Thursday, 01 January 2026
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Kesa Hoga 2026?

Kesa Hoga 2026?

کیسا ہو گا 2026؟

صحافی بھی آدھا نجومی ہوتا ہے۔ نجومی ستاروں کی چالوں کودیکھتے ہیں اور صحافی سیاسی رہنمائوں کی، مجھے اپنے ستارہ شناسوں کے ساتھ سال کے آخر میں پروگرام کرنے اور اگلے برس بارے پیشین گوئیاں کروانے کا برس ہا برس کا تجربہ ہے اور اسی تجربے کی روشنی میں، میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے کئی نجومی بھی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں سے پوچھ کے پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ انقلاب کی پیشین گوئیاں بہت زیادہ اِن، تھیں اور ہمارے ایک بزرگ نجومی ہر برس ہی ایک بڑے خون خرابے کی پیشین گوئی کرکے رخصت ہوجاتے۔ جب یہ معاملہ دوچار برس تک چلا توایک بار میں نے اپنے چینل کے مالک سے کہا کہ اگر آپ کہیں تو اس برس ان کی پچھلے برسوں کی، کی ہوئی پیشین گوئیاں چلا دیتے ہیں، وہ میری بات سن کر ہنس دئیے، وہ ملنسار آدمی ہیں، کہنے لگے، وہ سب ہمارے دوست ہیں اور دوستوں کو شرمندہ نہیں کرتے۔ ان میں ایک خاتون بھی تھیں جو ایک اور طریقے سے پیشین گوئیاں کرتی تھیں۔

سچ تو یہ ہے کہ بہت سارے ستارہ شناس محض ٹیوے، مارتے ہیں اور ہر قسم کے ٹیوے، مار دیتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی درست نکل آتا ہے تواس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جیسے ایک دو برس پہلے تک میرے پروگرام میں آنے والے ستارہ شناسوں کی دو قسم کی پیشین گوئیاں بہت اِن تھیں، ایک یہ کہ عمران خان واپس آنے والا ہے اور دوسری یہ کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی طلاق لینے والی ہیں، ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والی ہیں۔ موخرالذکر پیشین گوئی جنہوں نے کی، انہوں نے اس کامجھے مہینہ بھی بتا دیا، میں دیکھ رہا تھا کہ وہ اس برس بھی مختلف ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے ایسی ہی یوولیاں، مار رہے تھے اور بہت سارے سن رہے تھے۔

ہوتا یوں ہے کہ ہر ستارہ شنا س کی کوئی نہ کوئی سیاسی وابستگی ہوتی ہے اور کچھ خواہشات۔ وہ ستاروں کی چالوں کو اس کے مطابق ڈھال کے پیش کر دیتا ہے۔ وہ حالات و واقعات کا جائزہ لیتا ہے اور ایسے دعوے کر دیتا ہے جو قانون امکانات کے تحت ہوسکتے ہیں اور ان میں سے بہت کچھ ہوبھی جاتا ہے۔ جیسے میں نے شروع میں لکھا کہ صحافی بھی آدھا نجومی ہوتا ہے تو وہ بھی بہت ساری باتوں کی پیشین گوئی کردیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی چڑیا نے بتایا ہے یا وہ اسے اپنی صحافتی چھٹی حس قرار دے دیتا ہے جو ایک اچھا لفظ ہے مگر اس کے لئے بہترین لفظ ٹیوا " ہی ہے یعنی ٹیبل سٹوری۔

آپ کو ایک دلچسپ بات بتائوں کہ ایسے بہت سارے ٹیوے میں نے بھی بطور رپورٹر لگائے اور ان میں سے کئی تو لیڈ سٹوری بھی شائع ہوئے مگر یہ تھوڑے سے مختلف ہوتے تھے۔ اس میں میرے بڑے بھائیوں کی طرح محترم صحافی نے مجھے ایک اصول بتایا تھا کہ خبر کی بنیاد درست ہونی چاہئے اوراس کے اوپر محل تم نے خود تعمیر کرنا ہے۔ ان کا نام میں نہیں بتائوں گاکیونکہ مجھے ان سے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لینا۔ نوے کی دہائی تھی اور میاں نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد ہر ویک اینڈ پر لاہور آیاکرتے تھے۔

وہ ماڈل ٹائون سے جاتی امرا چلے جاتے جہاں وہ دوپہر کا کھانا اپنے والد کے ساتھ کھاتے اور اس میں وزیراعلیٰ شہباز شریف شامل ہوتے۔ ہم یہاں پر ٹیوے لگاتے، دنیا بھر کے مسائل جمع کرتے، وزیراعظم کی طرف سے انہیں حل کرنے کی ہدایات جاری کرواتے یا کبھی کبھار میاں محمد شریف کی طرف سے بھی۔ بس کنفرم یہ کرنا ہوتا تھا کہ میاں نواز شریف رائے ونڈ گئے ہیں باقی سب ٹیوے ہوتے، نہ ہماری سٹوری کی تردید ہوتی اور نہ ہی ایسے نجومیوں کی ہوتی ہے۔

مجھے اس امر کا اعتراف کرنے میں بھی عار نہیں کہ کئی نجومیوں کی کئی پیشین گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں اور ایسی ہی ایک خاتون نجومی ہیں، میں نے ان کا ایک دو جگہ پر حوالہ دیا تو ایک جگہ سے جواب آیا کہ اگر وہ اتنی ہی بڑی نجومی تھیں تو انہیں اپنے شوہر کے انتقال بارے کیوں پہلے پتا نہیں چلا جب وہ ساری دنیا کے لوگوں کو ان کے رزق، صحت بارے بتاتی ہیں۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا مگر میں جس ماہر علم نجوم سے متاثر ہوا وہ شیخ طارق اقبال ہیں۔ انہوں نے حیرت انگیز طور پر کورونا بارے پیشین گوئی کی تھی اور میرے پروگرام میں کہا تھا کہ دنیا میں ایسی بڑی تبدیلی آنے والی ہے کہ وہ پہلی اور دوسری عظیم جنگوں سے بھی زیادہ لوگوں کو متاثر کرے گی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس پروگرام میں ایک نجومی جو کہ علم نجوم کو باقاعدہ پڑھاتے ہیں اور ایک خاتون نجومی موجود تھیں اور دونوں نے کیمرہ بند ہونے کے بعد شیخ طارق اقبال کا مذاق اڑایا تھا کہ انہوں نے یہ کیسے پڑ ھ لیا مگر ان کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی۔ یہ وہ ستارہ شناس ہیں جنہوں نے اس وقت عمران خان کے زوال کے بارے پیشین گوئی کی جب سب اس کی طاقتور واپسی کی بات کر رہے تھے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ غیب کا علم صر ف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اقبال علیہ رحمہ نے فرمایا تھا، ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا، وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوارو زبوں۔

مجھے اچھی طرح علم ہے کہ آپ یہ کالم ابھی تک اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ آپ کو آج سے شروع ہونے والے سال کے بارے پیشین گوئیاں مل سکیں تو مجھے آپ سے کہنا ہے کہ سیاست تو جس طرح چل رہی ہے اسی طرح چلتی رہے گی اور میری پیشین گوئی ہے کہ پی ٹی آئی کے لئے اگلا سال بھی اتنا ہی مشکل ہوگا جتنے کہ پچھلے دو، تین برس رہے بلکہ شائد اس سے بھی کچھ زیادہ۔ اب تک کی مُووز میں صاف نظر آ رہا ہے کہ فیض حمید اور عمران خان نو مئی کے ماسٹر مائینڈ اور منصوبہ ساز کے طور پر کیپیٹل پینشمنٹ، کی طر ف بڑھ رہے ہیں۔ جہاں تک آپ کا سوال معاشی بہتری کے حوالے سے ہے تو ملک کے معاشی اشاریے مزید بہتر ہوں گے مگر آپ کے حالات اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب تک آپ خود نہیں بدلیں گے۔

اگر آپ اسی طرح سست، منفی اور کام چو ر رہے تو آپ کی آمدن بڑھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ آپ کی محبت آپ کو مل جائے گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ مل بھی گئی تو اپنی بیوی یا شوہر کواس کاپتا مت چلنے دیجئے گا ورنہ سارے ستارے الٹے سیدھے ہوجائیں گے اور آپ خود بھی۔ میں اس امر کا بہت قائل ہوں کہ تبدیلی باہر سے نہیں بلکہ انسا ن کے اندر سے آتی ہے اور انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتاہے۔ میری دعا ہے کہ میرا رب نئے برس کو ہم سب کے لئے گزرے ہوئے برس سے بہت بہتر بنادے، ہمیں مزید شکر کرنے کے موقعے اور توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

Check Also

Imam e Muhammad Taqi Al Jawad

By Safdar Hussain Jafri