Friday, 28 February 2025
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Punjab Ko Maa Mil Gayi Hai

Punjab Ko Maa Mil Gayi Hai

پنجاب کو ماں مل گئی ہے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بہت کچھ، بہت اچھا کر رہی ہے، عوامی فلاح کے اتنے پراجیکٹ ہیں کہ اگر میں اپنے کالم میں ان پر دو، دو فقرے بھی لکھنا چاہوں تو کالم ختم ہوجائے مگر پراجیکٹس ختم نہ ہوں۔ مریم نواز پنجاب کو اپنا گھر سمجھ کے اسی طرح کام کر رہی ہیں جیسے گھر میں ایک اچھی ماں کرسکتی ہے کہ وہ گھر کے مسائل کو جانتی ہے، گھر کے دکھ درد سمجھتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دیتی ہے اور ان کی صحت پر بھی۔ ان کو کھیلتے ہوئے بھی دیکھنا چاہتی ہے اور انہیں آسان کاروبار کے مواقع بھی دینا چاہتی ہے مگر بیٹیوں کے پیدا ہونے پر مائیں ایک کام ان کے جوان ہونے سے بھی بہت پہلے شروع کر دیتی ہیں، ان کی شادی کا انتظام۔

وہ برتن اور کپڑے جمع کرنا شروع کر دیتی ہیں کہ کوئی اچھا سمجھے یا برا، یہ ایک روایت ہے کہ بیٹیوں کے گھر بستے ہیں تو ماں اور باپ انہیں اتنا سامان ضرور دیتے ہیں کہ جس سے گھر گرہستی شروع ہوسکے۔ کچھ کچن، کچھ بیڈروم اور کچھ ڈرائنگ روم کا سامان۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہمارے معاشرتی رسم و رواج اوراس سے بھی بڑھ کے لالچ نے جہیز کو ایک مصیبت بنا دیا ہے حالانکہ یہ تو محض نئے گھر اور نئے خاندان کی شروعات پر ایک تحفہ ہوتا ہے۔ باپ کما کے لاتا ہے اور ماں کمیٹیاں ڈال کے رقم جمع کرتی ہے۔ بہت سارے باپ جب ریٹائر ہوتے ہیں تو ملنے والی تمام رقم سے بیٹیوں کی شادیاں کرتے ہیں اور اب ایک شادی کاخرچہ ہی بہت سارے لاکھوں تک میں پہنچا ہوا ہے۔

میں نے مریم نوا ز کو پنجاب بھر کے شہروں میں بیٹیوں کی شادیاں کرواتے ہوئے دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا۔ بہت سارے کم ظرف مذاق اڑا رہے تھے جب ایک بچی یہ نظم پڑھ رہی تھی کہ پنجاب کو ماں مل گئی ہے۔ جوہونہار بچوں اور بچیوں کو سکالرشپس دے رہی ہے، ان کی پوری کی پوری فیسیں ادا کر رہی ہے۔ جو پنجاب بھر کے گندے بازاروں کو صاف ستھرا بنا رہی ہے۔ جو گندی مندی ریڑھیوں والوں کو صاف ستھری، خوبصورت اور شاندار ریڑھیاں دے رہی ہے اور وہ بھی بلامعاوضہ۔

یہ مذاق اڑانے والے وہ لوگ ہیں جو پنجاب میں عثمان بزدار جیسی نااہل قیادت کو وسیم اکرم قرار دیتے ہوئے نہ ہچکچاتے تھے اور نہ صوبے کے عوام کو نظرانداز کرتے ہوئے وفاق پر حملہ آور گنڈا پور کو سراہتے ہوئے شرماتے ہیں، بہرحال، جمہوریت میں عوام خود اپنے نصیب کا فیصلہ کرتے ہیں اور اپنے پختونخوا کے عوام نے ایسے فیصلے کئے ہیں تو ان کی مرضی۔ مریم نواز نے اپنی وزارت اعلیٰ کا ایک برس مکمل ہونے سے بھی پہلے اپنے کام سے اپنا لوہا اس طرح منوایا ہے کہ دوسرے صوبوں کے عوام اسی طرح خواہش کر رہے ہیں کہ مریم نواز ان کی وزیراعلیٰ ہوں جیسے وہ شہباز شریف کو اپنے چیف منسٹر کے طور پر مانگا کرتے تھے۔

میں ذاتی طور پر مراد علی شاہ کو ایک اچھا وزیراعلیٰ سمجھتا ہوں مگر اس کے باوجود کراچی کے تاجروں نے ان کے بدلے کیمروں کے سامنے مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنانے کا ایسا مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کو خود میدان میں آنا پڑا۔ انہیں تاجروں کا کنونشن کرنا پڑا اور کہنا پڑا کہ جسے شکایت ہے وہ ان کے پاس آئے، کوئی چغلی نہ لگائے۔ ایک دو استثناوں کے ساتھ، پنجاب گورننس کے حوالے سے ہمیشہ خوش قسمت رہا ہے۔

میں نے تفصیلات لیں، دھی رانی پروگرام کا آغاز لاہور میں 11 جنوری 2025 کو ایک عظیم الشان تقریب کے ساتھ کیا گیا، جس میں 49 جوڑوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا۔ دھی رانی پروگرام کے تحت تقریباً پانچ ہزار مستحق لڑکیوں نے رجسٹریشن کروائی۔ رجسٹریشن کا عمل 15 نومبر 2024 تک مکمل ہوا اور پہلے مرحلے کے لئے حکومت پنجاب نے 50 کروڑ روپے مختص کیے۔ اس پروگرام میں اجتماعی شادیوں کے انتظامات کے لئے محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب نے تمام وسائل کو بروئے کار لایا۔

پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ کے تیار کردہ پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل شفافیت کے ساتھ مکمل کیا گیا، جس میں سب سے زیادہ درخواستیں مظفرگڑھ سے موصول ہوئیں۔ اجتماعی شادیوں کا یہ سلسلہ لاہور کے بعد دیگر شہروں میں بھی جاری رہا۔ 20 جنوری کو چکوال میں 27,21 جنوری کو اوکاڑہ میں 65 اور 22 جنوری کو خوشاب میں 58 جوڑوں کی شادیاں کروائی گئیں۔ اسی روز قصور میں 39 جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے۔

23 جنوری کو ڈی جی خان میں 32 اور بہاولپور میں 45 جوڑوں کی شادیاں ہوئیں، جبکہ 24 جنوری کو ملتان میں 49 جوڑوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا۔ فیصل آباد میں 25 جنوری کو 36 اور ساہیوال میں 27 جنوری کو 47 جوڑوں کی شادیاں انجام دی گئیں۔ اب تک مجموعی طور پر 10 تقریبات میں 447 جوڑوں کو شادی کے مقدس بندھن میں باندھا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ 15 فروری تک جاری رہے گا۔

پروگرام کے تحت ہر جوڑے کو 164,000 روپے کا پیکج دیا جاتا ہے، جس میں شادی کے اخراجات، تحائف، ایک لاکھ روپے کی سلامی اور تقریب میں 20 مہمانوں کے کھانے کا انتظام شامل ہے۔ مالی امداد کی شفاف ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے بینک آف پنجاب کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ درخواستوں کی جانچ اور حتمی سفارشات متعلقہ تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی افسران کے ذریعے کی جاتی ہیں، جبکہ تمام انتظامات کی نگرانی صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ذمہ ہے۔

میں جب یہ کالم لکھنے بیٹھا تھا تو اس وقت وزیراعظم شہباز شریف نو مئی اور چھبیس نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کی جگہ پارلیمانی کمیشن بنانے کی پیشکش بھی سامنے آچکی ہے اور اس پر ایک دھانسو قسم کا سیاسی کالم لکھا جا سکتا ہے مگر میں نے سوچا کہ سیاست تو عمربھر چلتی رہے گی کچھ کام سیاست سے ماورا بھی ہوتے ہیں جو نیک نیتی اور خلوص دل سے کئے جاتے ہیں۔ جن کا اجر اللہ تعالیٰ کی ذات دیتی ہے۔ حکومتوں کے سامنے پچاس کروڑ کی رقم کچھ بھی نہیں ہوتی مگر اسے بچیوں کے لئے خرچ کرنے کا حوصلہ اور نیت ہونی چاہئے۔

دھی رانی پروگرام نہ صرف مستحق لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کی دعائیں سمیٹ رہا ہے بلکہ یہ معاشرتی انصاف اور برابری کا ایک شاندار نمونہ بھی پیش کر رہا ہے۔ شادی کے ذریعے دو افراد اور خاندانوں کے درمیان محبت اور اعتماد کا رشتہ قائم ہوتا ہے یہ پروگرام ان خوابوں کی تعبیر ہے جو وسائل کی کمی کے سبب ادھورے رہ جاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں یہ اقدام معاشرتی بھلائی کا بہترین مظہر ہے، انہوں نے غریب اور مستحق خاندانوں کی زندگیوں میں خوشیاں بھر دی ہیں۔ یہی کام اگر یورپ میں ہو رہا ہوتا تو ہمارے کچھ لوگ اس کی تعریفیں کر رہے ہوتے، مجھے لگتا ہے کہ محض ایک کالم اس فلاحی کام کے لئے تھوڑا ہے، ہمیں اس پر تالیاں بجانی چاہئیں، کھڑے ہو کے سراہنا چاہئے۔

Check Also

Josh Sahab

By Mubashir Ali Zaidi