Aik Chiragh Aur Bujha
ایک چراغ اور بجھا

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی پورے ماحول کو زندگی بخش دیتی ہے۔ وہ ایک فکر، ایک تربیت، ایک احساس اور ایک عہد کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں شفقت، انداز میں خلوص، نگاہوں میں خیر خواہی اور خاموشی میں بھی علم بولتا ہے۔ جب ایسی شخصیات دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو ہزاروں دلوں کے وسیع آنگن میں ایک گہری خاموشی اتر آتی ہے۔ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے ہر دلعزیز استاذ، استاذ الحدیث حضرت مولانا غلام رسول صاحب رحمہ اللہ بھی انہی نایاب شخصیات میں سے تھے جن کے وصال نے ہزاروں شاگردوں کو سوگوار کر دیا ہے۔
مولانا غلام رسول رحمہ اللہ ان خوش نصیب اساتذہ میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علومِ نبوت کی خدمت، طلبہ کی تربیت اور دینِ اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ کتنے عظیم اور مقرب لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی صرف مدارس کے نورانی ماحول میں گزرتی ہی نہیں، بلکہ وہ خود اس ماحول کو اپنی نورانیت سے جلا بخشتے ہیں۔ بچپن سے جوانی تک قرآن، حدیث، تفسیر اور فقہ کے موتی جمع کرتے ہیں اور پھر جوانی سے بڑھاپے تک انہی علوم کو نسل در نسل منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ان کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، اہلِ خانہ اور دنیاوی مصروفیات ہوتی ہیں، مگر وہ ہر شے پر "قال اللہ و قال الرسول" کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
مادہ پرستی کے اس دور میں، جہاں دولت اور آسائش کو کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے، یہ لوگ سادگی، قناعت اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ نہ نمود و نمائش کی طلب، نہ شہرت کی تمنا اور نہ جاہ و حشم کی دوڑ۔ ان کی اصل متاع علمِ دین اور طلبہ کی روحانی تعمیر ہوتی ہے۔ بیشتر اساتذہ اپنی زندگی انہی حجروں میں گزار دیتے ہیں جہاں وہ نسلوں کی فکری آبیاری کرتے ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں جن کے قدموں کی خاک بھی سعادت مندوں کے لیے سرمہ بصیرت ہے۔ مولانا غلام رسول صاحب مرحوم بھی انہیں خوش نصیب لوگوں میں سے تھے۔
مولانا غلام رسول صاحب رحمہ اللہ کی شخصیت علم، شفقت، وقار، خوش مزاجی اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ درجۂ اولیٰ سے دورۂ حدیث تک ان سے کئی کتب پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔ طلبہ کے ساتھ ان کا تعلق پدری شفقت اور گہرے اعتماد پر مبنی تھا۔ آج ان کے بے شمار شاگرد رنجیدہ ہیں، مگر یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ ہزاروں زبانیں ان کے لیے رطب اللسان اور ہزاروں دل ان کی یاد سے آباد ہیں۔ ہزاروں شاگرد ان کو اپنی دعاؤں میں یاد کررہے اور یہ ہزاروں شاگرد ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں جن کے سینوں کو استاذ محترم نے برسوں منور کیا۔
ان کی خوش مزاجی اور شگفتہ بیانی نے انہیں طلبہ کے دلوں میں منفرد مقام عطا کر رکھا تھا۔ ان کے درس میں علم کے ساتھ مسکراہٹ، سبق کے ساتھ محبت اور اصلاح کے ساتھ اپنائیت کا عنصر نمایاں ہوتا تھا۔ وہ مشکل علمی مباحث کو اس قدر سہل انداز میں سمجھاتے کہ پیچیدہ عبارتیں بھی ذہن نشین ہو جاتیں۔ اختصار، جامعیت، وقت کی پابندی اور مکمل تیاری ان کا طرۂ امتیاز تھی۔ دورانِ سبق کوئی لطیف نکتہ، کوئی دلچسپ واقعہ یا کسی طالب علم کی اصلاح اس محبت سے کرتے کہ تعلق مزید مستحکم ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی مجلس میں بیزاری کے بجائے ذوق و شوق کا ماحول رہتا تھا۔
احادیثِ مبارکہ میں عالم کی وفات کو عالم (دنیا) کی وفات قرار دیا گیا ہے، کیونکہ علماء انبیاءِ کرام علیہم السلام کے وارث ہیں۔ جب کوئی مخلص عالم دین رخصت ہوتا ہے تو ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جو مدتوں پُر نہیں ہو پاتا۔ مولانا غلام رسول رحمہ اللہ بھی اسی کہکشاں کے روشن چراغ تھے جنہوں نے خاموشی اور استقامت سے اپنی زندگی دین کے لیے نچھاور کر دی۔ ایسے لوگ حقیقت میں کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے تلامذہ کے کردار، علمی خدمات اور خوشبو دار یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ جب بھی جامعہ امدادیہ کے بچھڑے ہوئے ساتھی اکٹھے ہوں گے، ان کا تذکرہ ضرور ہوگا۔ ان کے جملے دہرائے جائیں گے، ان کا اندازِ تدریس یاد آئے گا اور آنکھیں نم ہو جائیں گی۔ یہی کسی استاد کی اصل فتح ہے کہ وہ رخصت ہو کر بھی دلوں میں دھڑکتا رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے استاذ محترم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

