظلم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی درآمدی قیمت تقریباً 271 روپے فی لیٹر ہے، مگر عوام کو یہ 458 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ صرف پٹرولیم لیوی کو 160 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اگر یہ لیوی کم کر دی جائے تو یہی پیٹرول تقریباً 300 روپے یا اس سے بھی کم میں دستیاب ہو سکتا ہے۔ یہ ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے آسان اور ظالمانہ طریقہ ہے۔

قطری ذرائع کے مطابق پاکستان کے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ تیل لا رہے ہیں اور اب تک 18 جہاز اس راستے سے پہنچ چکے ہیں۔ اگر سپلائی لائن متاثر نہیں تو پھر قیمتوں میں یہ ہوشربا اضافہ کیوں؟ کیا اس کا مقصد واقعی معاشی استحکام ہے یا محض اشرافیہ کے خزانے بھرنا؟ بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، سری لنکا حتیٰ کہ افغانستان میں بھی پیٹرول پاکستان سے سستا ہے۔ کہیں سبسڈی دی جا رہی ہے، کہیں ٹیکس کم کیے جا رہے ہیں، مگر پاکستان میں ہر بوجھ سیدھا عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس ساری "قربانی" کا اطلاق صرف عوام پر ہوتا ہے، جبکہ حکمرانوں کے پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں کے قافلے اور افسر شاہی کے شاہانہ اخراجات جوں کے توں برقرار ہیں۔

ایک ایک وزیر کے آگے پیچھے درجنوں گاڑیاں چلتی ہیں، کیا ان میں پیٹرول نہیں جلتا؟ اگر واقعی بحران ہے تو اس کا آغاز ایوانوں سے کیوں نہیں ہوتا؟ عوام کو سادگی کا درس دیا جا رہا ہے، مگر حکمران خود اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔ یہی تضاد اس بحران کو محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی بحران بھی بنا دیتا ہے۔ حکمران حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام چند دن شور مچائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے اور افسوس کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے فیصلے بار بار مسلط کیے جاتے ہیں۔ اس سارے منظرنامے میں سب سے افسوسناک کردار اُن لوگوں کا ہے جو اس ظلم کا دفاع کرتے ہیں۔ وہی لوگ جو کل 150 روپے فی لیٹر پیٹرول پر سڑکوں پر تھے، آج 458 روپے پر تاویلیں دے رہے ہیں۔ یہ محض تضاد نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔

پاکستان کی معیشت ایک خطرناک "کنزمپشن ٹیکس ٹریپ" میں پھنس چکی ہے، جہاں پٹرولیم مصنوعات سے سالانہ 1 سے 1.3 ٹریلین روپے تک ریونیو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی بقا عوام کی کھپت پر ٹیکس لگانے سے جڑ چکی ہے۔ جرمانوں، چالانوں اور بھاری ٹیکسوں کے ذریعے نظام چلایا جا رہا ہے تاکہ اشرافیہ کے اخراجات برقرار رہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ دیرپا بھی نہیں۔ آج ایک موٹر سائیکل سوار، ایک مزدور، ایک ملازم، ایک استاد، سب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: وہ کیا کریں؟ کیا وہ اپنی گاڑی میں پانی ڈال کر دفتر جائیں؟ یہ محض طنز نہیں، ایک کڑوی حقیقت ہے۔

یہ وقت صرف شکوہ کرنے کا نہیں، بلکہ ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ریاست صرف ٹیکس لینے کا نام نہیں، بلکہ عوام کو جینے کا حق دینے کا نام ہے۔ اگر یہی طرزِ حکمرانی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا آخری رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو کوئی نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ یہ "پیٹرول بم" صرف مہنگائی نہیں لائے گا، بلکہ ایک ایسا طوفان بن سکتا ہے جو پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، ترجیحات بدلیں، اشرافیہ کی عیاشیاں کم کریں، ٹیکسوں میں توازن پیدا کریں اور ایسے فیصلے کریں جو عوام کو سہارا دیں، نہ کہ انہیں مزید توڑ دیں۔ ورنہ تاریخ ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سناتی ہے: جب بوجھ حد سے بڑھ جائے تو نظام خود اپنے ہی وزن تلے دب جاتا ہے۔

Check Also

Cryptocurrency, Bilal Bin Saqib Aur Pakistan Ki Salisi

By Amir Mohammad Kalwar