Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Syed Mehdi Bukhari

Image Building

سوشل میڈیا پر سب ہی نیک ہیں مگر انسان مسلسل نیک کیسے رہ سکتا ہے؟ انسان تو نیکی و بدی کا پیکر ہے۔ اس کا موڈ بدلتا ہے۔ اس سے لغزش ہوتی ہے۔ مگر مجال ہے کہ آپ کو سوائے مذہبی تڑکے کے کوئی سادہ تحریر پڑھنے کو مل جائے۔ انسان کا بے ساختہ پن کہاں ہے؟ اتنا مصنوعی پن کیوں ہے؟ صرف اس لئے کہ لوگوں سے "ماشاءاللہ، جزاک اللہ" بٹورنا ہے۔

یہاں ہر لکھنے والا اپنے جبلتی احساس کے زیر اثر نہیں لکھتا بلکہ وہ لکھتا ہے جو اس کا بکتا ہے۔ جیسی اس کی آڈینس بن چکی ہے۔ جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ جس سے ان کی آڈینس خوش رہ سکتی ہے۔ یہاں کسی کو اور کسی بات کی پرواہ نہیں۔ ویسے حلفیہ بات تو یہ ہے کہ یہاں مجھے کوئی انسان نہیں ملا۔ مجھے سب نیک سیرت، پاکباز، دین سے ہم آہنگ، کلام الہٰی سے مکمل متصل، راہ راست پر گامزن، فرشتہ صفت لوگ ملے ہیں۔

جب کوئی خال خال انسان نظر آ جائے مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ یہ انسان ملا۔ وگرنہ تو سب ہی یہاں فرشتے معصوم عن الخطا ہیں۔ ہے کوئی جس سے انسانی صفت جھلکتی ملتی ہو؟ جس سے کوئی لغزش سرزد ہوتی ہو؟ سب ہی باقاعدہ درس دینے والے، پند و نصوح کرنے والے، قوم کو اخلاقیات سکھانے والے ہی تو ملتے ہیں۔ کوئی بڑا فرشتہ ہے تو اس کی دیکھا دیکھی باقی چھوٹے فرشتے بن جاتے ہیں۔

"امیج بلڈنگ" کی میراتھن نے انسان کو فرشتہ بنا دیا ہے۔ "لوگ کیا سوچیں گے، لوگ مجھے کیا کہیں گے، لوگ میرے بارے کیا باتیں کریں گے؟" ہر لکھنے والے کے پیش نظر یہی رہتا ہے۔ اس نے نقصان یہ کیا کہ ہر شخص اخلاق کا نمونہ بن گیا۔ عملی طور پر ملک کے کیا حالات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں۔ اس "امیج بلڈنگ" نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا۔ جس کی دلیل جہاں ختم ہو جاتی ہے وہ جواب میں مقدس حوالے لے آتا ہے کہ اب بات کر کے دکھاؤ۔

ہو سکتا ہے کہ جن دوستوں کا ذریعہ معاش سوشل میڈیا کے طفیل ہو ان کی مجبوری رہتی ہو کہ امیج بلڈنگ کرنی ہے تو سلسلہ چلے گا۔ جن کی پہچان مختلف شعبہ جات ہائے زندگی میں ہوتی ہے یہ ان کے مسائل یا مجبوری نہیں رہا کرتی۔ لوگ خوش ہوں یا ناراض، انہوں نے رزق نہیں دینا ہوتا، انہوں نے عزت نہیں دینی ہوتی۔ رزق و عزت من جانب اللہ ہے۔ یہ اسی کا اختیار ہے۔ انسان کو بس انسان رہنا چاہئے، انسان دکھنا چاہیئے۔

اپنے خول سے باہر نکل کر دیکھنا، اسرار کی پرتیں ہٹا کر سوچنا، آسمان سے زمین کی جانب نگاہ کرنا، یہ انسانی صفت ہے۔ فرشتہ تو بس فرشتہ ہے۔ ایک ہی حالت، ایک ہی سوچ، ایک ہی عبادت۔ انسان کبھی سنجیدہ ہوتا ہے، کبھی اس کا مزاج خوشگوار ہوتا ہے، کبھی وہ ہنستا ہے کبھی اداس ہوتا ہے۔ انسان پر ہر حال بیتتا ہے۔ وہ اپنی ہر حالت کے زیر اثر ویسا ہی مواد تخلیق کرتا ہے مگر یہاں سب شاید پتھر کے مجسمے ہیں۔ ایک ہی لہر، ایک ہی حال، وہی موضوعات، وہی ایک سی سوچ، اور بس۔

ادھر آپ دیکھ لیں، ہر انفلیونسر پبلک میں نیک ہے۔ ہر فالور اس سے بڑھ کر نیک ہے۔ ہر تھیلے سے مذہب نکلتا ہے۔ ٹھیک ہے ٹھیک ہے، مگر آپ ہر دم، دما دم، نیک کیسے رہ لیتے ہیں؟ آپ روبوٹ ہیں؟ انسان نہیں؟ او کوئی نکا جیا اصل انسان وی ہے گا تہاڈے اندر کہ فرشتے او؟ اور سارے ہی اخلاقیات کے اعلیٰ نمونے، دین و دنیا سے ہم آہنگ، تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں تو معاشرہ ایسا کیوں نہیں؟ آج کے دور میں ہر بندہ تو سوشل میڈیا پر ہے۔ کچھ تو معاشرے پر بھی اثر ہونا چاہئیے تھا ناں؟ آپ جس سماج میں بستے ہیں وہاں کیا سب ہرا ہی ہرا ہے؟ اور کوئی رنگ نہیں؟

Check Also

Dard Ki Dastan Hai Pyare

By Syed Mehdi Bukhari