Thursday, 16 April 2026
  1.  Home
  2. Shahzad Malik
  3. Garish e Ayyam

Garish e Ayyam

گردش ایام

انیس سو اسی میں جب ہم افریقی ملک صومالیہ کے شہر ہرگیسہ میں پہنچے تو شروع میں ہمیں سب سے بڑی مشکل کھانے کے بارے میں ہوئی۔ اس علاقے کے لوگوں کی بنیادی خوراک گوشت تھی۔ حلوہ کدو کے علاوہ سبزی کوئی بھی نہیں ہوتی تھی۔ گھروں میں روٹی پکانے کا رواج نہیں تھا۔ دیسی تنوروں سے بن کی طرح میدے کی روٹی ہوتی جس میں صفائی کا خیال نہ رکھا جاتا اور مٹی کنکر ساتھ ہی پکے ہوتے۔

جو گھر ہمیں ملا اس میں کھانا پکانے کے لئے تیل کا چولہا تھا گیس کا وہاں کوئی تصور نہ تھا، مارکیٹ میں آلو پیاز لہسن اور مصالحے سب ملتے تھے لیکن ایتھوپیا سے آتے تھے۔ ہمارے کچھ دن تو دعوتوں اور ہوٹل سے کھانے میں گزر گئے لیکن پھر مارکیٹ کا چکر لگا کر ضروری چیزیں اور مصالحے خریدے اور اپنا کچن شروع کیا۔ گوشت میں آلو خالی گوشت کا شوربہ قیمہ آلو گوشت میں حلوہ کدو پکانے کو بس یہی کچھ میسر تھا۔ گندم کا آٹا بھی نہیں تھا اور توا تو ڈھونڈے سے بھی نہ ملا تو روٹی کیسے پکتی۔ ناچار ایک نسبتاََ بہتر مقامی تنور سے روٹی لائی جاتی۔ موٹے چاول صرف پلاؤ کی شکل میں کھانے کے قابل ہوتے بس ان چند چیزوں کو ادل بدل کرکے پکا لیتے پیٹ تو کسی طور بھرنا ہی تھا نا جیسے تیسے بھر لیتے۔۔

پہلی بار ہم سال بھر وہاں رہے تیل کا چولہا جلانے کے لئے مٹی کے تیل کی کمی نہ آئی۔ بجلی کی سپلائی بھی بہتر رہی بجلی کے جنریٹر ڈیزل سے چلتے تھے۔ مٹی کا تیل اور ڈیزل سعودی عرب سے آتا تھا سبزیوں اور توے کی روٹی کی کمی کے علاوہ کوئی مشکل نہ تھی۔ سارا سال موسم ایک جیسا خوشگوار رہنے کی وجہ سے اے سی پنکھے کی بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، سالانہ چھٹی کا وقت آیا تو ہم پاکستان چلے آئے واپسی پر ملک صاحب اکیلے واپس گئے میں اور بچے پاکستان میں ہی رہ گئے۔

اگلے سال ملک صاحب ہمیں پھر ساتھ لے گئے، اب کی بار حالات کچھ مختلف تھے مٹی کے تیل اور ڈیزل کی کمی ہو چکی تھی صومالی حکومت کے پاس پیسے نہیں تھے، سعودی عرب سے تیل بہت کم آرہا تھا۔ ملک میں راشن بندی کردی گئی تھی۔ بجلی گھر کو صبح چھ بجے سے آٹھ بجے تک دو گھنٹے اور شام چھ بجے سے آٹھ بجے تک دو گھنٹے کے لئے ڈیزل دیا جاتا تو دو وقت بجلی آتی کبھی پورا دن بجلی نہ آتی تو معلوم ہوتا کہ ساحلی شہر بربرا سے آئل ٹینکر نہیں پہنچا اور بجلی کے جنریٹر نہیں چلے۔

ہم لوگ جو اس وقت پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے نام سے بھی واقف نہ تھے وہاں بجلی کی اس قدر کمی کا سامنا کر رہے تھے۔ مجبوری تھی وہاں رہنا جو تھا شکر کا مقام یہ تھا کہ موسم ذیادہ بجلی کا محتاج نہیں تھا دھوپ میں گرمی لگتی تھی لیکن سائے میں اور گھر کے اندر ٹھنڈی ہوا گرمی کا احساس نہ ہونے دیتی۔ انسان کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے یہ جس ماحول میں رہتا ہے اسی سے مطابقت اختیار کر لیتا ہے ہم نے بھی بجلی کی کمی کے ساتھ اپنے معمولات کو ڈھال لیا بجلی سے کرنے والے سب کام صبح شام کے اوقات میں کر لئے جاتے سب کے کپڑے استری ہوتے تاکہ ضرورت کے وقت پریشانی نہ ہو۔ اس کے علاوہ دن میں بجلی نہ ہونے سے کوئی مشکل نہ ہوتی۔ رات میں روشنی کے لئے کیروسین لیمپ ہر کمرے میں رکھ لئے بجلی جانے کے بعد جب تک بچے جاگتے رہتے لیمپ جلتے بعد میں بند کر دیئے جاتے۔ رات میں ایمرجنسی کے لئے بڑی ٹارچ رکھی رہتی کچن میں کام کرنے کے لئے بڑے دو لیمپ جلا لیتے باہر سے آتے تو اندھیرے گھر میں داخلی دروازے کے ساتھ ایک لیمپ اور ماچس کی ڈبیا رکھی ہوتی۔ اندر داخل ہو کر لیمپ جلا کر روشنی کر لی جاتی وہی لیمپ کاریڈور میں رکھ لیا جاتا جس کی مدھم روشنی میں آسانی سے سارے گھر میں پھر سکتے تھے۔ یوں بجلی کی کمی کو سر پر سوار کرکے ہر وقت جی جلانے کی بجائے ہم نے لیمپوں کے بہتر استعمال سے اپنے لئے آسانی پیدا کرلی۔

ڈیزل کی کمی تھی تو ساتھ مٹی کے تیل اور پٹرول کی کمی تو لازمی تھی۔ حکومت کی طرف سے وہاں کی مقامی آبادی اور مختلف پروجیکٹس پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کے لئے پٹرول اور مٹی کے تیل کا کوٹہ مقرر کر دیا۔ ہمیں مٹی کے تیل کے دس دس لیٹر کے دو کین مہینے کے ملتے جسے ہم مٹی کے تیل کے چولہے اور لیمپوں میں استعمال کرتے تھے۔ تیل کا چولہا ہم صرف ناشتے کے وقت یا مہمانوں کے لئے چائے بناتے وقت جلاتے، کھانا ہم کوئلے کی انگیٹھی پر پکاتے ہماری ملازمہ آکر مجھے انگیٹھی میں کوئلے دہکا دیتی اور میں دوپہر اور رات کے لئے ہانڈی بنا لیتی۔

پاکستان سے میں توا لے کر گئی تھی ایک سکھ خاتون گندم پسوا کر دیسی آٹا ہمیں بھجوا دیتی تو ان دنوں روٹی گھر پر پکنا شروع ہو چکی تھی۔ اس دوران شہر میں فرنچ بریڈ کا پلانٹ لگ چکا تھا وہاں سے دو فٹ لمبی ڈنڈا نما بہت مزیدار فرنچ بریڈ ناشتے کے لئے آتی تھی۔ بچوں نے اس کا نام ڈنڈا روٹی رکھا تھا۔ کوئلے کی انگیٹھی پر ہانڈی پکا کر مزید کوئلے ڈال کر روٹیاں بھی بن جاتیں شام کے لئے بھی اسی وقت بنا لیتی آٹا ایسا تھا کہ پکا کر رکھی ہوئی روٹی ہاٹ پاٹ میں بہت نرم رہتی۔ ہم نے اپنی طبیعتوں کو ٹھنڈی گرم روٹی کے نخرے سے آزاد کرلیا تھا۔ تیل کا چولہا جلا کر سالن گرم کرکے ہاٹ پاٹ سے نکال کر روٹی کھا لی جاتی کبھی کوئی سالن فرنچ بریڈ کے ساتھ اچھا لگتا تو وہی لے آتے۔ یہ روٹی لینے ہم سب جاتے پلانٹ کے اوون سے اتنی اچھی خوشبو آتی کہ ایک دو روٹیاں تو ادھر ہی کھالی جاتیں۔

بجلی اور مٹی کے تیل کی کمی کا وہاں رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو ہی سامنا تھا اپنے اپنے طور پر سب نے اس سے نمٹنے کا بندوبست کر لیا تھا۔

ایران امریکہ اسرائیل جنگ سے پیدا شدہ حالات میں دنیا میں تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قلت نے خلق خدا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج کی نسل نے تو ایسے حالات دیکھے ہی نہیں یہ تو ہم تھے کہ جہاں بھی گئے وہاں جیسے بھی حالات تھے ان کے مطابق اپنے آپ کو عادی بنایا اور خوش رہے۔

کل سے یہاں بھی بجلی اور گیس کی ضرورت سے ذیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے تو ہمیں پرانے دن یاد آرہے ہیں اللہ نہ کرے کہ حالات اس نہج تک جائیں گردش ایام کہیں پیچھے کو نہ لوٹنے لگے۔

Check Also

Bharat Ko Pakistan Kyun Charh Gaya Hai?

By Arif Anis Malik