Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Haider Javed Syed

Imran Khan Ki Taza Baatein, Ilzamat Aur Mutalba

ضمنی انتخابات میں سات میں سے چھ حلقوں سے جیتنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے دو اہم باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ کراچی کی جس نشست سے میں ہارا ہوں وہاں پیپلزپارٹی نے "رج" کے دھاندلی کی ہے اس لئے ہم اس نتیجے کو نہیں مانتے، الیکشن دوبارہ کروائے جائیں۔

دوسری بات یہ کہی کہ الیکشن کا اعلان نہ کیا گیا تو لانگ مارچ ہوگا اور یہ کہ لانگ مارچ اکتوبر میں ہی ہوگا اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔

فقیر راحموں نے پوچھا یار شاہ جی، خان نے کس اکتوبر کی بات کی ہے اس یا اکتوبر 2023ء کی؟ اس فقیر راحموں کو کیا جواب دیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ اصل میں ہے کس کے ساتھ۔

گزشتہ روز عمران خان نے اپنے 5 پیاروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کچھ سنگین الزامات بھی لگائے۔ اپنے پرانے "محبوبوں" سے شکوے بھی کئے۔ ایک آدھ سخت جملہ اچھالا اور یہ بھی کہا کہ چوروں سے مذاکرات مشکل ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ "ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے بیک ڈور بات چیت ہوئی اور ہوتی رہتی ہے لیکن معاملات کلیئر نہیں ہوئے؟" عمران خان ایک طرف وہ موجودہ حکومت کو لانے والوں کو غدار قرار دیتے نہیں تھکتے دوسری طرف ان "غداروں" سے پردے کے پیچھے ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔ دو عدد ملاقاتیں عمران خان بنفس نفیس خود کرچکے جبکہ چند ملاقاتیں اسد عمر اور پرویز خٹک والی جوڑی نے کیں۔

خان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ صرف وہ محب وطن، ایماندار اور سچا ہے یا اس کے حامی باقی بیرونی ایجنٹ ہیں، چور ہیں، غدار، میر جعفر اور میر صادق یا ایکس وائی زیڈ۔ پوچھنے والی بات یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دو کام کیسے کرلیتے ہیں۔ غدار بھی قرار دیتے ہیں اور ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔ کیا وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ میرے سوا کسی کی نہ ہو۔

اصولی طور پر تو کسی کی بھی نہیں ہونی چاہیے بلکہ سبھی کو حد میں رہنا چاہیے۔ ماسوائے خان کے کیونکہ وہ "دیوتا" ہے اور "دیوتا" حدود سے ماورا ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے مخالفین کو مقدمات سے ریلیف ملنا این آر او 2 ہے۔ اس ملک میں انصاف چہرے دیکھ کر ملتا ہے، یہ دوسری والی بات ان کی سوفیصد درست ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران انہیں ملی رعایتیں اور ضمانتیں ان کے اس موقف کی تائید کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر انہوں نے شہباز گل اور اعظم سواتی کے مقابلہ میں زیادہ سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کی لیکن گرفتار گل اور سواتی ہوئے۔ خان صاحب اور ان کی جماعت جن سے الیکشن مانگ رہے ہیں وہ کون ہیں۔ وہی جنہیں گزشتہ روز اسد عمر نے کہا کہ "فیصلہ کرنے والے عوامی رجحان دیکھ لیں اور فیصلہ کریں"۔

اپریل سے اب تک کی ان کی جدوجہد اور سخت بیانی کا مقصد صرف ایک ہے وہ یہ کہ مجھے پھر سے اقتدار میں لاکر بٹھائو ویسے ہی جیسے 2018ء میں بٹھایا تھا۔ ایسا انتظام ہوجائے تو نہ پھر کوئی میر جعفر ہوگا اور نہ میر صادق، نہ غدار نہ امریکی سازش کا مہرہ۔

سات میں سے 6 نشستوں پر وہ جیتے ایک پر ہار گئے۔ اسی ایک پر دھاندلی ہوئی بلکہ پیپلزپارٹی نے "رج" کے دھاندلی کی۔ مردان، چارسدہ، پشاور سے بھی وہ جیتے ہیں۔ ایمل ولی خان اے این پی کے صوبائی صدر ان سے ہارے وہ الزام لگارہے ہیں کہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ "مل کر" انتخابی عملہ مقرر کروایا ان کے حلقہ انتخاب میں 12ہزار بوگس ووٹ ڈالے گئے ہم ثبوتوں کے ساتھ اس نتیجہ کو چیلنج کریں گے۔

مولانا قاسم مردان میں عمران خان سے تقریباً 8 ہزار ووٹوں سے ہارے ہیں ان کے حامی بھی دھاندلی کے علاوہ انتخابی عملے پر الزامات لگارہے ہیں۔ پشاور سے حاجی غلام احمد بلور بھی انتخابی نتیجہ کو چیلنج کرنے کا کہہ رہے ہیں، ان حالات میں اگر ملیر کراچی کی نشست پر دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کا الزام درست مان لیا جائے تو خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے تین حلقوں کا نتیجہ کیسے دودھ سے دھلا قرار پائے گا؟

معاملہ یہ ہے کہ وہ خود کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں حالانکہ سیاست میں کوئی بھی شخص ناقابل تسخیر نہیں ہوتا خود ہمارے پیران پیر آف ملتان شریف مخدوم شاہ محمود قریشی کو 2018ء کے الیکشن میں پنجاب اسمبلی کی نشست پر ایک نوجوان امیدوار سے شکست سے دوچار کردیا تھا۔

2002ء کے انتخابات میں عمران خان ایک نشست جیت پائے تھے۔ اتوار کے ضمنی الیکشن میں وہ 6 نشستوں سے جیت گئے۔ قبل ازیں 2013ء اور 2018ء میں متعدد نشستوں سے جیتے تھے۔ جیت کی سرشاری میں شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرنا بڑا پن ہوتا ہے ان کی سیاست بڑے پن سے عبارت تھی نہ ہے وہ خود کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔

لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا، ان کاکہنا تھا "اب بھی وقت ہے کہ فیصلہ ساز فیصلہ کریں الیکشن کا اعلان کردیں"۔

کیا یہ غیراعلانیہ فیصلہ ساز ان کی مرضی پر چلتے رہیں تو اچھے نہ چلیں تو برے۔ الیکشن کا اعلان حکومت نے کرنا ہے۔ حکومت کو وہ مانتے ہیں نہ اس سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر بارے وہ کیا کہتے رہے اور اب کیا کہتے ہیں دونوں باتیں ریکارڈ پر ہیں۔

ان کا طریقہ یہی ہے کہ بدنام کرو دبائو ڈالو جو ڈر جائے اس سے من چاہے فیصلے لو اقدامات کرائو جو نہ ڈرے اس کے خاندان تک کو توپوں کے دہانوں پر رکھ لو۔ انہوں نے اعظم سواتی پر تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "تشدد سے فوج اور آرمی چیف کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے کہ فوج بے قابو ہے۔ ایک محکمے کے اسلام آباد کے سربراہ پر الزام لگایا کہ جب سے اس کی تقرری ہوئی ہے معاملات بگڑ رہے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ یہ کہنے سے قبل انہوں نے اسد عمر سے کوئی بات کی کہ نہیں کیونکہ اسد عمر اور پرویز خٹک کو بتایا گیا تھا کہ سواتی کو ایف آئی اے کی تحویل سے کسی نے نہیں لیا۔ ہوسکتا ہے یہ درست نہ ہو پھر بھی شیریں مزاری کی طرف سے جاری کردہ اعظم سواتی کی جعلی میڈیکل رپورٹ کے بعد بہت ساری باتیں اور الزامات مشکوک ہوگئے ہیں۔

اس پر دو آراء نہیں کہ اگر گل اور سواتی کے ساتھ "ویسا ہی تشدد" ہوا ہے جیسا عمران خان کہتے ہیں تو یہ صریحاً غلط ہے بالکل اسی طرح غلط ہے جیسے رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات والا مقدمہ جو ان کی ذاتی خواہش پر بنایا گیا تھا۔

ان کا یہ سوال عجیب محسوس ہوا کہ اگر مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کے وقت مارشل لاء نہیں لگا تو اب اس کا ڈراوا کیوں دیا جارہا ہے۔ انہیں اس شخص یا شخصیات کا نام بتاناچاہیے جنہوں نے ان سے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورت میں ملک میں مارشل لاء لگ سکتا ہے۔

ویسے جب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران جس اسٹیبلشمنٹ کو امریکی پٹھو، غدار وغیرہ وغیرہ قرار دیتے رہے اور ان کے حامی سوشل میڈیا پر گالیاں، وہ اسی سے الیکشن مانگ رہے ہیں تو پھر وہ حقیقی آزادی جہاد مارچ کیا ہوا۔ تو یہ سوال اپنی جگہ ہے درست۔

ان کے مخالفین کو ملا عدالتی ریلیف اگر این آر او ٹو ہے تو ان کے چند ساتھیوں اور بیگم صاحبہ کی سہیلی کو اینٹی کرپشن پنجاب سے ملی کلین چٹ کو کیا نام دیا جائے۔ عمران خان کا مطالبہ درست ہے ملک میں انتخابات ہونے چاہئیں۔ تحریک عدم ا عتماد سے قبل اپوزیشن کے مطالبہ پر وہ کہتے تھے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اب ان کے مطالبہ پر حکومت وقت وہی بات کرتی ہے۔

گزشتہ روز انہوں نے پھر کہا زرداری اور نواز کا آرمی چیف کی تقرری سے کوئی لینا دینا نہیں انہیں مشاورت میں شامل نہ کیا جائے۔ اصولی طور پر یہ درست بات ہے آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار موجود ہے حکومت کو اگر مگر کے بغیر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ سیاسی مشاورت یا گھریلو مشاورت دونوں غلط ہوں گی لیکن خان صاحب اس معاملے میں اتنے اتاولے کیوں ہیں وہ تو کچھ دن قبل موجودہ آرمی چیف کو ایک سال کی توسیع دینے کی تجویز بھی پیش کرچکے اور تجویز پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات میں وہ دو تہائی اکثریت سے جیت جائیں گے پھر مرضی سے آرمی چیف لگائیں گے۔

یہی مرضی اگر موجودہ حکومت کرے تو غلط۔ اتوار کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے 8 حلقوں میں پی ٹی آئی کو 5 لاکھ 58 ہزار 757 ووٹ اور پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور اے این کو 4 لاکھ 80 ہزار 134 ووٹ ملے۔ ووٹوں کا یہ حساب بہر طور عمران خان کے حق میں جاتا ہے۔ کوئی اسے تسلیم کرے نہ کرے اس کی مرضی ہے۔

کڑوا سچ یہ ہے کہ وفاق کا حکمران اتحاد عمران خان کے بیانیہ کے غبارے میں سے اس کے باوجود ہوا نکالنے میں ناکام رہاہے کہ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ بیانیہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔

Check Also

Turkey Aur China Ki Lok Kahaniyan

By Asif Mehmood