Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Firing, Khof Aur Sawalat: Trump Hamle Ke Peeche Kya Hai?

Firing, Khof Aur Sawalat: Trump Hamle Ke Peeche Kya Hai?

فائرنگ، خوف اور سوالات: ٹرمپ حملے کے پیچھے کیا ہے؟

وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کی تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی خاتونِ اول، نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ ارکان سمیت پیٹ ہیگسیتھ اور کاش پٹیل کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ عینی شاہدین نے تقریباً پانچ گولیوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مبینہ شوٹر کو جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری پیغام میں تصدیق کی کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خاتونِ اول، نائب صدر اور تمام کابینہ ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ابھی تک صورتِ حال کی مکمل تفصیلات اور واقعے کے محرکات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ حملے کو جہاں ایک بڑی سیکیورٹی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے، وہیں سیاسی مخالفین اور ناقدین کی جانب سے اسے ایک "منظم ڈرامہ" قرار دینے والے نظریات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ مخالفین کے نزدیک اس واقعے کے پیچھے چھپے مقاصد اور اس کے گرد گھومتے مشکوک حقائق درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیے جا رہے ہیں۔

مخالفین کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ واشنگٹن جیسے شہر میں جہاں وائٹ ہاؤس کے قریب ہر انچ کی نگرانی کی جاتی ہے، ایک مسلح شخص کا شاٹ گن اور چاقوؤں کے ساتھ تقریب کے اس قدر قریب پہنچ جانا ناممکن ہے۔ ناقدین کے مطابق سیکرٹ سروس کی یہ ناکامی قدرتی نہیں بلکہ "جان بوجھ کر پیدا کردہ خلا" معلوم ہوتی ہے تاکہ حملہ آور کو اسٹیج کے قریب پہنچنے کا موقع مل سکے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سیاست کا ایک بڑا حصہ "مظلومیت کے کارڈ" (Victimhood Card) پر مبنی ہے۔ جب بھی ان کی مقبولیت میں کمی آتی ہے یا وہ کسی قانونی گرداب میں پھنستے ہیں تو اس طرح کا واقعہ انہیں ایک "ہیرو" کے طور پر پیش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مخالفین کے مطابق یہ ایک سیاسی اسٹنٹ ہے تاکہ ووٹرز کو یہ باور کرایا جا سکے کہ "گہرا نظام" (Deep State) انہیں ختم کرنا چاہتا ہے، جس سے ان کا حمایتی طبقہ مزید جذباتی ہو کر ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔

اس وقت امریکہ کو ایران کے ساتھ کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ امریکی عوام میں جنگ کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں تھا کہ میڈیا کی توجہ ایک بڑے اندرونی حادثے کی طرف موڑ دی جائے۔ "صدر کی جان کو خطرہ" جیسی سرخی تمام معاشی اور سیاسی ناکامیوں کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔

مخالفین یہ نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ حملہ آور کا پروفائل (ایک اکیلا شخص جو دور سے سفر کرکے آیا) بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ ماضی کے سیاسی حملوں میں دکھایا جاتا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایک آزمودہ اسکرپٹ ہے جس میں کسی ایک فرد کو مہرہ بنا کر بڑے سیاسی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں اور بعد میں اسے ذہنی مریض یا تنہا حملہ آور قرار دے کر کیس بند کر دیا جاتا ہے۔ واقعے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے مخالفین کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات سے قبل اس طرح کا واقعہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں نئی روح پھونکنے کے مترادف ہے۔ اس حملے کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس اور "فائٹ، فائٹ" کے نعرے دراصل انتخابی اشتہارات کے لیے بہترین مواد فراہم کرتے ہیں، جو کسی بھی مہنگی مہم سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

مخالفین کی ان تمام آرا کا نچوڑ یہ ہے کہ یہ حملہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا، مخالفین کو خاموش کرانا اور ٹرمپ کے گرد "ناقابلِ شکست لیڈر" کا ہالہ بنانا ہے۔ اگرچہ ان الزامات کے کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں، لیکن امریکی سیاست میں بڑھتا ہوا عدم اعتماد ان نظریات کو تقویت دے رہا ہے، کیوں کہ امریکا میں ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور امریکی صدر کے مزاج کے پیشِ نظر بعض حلقے اسے قابلِ فہم بھی سمجھتے ہیں۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Al Raheeq Al Makhtoom (10)

By Asif Masood