Media Par Tafreeh Ke Naam Par Behoodgi
میڈیا پر تفریح کے نام پر بے ہودگی

ٹی وی اسکرین آہستہ آہستہ اپنی اصل شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ سنجیدگی کی جگہ سطحیت اور شائستگی کی جگہ بے ہودگی نے لے لی ہے۔ ویوز اور ریٹنگ کی دوڑ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ تمام حدود سے آزاد ہوچکے ہیں۔ مارننگ شو کے دوران پیش آنے والا واقعہ، جس میں پروگرام کی میزبان فضا علی کی خواہش پر ان کے شوہر نے انہیں لائیو پروگرام میں کندھوں پر اٹھایا، محض ایک وقتی "تفریحی لمحہ" نہیں، بلکہ ایک گہرے فکری بحران کی علامت ہے۔ یہ واقعہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں ریٹنگ، ویوز اور وائرل ہونے کی دوڑ میں اخلاقی حدود کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کس کو اٹھایا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو کیا دکھا رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں کیا نقش کر رہے ہیں۔
ہمیشہ کی طرح ایک طبقہ یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے کہ "اگر پسند نہیں تو نہ دیکھیں، چینل بدل دیں"، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جب ایک ہی نوعیت کا مواد مختلف چینلز پر مسلسل نشر کیا جائے اور ایک مخصوص اندازِ تفریح ناظرین کے سامنے بار بار پیش کیا جائے تو یہ محض ایک فرد کا ذاتی انتخاب نہیں رہتا، بلکہ ایک اجتماعی رجحان بن جاتا ہے۔ یہی رجحان رفتہ رفتہ معاشرتی اقدار کو متاثر کرتا ہے۔ لاکھوں افراد جب اس مواد کو دیکھتے اور اس سے متاثر ہوتے ہیں تو یہ رویہ نسلِ نو میں سرایت کرنے لگتا ہے اور پھر وہی چیز معمول بن جاتی ہے جو کبھی معیوب سمجھی جاتی تھی۔
سوشل میڈیا کی دنیا تو پہلے ہی بے لگام آزادی کی علامت بن چکی ہے، جہاں وائرل ہونے کی دوڑ میں اخلاقی حدود اکثر پامال ہو جاتی ہیں، لیکن الیکٹرانک میڈیا سے کم از کم یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر معاشرتی اقدار کا پاس رکھے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے مارننگ شوز اور ڈراموں میں نجی زندگی کی حدود بھی تیزی سے مٹتی جا رہی ہیں۔ ازدواجی تعلقات کو تفریح کا موضوع بنایا جا رہا ہے، ذاتی معاملات کو سرعام بیان کیا جا رہا ہے اور بیڈ روم کی باتوں کو ہنسی مذاق کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ سب کچھ ایک ایسے معاشرے میں ہو رہا ہے جو اپنی شناخت اسلامی اقدار اور مشرقی روایات سے جوڑتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ تمام مواد "فیملی انٹرٹینمنٹ" کے نام پر نشر کیا جا رہا ہے، یعنی ایسے پروگرام جو بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں سب کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہیں۔ بچے جو دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں۔ اگر ان کے سامنے بے حیائی کو معمول کے طور پر پیش کیا جائے گا تو ان کے ذہنوں میں اس کی قباحت ختم ہو جائے گی۔ اگر شائستگی کو دقیانوسیت اور بے ہودگی کو جدت کا نام دیا جائے گا تو آنے والی نسلوں کے اخلاقی پیمانے خود بخود بدل جائیں گے۔
یہ درست ہے کہ ہر ناپسندیدہ چیز پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، لیکن ہر چیز کو آزادی کے نام پر کھلا چھوڑ دینا بھی دانشمندی نہیں۔ آزادی اور بے راہ روی کے درمیان ایک باریک حد ہوتی ہے اور بدقسمتی سے ہمارا میڈیا اس حد کو تیزی سے عبور کرتا جا رہا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑی ذمہ داری پیمرا پر عائد ہوتی ہے۔ پیمرا کا ضابطۂ اخلاق محض کاغذی کارروائی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہونا چاہیے۔ الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے مواد پر کڑی نظر رکھی جائے اور ایسے پروگرامز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جو معاشرتی اقدار کے منافی ہوں۔ جرمانے، وارننگز اور حتیٰ کہ پروگرام کی بندش جیسے اقدامات بھی زیرِ غور آنے چاہئیں، تاکہ میڈیا کو یہ احساس ہو کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔
تاہم ذمہ داری صرف اداروں تک محدود نہیں۔ بطور ناظرین ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں اور کس چیز کو فروغ دینا چاہتے ہیں، کیونکہ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو بکتا ہے اور جو بکتا ہے وہی بار بار دکھایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک پروگرام، ایک اینکر یا ایک چینل تک محدود نہیں، بلکہ ایک سوچ اور ایک رجحان کا مسئلہ ہے، جو تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرایت کر رہا ہے۔ اگر آج ہم نے اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا اور بروقت اصلاح کی کوشش نہ کی تو کل یہی رجحان ہماری تہذیبی شناخت کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

