Behooda Viral Culture, Views Ki Daur Aur Iqdar Ka Bohran
بے ہودہ وائرل کلچر، ویوز کی دوڑ اور اقدار کا بحران

سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں شہرت اب محنت، علم یا کردار کی مرہونِ منت نہیں رہی، بلکہ چند لمحوں کی ویڈیو، کوئی لایعنی اور غیر اخلاقی حرکت یا چونکا دینے والا انداز کسی کو بھی راتوں رات "وائرل" بنا سکتا ہے۔ وائرل ہونے کی یہی ہوس اب ایک خطرناک رجحان اختیار کر چکی ہے، جس میں اسلامی تعلیمات، اخلاقی حدود، معاشرتی اقدار اور سنجیدگی سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک خاتون صحافی کے غیر مناسب لباس اور ایک مارننگ شو کی میزبان کی ٹی وی اسکرین پر نازیبا حرکات پر ہونے والی عوامی تنقید اسی وسیع تر مسئلے کا شاخسانہ ہے۔ یہ معاملہ محض ان دو افراد تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں، ترجیحات، فکری زوال اور سطحی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہار کی آزادی تو دی، مگر اس کے ساتھ ایک ایسی بے لگام فضا بھی پیدا کر دی ہے جہاں "زیادہ دیکھا جانا" ہی کامیابی کا واحد معیار بن گیا ہے، چاہے مواد کتنا ہی منفی کیوں نہ ہو۔ اس دوڑ میں کچھ لوگ شعوری اور کچھ لاشعوری طور پر ایسے رویے اپنا رہے ہیں جو نہ صرف ان کی اپنی شخصیت کو مسخ کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے پر زہریلے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے یہ بحث زیادہ شدت اختیار کر جاتی ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں عورت کو حیا، وقار اور تہذیب کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسلام سمیت تمام مذاہب نے عورت کو عزت و تکریم کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتے ہوئے اس کے لیے عفت و حیا کے احکامات عطا کیے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مرد بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ بھی غیر سنجیدہ اور اخلاق سے گری ہوئی حرکات کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے توجہ حاصل کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ بعض گھٹیا مرد تو ویوز کے لیے اپنی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں تک کو بھی سوشل میڈیا پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب بھی سراسر غلط ہے، لیکن ویوز کی دوڑ میں بہت سی خواتین نے تو خود کو محض ایک "نمائشی چیز" بنا لیا ہے، جو کہ زیادہ قابلِ افسوس امر ہے۔
بے ہودگی اور بے حیائی کے ذریعے اسلامی و اخلاقی اقدار کو پامال کرنے والی خواتین کو اگر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے، تب بھی مختلف شعبوں میں کام کرنے والی وہ خواتین جو بھڑکیلے میک آپ اور بے حجاب چہروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کی نظروں کی تسکین کا سامان بنتی ہیں، انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ وہ لاکھوں لوگوں کی ہوس ناک نظروں سے خود کو کیسے محفوظ رکھ سکیں گی؟ کیا اسلامی تعلیمات خود کو نامحرموں کے سامنے خود کو اس طرح نمایاں کرنے کی اجازت دیتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ویوز کی دوڑ اور وائرل ہونے کی خواہش نے "وقار" اور "توجہ" کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ہر توجہ مثبت نہیں ہوتی اور ہر شہرت قابلِ فخر نہیں ہوتی۔ وقتی مقبولیت جھوٹی تسکین تو دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ شخصیت اور خود اعتمادی کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس منظرنامے کا ایک ہولناک پہلو "استحصال" بھی ہے۔ جب کوئی انفلوئنسر شہرت پاتا ہے تو وہ بااثر شکاری طبقات کی نظر میں آ جاتا ہے۔ بالخصوص وائرل ہونے کی شوقین لڑکیوں کو پرتعیش زندگی اور دولت کے خواب دکھا کر جال میں پھنسایا جاتا ہے۔ کئی دولت مند افراد ان لڑکیوں سے تعلقات بناتے ہیں جو بعد ازاں دباؤ، بلیک میلنگ اور سنگین اخلاقی جرائم پر ختم ہوتے ہیں۔ آئے روز نجی ویڈیوز کا لیک ہونا اسی سنگین صورتحال کا نتیجہ ہے۔
مزید برآں، مصنوعی ذہانت (AI) کا غلط استعمال اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ آج کسی کی تصویر یا ویڈیو کو "ڈیپ فیک" کے ذریعے تبدیل کرکے اسے غلط رنگ دینا انتہائی آسان ہوگیا ہے، جو کسی کی بھی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔ لڑکیوں کو اس معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ ویوز کا جنون انہیں ان خطرات سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
بطور معاشرہ ہمیں اپنے رویوں کا محاسبہ کرنا ہوگا کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور کسے "فالو" کر رہے ہیں؟ اگر ہم سطحی اور غیر معیاری مواد کا بائیکاٹ کر دیں تو یہ کلچر خود بخود دم توڑ جائے گا۔ یہاں والدین اور خاندان کی ذمہ داری کلیدی ہے۔ اگر گھر میں اخلاقی تربیت کا فقدان ہو تو نوجوان نسل سوشل میڈیا کے بے رحم سمندر میں بھٹک جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی صرف ڈگریاں بانٹنے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے۔
ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سائبر کرائمز اور ہراسانی کے خلاف قوانین پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کروانا ہوگا، کیونکہ قانون کا خوف ہی بگاڑ کو روکتا ہے، تاہم مستقل تبدیلی شعور اور تربیت سے ہی ممکن ہے۔ اسلام ایک متوازن ضابطۂ حیات ہے جو حیا، وقار اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ مرد ہو یا عورت دونوں کے لیے حدود مقرر کی گئی ہیں تاکہ ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اگر ہم ان ابدی اصولوں کو اپنا لیں تو موجودہ دور کے بہت سے فتنے خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

