Thursday, 22 January 2026
  1.  Home
  2. Syed Badar Saeed
  3. Sahafion Ke Liye Online Zaraye Aamdan

Sahafion Ke Liye Online Zaraye Aamdan

صحافیوں کے لیے آن لائن ذرائع آمدن

پاکستان میں صحافت کے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی مہنگائی نے واضح کر دیا ہے کہ اب اس شعبے میں صرف تنخواہ پر انحصار خطرناک ہو چکا ہے اس لیے ایماندار، محب وطن اور حق حلال پر یقین رکھنے والے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کا ملازمت کے بعد گھر بیٹھ کر آن لائن کمائی کرنے والی ڈیجیٹل سکلز کی طرف جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ سکلز صحافت سے متصادم نہیں بلکہ اسی پیشے کی توسیع ہیں جنہیں شام یا رات کے چند گھنٹوں میں سیکھ کر اضافی اور بعض اوقات بنیادی آمدن بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صحافت کے علاوہ قلم قرطاس اور تخلیق سے جڑے دیگر شعبوں سے منسلک افراد بھی اس راستے پر سفر کر سکتے ہیں۔

ماضی میں پاکستان گلف سمیت دیگر ممالک کو مین پاور مہیا کرتا تھا۔ پاکستان کے مزدور، ڈرائیور اور پلمبر سمیت دیگر افراد بڑی تعداد میں مڈل ایسٹ میں ملازمت کرنے جاتے رہے ہیں۔ اب بھی دنیا بھر میں پاکستانی ڈیجیٹل ایکسپرٹ اپنی سروسز مہیا کر رہے ہیں۔ ڈالر اور روپے کا فرق جہاں مشکلات کا باعث بنا وہیں یہ فرق ڈیجیٹل ورلڈ سے روزگار کمانے والوں کے لیے تیزی سے امیر ہونے کا باعث بھی بن رہا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی آن لائن سکلز میں شامل ہے، جس میں سوشل میڈیا پیجز چلانا، پوسٹس اور کمپینز بنانا، گوگل اور فیس بک اشتہارات اور آن لائن برانڈ پروموشن شامل ہے۔ ڈیجی سکلز کے مطابق 2018 سے اب تک 45 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ سمیت مختلف کورسز مکمل کیے ہیں جن میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو ملازمت کے ساتھ آن لائن کام کر

رہے ہیں۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرنے والے افراد جز وقتی طور پر بھی 40 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ کما لیتے ہیں جبکہ تجربہ اور بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ یہ آمدن 2 سے 3 لاکھ روپے ماہانہ تک معمول سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح ای۔ کامرس مینجمنٹ ایک اور ایسی سکل ہے جو مکمل طور پر گھر بیٹھ کر کی جا سکتی ہے، جس میں شاپی فائی، ایمازون یا دراز جیسے پلیٹ فارمز پر اسٹور چلانا، پروڈکٹ لسٹنگ، آرڈر مینجمنٹ اور اشتہارات شامل ہوتے ہیں۔ DigiSkills اور دیگر سرکاری پروگراموں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ای-کامرس اسسٹنٹس اور منیجرز ملازمت کے ساتھ آن لائن کام کرکے 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد اپنی ذاتی آن لائن سٹور کے ذریعے اس سے بھی زیادہ منافع حاصل کر رہے ہیں۔

اے آئی فار میڈیا حالیہ برسوں میں سب سے تیزی سے ابھرنے والا میدان ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، چیٹ جی پی ٹی، ویڈیو ٹولز، اے آئی گرافکس اور آٹومیشن کے ذریعے خبری سکرپٹس، سوشل میڈیا پوسٹس، ویڈیوز اور مارکیٹنگ کنٹینٹ تیار کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی فری لانس رپورٹس کے مطابق پاکستانی فری لانسرز سے آئی ٹولز کو بطور معاون استعمال کرکے ماہانہ 500 سے 3000 ڈالر تک بھی کما رہے ہیں جو پاکستانی روپے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے آٹھ لاکھ روپے بنتے ہیں اور یہ کام زیادہ تر ملازمت کے بعد چند گھنٹوں میں کیا جا رہا ہے۔ ایس سی او کانٹنٹ رائٹنگ بھی وہ سکل ہے جس میں صحافی سب سے زیادہ تیزی سے ایڈجسٹ ہو سکتا ہے کیونکہ خبر لکھنے، سرخی بنانے اور معلومات کو منظم انداز میں پیش کرنے کی تربیت پہلے سے موجود ہوتی ہے صرف اس کی ایس سی او تکنیک سیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں فری لانس ایس ای او رائٹرز اور بلاگرز جز وقتی طور پر 40 ہزار سے ڈیرھ لاکھ روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں جبکہ مستقل کلائنٹس مل جائیں تو یہ آمدن مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کام کے لیے صرف لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کافی ہوتا ہے۔ اسی شعبے سے منسلک گرافک ڈیزائن اور ویڈیو ایڈیٹنگ خاص طور پر یوٹیوب شارٹس، ریلز اور سوشل میڈیا کنٹینٹ کی سروسز بھی گھر بیٹھے کمائی کا موثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ویڈیو ایڈیٹنگ کرنے والے افراد شام کے اوقات میں کام کرکے 35 ہزار سے ایک لاکھ 80 ہزار روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں جبکہ AI ٹولز استعمال کرنے والے ایڈیٹرز کم وقت میں زیادہ کام مکمل کرکے بہتر معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ان تمام ڈیجیٹل سکلز میں کامیابی کا انحصار ڈگری یا عہدے پر نہیں بلکہ عملی مہارت اور پورٹ فولیو پر ہوتا ہے۔ فری لانس پلیٹ فارمز اور ڈائریکٹ کلائنٹس صرف یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کام کر سکتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ باقاعدگی سے پریکٹس کرتے ہیں اور چھوٹے کاموں سے آغاز کرتے ہیں وہی آگے جا کر بہتر کمائی تک پہنچتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی تیزی سے پھیل رہی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فری لانسنگ اور آئی ٹی سروسز سے آنے والی آمدن میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں صحافی اگر ملازمت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ، ای-کامرس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس فار میڈیا اور متعلقہ مہارت سیکھ لے تو وہ نہ صرف اپنی معاشی مشکلات کم کر سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ متبادل آمدن کا راستہ بھی بنا سکتا ہے جو غیر یقینی صحافتی ماحول میں ایک مضبوط سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ صحافی معاشی طور پر جتنا مضبوط ہوگا اتنی ہی "خبر" مضبوط ہوگی اس لیے شعبہ صحافت میں معاشی استحکام ملک و قوم کی ترقی اور حقائق کو زندگی رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

Check Also

Wali Ullah (6)

By Rizwan Akram