Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Tehreem Ashraf
  4. Eid Ul Azha 2026: Mehangai Se Pareshan Awam

Eid Ul Azha 2026: Mehangai Se Pareshan Awam

عیدالاضحیٰ 2026: مہنگائی سے پریشان عوام

پاکستان میں عیدالاضحیٰ 2026 کی آمد کے ساتھ ہی گلیاں، کوچے، بازار اور مویشی منڈیاں جانوروں سے سج چکی ہیں۔ شہروں کے داخلی راستوں سے لے کر دیہات کی پگڈنڈیوں تک ہر طرف قربانی کے جانوروں کی رونق دکھائی دے رہی ہے۔ کہیں خوبصورت بیلوں پر رنگ برنگی جھالر یں لگی ہیں، کہیں بکرے گھنٹیوں اور مہندی سے سجے کھڑے ہیں، جبکہ بچے اور نوجوان جانوروں کے ساتھ تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں کا ماحول ایک تہوار کا منظر پیش کر رہا ہے، مگر اس بار خوشی کے ساتھ پریشانی بھی نمایاں ہے کیونکہ جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

رواں سال پاکستان میں مہنگائی، چارے کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور جانوروں کی دیکھ بھال پر آنے والی لاگت میں اضافے نے قربانی کے جانوروں کے ریٹ آسمان تک پہنچا دیے ہیں۔ گزشتہ برس جو بکرا پچاس سے ساٹھ ہزار روپے میں مل جاتا تھا، وہی اس سال ساٹھ سے ستر ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اعلیٰ نسل کے بکرے ڈیڑھ لاکھ سے اوپر جا چکے ہیں۔ بیل، گائے اور اونٹ کی قیمتوں میں بھی بیس سے تیس فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ کئی منڈیوں میں درمیانے درجے کے بیل تین سے چار لاکھ روپے تک مانگے جا رہے ہیں، جس کے باعث متوسط طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔

مویشی فروشوں کا کہنا ہے کہ اس سال جانور پالنا پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا ثابت ہوا۔ چارہ، بھوسہ، دوائیں، پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے وہ کم قیمت پر جانور فروخت نہیں کر سکتے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا اور پنجاب سے بڑے شہروں تک جانور لانے کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بعض تاجروں نے افغان سرحدی مسائل، ڈیزل قیمتوں اور مارکیٹ ٹیکسز کو بھی مہنگائی کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب خریدار منڈیوں میں جانوروں کی خوبصورتی تو دیکھ رہے ہیں مگر جیبیں اجازت نہیں دے رہیں۔ کئی خاندان اب اجتماعی قربانی یا حصے میں جانور لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ متوسط طبقے کے لوگ کہتے ہیں کہ عید کی خوشی برقرار رکھنے کے لیے قربانی ضروری ہے، لیکن بڑھتی مہنگائی نے ان کے لیے یہ فریضہ مشکل بنا دیا ہے۔ بعض شہری صرف بچوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں مگر خریداری سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان میں عیدالاضحیٰ صرف مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق قربانی کے جانوروں اور اس سے جڑی سرگرمیوں کی معیشت اربوں روپے تک پہنچتی ہے، جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹر، چارہ فروش، قصاب، کھال تاجر، عارضی مزدور اور مویشی پالنے والے سب اس سیزن میں اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کماتے ہیں۔

اگرچہ مہنگائی نے عوام کی قوت خرید کم کر دی ہے، لیکن قربانی کا جذبہ آج بھی پاکستانی معاشرے میں زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکلات کے باوجود مویشی منڈیاں آباد ہیں، بچے خوش ہیں اور ہر گلی میں عیدالاضحیٰ کی آمد کا شور سنائی دے رہا ہے۔ اس بار عید کی رونقوں کے ساتھ ایک سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا قربانی اب صرف خوشحال طبقے کی روایت بنتی جا رہی ہے، یا پھر پاکستانی عوام ہر مشکل کے باوجود اپنی مذہبی روایات کو اسی جذبے سے زندہ رکھیں گے؟

Check Also

Dolat Ke Ambar Ya Maliyati Sarab?

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi