18 April, Turkey Bhairen, Iran Ka Hormuz Aur Pakistan Ki Salisi
18 اپریل، ترکی بھیڑیں، ایران کا ہرمز اور پاکستان کی ثالثی

"کیا آپ جانتے ہیں کہ ترکی میں 1,500 بھیڑوں نے ایک ساتھ کھائی میں چھلانگ کیوں لگائی؟"
بات شروع ہوتی ہے جولائی 2005 میں ترکی کے صوبے "وان" کے ایک پہاڑی سلسلے سے۔ چرواہے حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ ایک بھیڑ نے اچانک چٹان کی چوٹی سے مہیب کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ لیکن حیرت اس وقت خوف میں بدل گئی جب اس کے پیچھے موجود 1,500 بھیڑوں نے باری باری وہی راستہ اختیار کیا۔ تقریباً 450 بھیڑیں تلے اوپر گر کر لقمہ اجل بن گئیں، جبکہ باقی ان کی لاشوں کے ڈھیر پر گرنے کی وجہ سے بچ تو گئیں، مگر ان کا یہ فعل عقلِ انسانی کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ اسے "اندھی تقلید" کا وہ بدترین نمونہ کہا گیا جہاں خطرے کا علم ہونے کے باوجود ریوڑ نے اپنے "بھیڑ چال رویہ " کے پیچھے موت کو گلے لگا لیا۔
سائنس کی نظر میں یہ "پیروی کی جبلت" (Follow-the-leader instinct) تھی۔ بھیڑ کے دماغ میں انفرادی فیصلے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس کا پورا وجود گروہ کی حرکت سے جڑا ہوتا ہے۔ جب پہلی بھیڑ نے چھلانگ لگائی، تو بقیہ ریوڑ کے لیے وہ "کھائی" راستہ بن گئی اور "موت" ایک منزل۔ ان کے نزدیک اپنے گروہ سے جدا ہونا موت سے زیادہ خوفناک تھا۔ اسے سیاسی اصطلاح میں "اجتماعی خودکشی" کہا جاتا ہے جہاں شعور، جبلت کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ جس جبلت کو ہم جانوروں سے منسوب کرتے ہیں، وہی آج کی عالمی سیاست میں اسلامی ممالک کا مقدر نظر آتی ہے۔ وہ جانتے بوجھتے ہوئے، ایک ہی دشمن کے بچھائے ہوئے جال میں اسی طرح چھلانگ لگا رہے ہیں جیسے ترکی کی وہ بھیڑیں گری تھیں۔ 1950 کی دہائی سے شروع ہونے والا رجیم چینج کا سلسلہ دراصل اسی "بھیڑ چال" کا تسلسل ہے۔ ایک ریاست گرتی ہے، تو دوسری اسے سبق سمجھنے کے بجائے اسی راستے پر چل پڑتی ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو جب غزہ کا محاذ کھلا، تو اس کے پیچھے حزب اللہ کی وہ شہہ (Provocation) موجود تھی جسے ایرانی آشیرباد حاصل تھی۔ آج 18 اپریل 2026 کو، یعنی ڈھائی سال کی طویل خونریزی کے بعد، یہ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے کہ حزب اللہ کو دی جانے والی یہ ایرانی شہہ دراصل ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی صورت میں اپنی سب سے بڑی شہ رگ کی مات تھی۔ غزہ کے اس مہیب جال نے ایران کو ایک ایسی تھکا دینے والی جنگ میں الجھایا کہ مذاکرات کی میز پر اس نے اپنا آخری بڑا ٹرمپ کارڈ، یعنی عالمی معیشت کی نبض "ہرمز" پر گرفت ہمیشہ کے لیے کھو دی۔ یہ غزہ کی وہ اصل کہانی ہے جسے جذباتی نعروں کے پیچھے چھپایا گیا، تاکہ خاموشی سے اسٹریٹجک قلعہ مسمار کر دیا جائے۔
مسلم دنیا کا المیہ یہ رہا ہے کہ امریکہ نے جب بھی کسی مسلمان ملک کو توڑنا چاہا، تو پہلے اسے دوسرے مسلمان ملک سے "اعتبار" دلایا اور پھر دونوں کو باری باری ذبح کر دیا۔ آج پاکستان عالمِ اسلام کا وہ "آخری ثالث" ہے جو اس شکاری بھیڑیے کی للچائی ہوئی نظروں میں آ چکا ہے۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے کہ خود کشی اجتماعی ہو یا انفرادی، انجام صرف موت ہوتا ہے۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جس دشمن کے پیچھے ہم آنکھیں بند کرکے چل رہے ہیں، وہ ہمارے بارے میں کیا غلیظ رائے رکھتا ہے۔ ہماری غیرت کو بیدار رکھنے کے لیے کسی بڑی دلیل کی ضرورت نہیں، بس اس ایک جملے کو یاد رکھنا کافی ہے جو جون 1997 میں امریکی پراسیکیوٹر رابرٹ ہورن نے پاکستان کے متعلق کہا تھا "مجھے یقین ہے کہ وہاں (پاکستان) کے لوگ محض 20 ہزار ڈالر کے لیے اپنی ماں کو بھی (امریکہ کے) حوالے کر دیں گے"۔

