Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Mussafah, Aziat Aur Social Media Ka Katehra

Mussafah, Aziat Aur Social Media Ka Katehra

مصافحہ، اذیت اور سوشل میڈیا کا کٹہرا

مولانا طارق جمیل صاحب سے پہلی بار مصافحہ 2003ء میں کیا تھا۔ ان سے عقیدت تھی اور ان کے بیانات سننے کا بے حد شوق تھا۔ اُس زمانے میں مولانا فیصل آباد کی جامع مسجد عائشہ میں جمعہ پڑھاتے تھے۔ وہاں ہزاروں کا مجمع ہوتا اور لوگ صبح سویرے ہی بیان سننے کے لیے مسجد پہنچ جاتے۔ ہم نے اُس دور میں کئی بار مولانا کے پیچھے نمازِ جمعہ ادا کی۔ اکثر دیکھا کہ نماز جمعہ کے بعد لوگ مصافحہ کے لیے بے تاب ہو کر آگے بڑھتے۔ بدانتظامی سے بچنے کے لیے انتظامیہ یہ ترتیب بناتی کہ مولانا منبر کے قریب کھڑے ہو جاتے اور لوگ قطار بنا کر ان سے ملتے۔ اُس وقت کئی بار دل میں خیال آتا کہ یہ مولانا کی ہمت ہے کہ وہ ہزاروں افراد سے مصافحہ کرنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ مسلسل کھڑے رہتے ہیں۔

​اُسی دور میں مختلف مقامات پر ان کے بیانات سننے کا موقع ملا، جہاں یہی منظر ہوتا۔ بیان ختم ہوتے ہی سینکڑوں افراد مصافحہ کے لیے لپکتے اور مولانا کو مروتاً سب سے ملنا پڑتا۔ چونکہ ہم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں زیرِ تعلیم تھے، اس لیے وہاں جید علماء، مشائخ اور علمی شخصیات کی آمد و رفت رہتی تھی۔ آئے دن کوئی نہ کوئی بزرگ جامعہ تشریف لاتے اور طلبہ سے خطاب کرتے۔ بیان کے بعد سینکڑوں طلبہ مصافحہ کے لیے آگے بڑھتے، جن میں ہم بھی شامل ہوتے تھے۔ ان بزرگوں کو مشقت کے باوجود طلبہ سے مصافحہ کرنا پڑتا تھا۔

​کئی مرتبہ جامعہ کے مہتمم مفتی محمد طیب صاحب اور دیگر اساتذہ نے طلبہ کو سمجھایا کہ ان شخصیات سے مصافحہ کے لیے لپکنا دراصل انہیں تکلیف اور مشقت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کا موقف تھا کہ مصافحہ ضروری نہیں، ان کی زیارت ہی ایک سعادت ہے اور اصل چیز ان کی نصیحتوں پر عمل کرنا ہے۔ جامعہ امدادیہ کے اساتذہ کی یہ بات ذہن نشین ہوگئی اور میں نے اسے زندگی کا معمول بنا لیا۔ اس نصیحت کے بعد بھی کئی بار بڑے مشائخ جامعہ آئے، مگر میں کبھی مصافحہ کے لیے آگے نہیں بڑھا۔ عملی زندگی اور بالخصوص صحافتی میدان میں بے شمار معروف شخصیات سے ملاقات کے مواقع ملے، مختلف پروگراموں اور تقریبات میں شرکت رہی، لیکن اساتذہ کی وہ نصیحت ہمیشہ یاد رہی۔ میں نے ہمیشہ یہی کوشش کی کہ جب تک کوئی شخصیت مکمل سہولت اور اطمینان کے ساتھ میسر نہ ہو، مصافحہ کا اصرار نہ کروں۔ ہجوم میں مصافحہ کے لیے لپکنا بعض اوقات اپنی تذلیل اور کبھی سامنے والے کے لیے اذیت کا باعث محسوس ہوتا ہے۔

​مولانا طارق جمیل صاحب کے جس عمل پر آج شدید تنقید کی جا رہی ہے، سچ یہ ہے کہ ہم خود بھی کئی بار مختلف مجبوریوں کے تحت ایسا ہی کرتے ہیں۔ اسکول میں اکثر طلبہ چھٹی کے وقت اساتذہ کو دیکھ کر مصافحہ کے لیے لپکتے ہیں۔ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے انہیں روکنا یا ڈانٹنا پڑتا ہے تاکہ قطاریں نہ ٹوٹیں اور نظام متاثر نہ ہو۔ دیگر اساتذہ کو بھی کئی مرتبہ ایسا کرتے دیکھا ہے، کیونکہ جب ایک دو طلبہ مصافحہ کر لیں تو دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہجوم امڈ آتا ہے۔

​مولانا طارق جمیل یقیناً ایک بڑی شخصیت ہیں۔ میں ان کا وکیل نہیں اور ان کی کئی باتوں سے اختلاف بھی رکھتا ہوں، لیکن صرف مصافحہ نہ کرنے کی بنیاد پر ان پر تبرّہ کرنا مناسب نہیں۔ وہ عمر رسیدہ ہیں، علیل رہتے ہیں اور کندھوں کے درد کا بھی شکار ہیں۔ ایسے میں اگر ہجوم میں ایک دو افراد مصافحہ شروع کر دیں تو سینکڑوں لوگ ٹوٹ پڑتے ہیں، جس سے ملنا ایک معمر انسان کے لیے واقعی محال ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات سختی سے روکنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بھی کئی بزرگ شخصیات مصافحہ کے لیے بے جا اصرار کرنے والوں کو ٹوک دیا کرتی تھیں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔

​یہ صرف مولانا طارق جمیل کا معاملہ نہیں، بلکہ ہر بزرگ، عالم، استاد یا معروف شخصیت کے ساتھ یہی رویہ ہونا چاہیے کہ انہیں مصافحہ پر مجبور نہ کیا جائے۔ ہر انسان کی اپنی جسمانی، ذہنی یا وقتی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر انکار "تکبر" ہی ہو۔ بعض اوقات انسان تھکن، بیماری یا ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے اور دوسرا شخص اس کیفیت کا ادراک نہیں کر پاتا۔ ایسے میں اپنی خواہش کی تسکین کے لیے کسی کو مشقت میں ڈالنا اخلاقی طور پر درست نہیں۔

​بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے ہمیں ہر واقعے کا پس منظر سمجھنے کی زحمت سے دور کر دیا ہے۔ ہم فوری ردعمل دیتے ہیں، جذبات بھڑکاتے ہیں اور ایک لمحے کے منظر کی بنیاد پر کسی انسان کی برسوں کی خدمات کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتے ہیں۔ مولانا سے اختلاف ہر شخص کا حق ہے، ان کی آراء یا اندازِ بیان سے اختلافی پہلو نکالے جا سکتے ہیں، لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اختلاف میں توازن، اخلاق اور حقیقت پسندی برقرار رہے۔ دین ہمیں صرف جذبات کی تسکین نہیں بلکہ دوسروں کی راحت کا خیال رکھنا سکھاتا ہے۔

اصل عقیدت ہاتھ ملانے میں نہیں بلکہ ادب، احترام اور عمل میں ہے۔ اگر کسی شخصیت کی نصیحت سے زندگی میں تبدیلی نہ آئے تو ہزار مصافحے بھی بے معنی ہیں اور اگر دل میں سچا احترام ہو تو دور سے کیا گیا سلام اور دعا بھی کافی ہے۔ ہم سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی انصاف، اعتدال اور انسانیت کا دامن نہ چھوڑیں۔ ہر واقعے کو جذبات کے بجائے حکمت کے ترازو میں تولیں، کیونکہ جس عمل کو ہم غرور سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ بسا اوقات محض ایک انسانی مجبوری ہوتی ہے۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Boo e Gul, Nala e Dil Aur Dood e Chiragh e Mehfil (24)

By Asif Masood