Har Mard Doosri Shadi Kyun Nahi Kar Sakta?
ہر مرد دوسری شادی کیوں نہیں کر سکتا؟
ہمارے معاشرے میں جب "دوسری شادی" کی بات کی جاتی ہے تو فوراً ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ یا کیا یہ ہمارے معاشرے کے لیے مناسب ہے؟ یہ سوال صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی بھی ہے۔ اسی تناظر میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر وہ چیز جو کسی ایک معاشرے میں قابلِ قبول ہے، وہ ہر جگہ ویسے ہی قابلِ عمل بھی ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عرب معاشرہ اور پاکستانی معاشرہ میں تعددِ ازدواج کے تصور، اس کی قبولیت اور عملی صورتوں کا تقابلی جائزہ لیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عرب معاشرے میں اسلام سے پہلے بھی ایک سے زائد شادیوں کا رواج موجود تھا۔ اسلام نے اس روایت کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے ایک نظم و ضبط کے اندر لے آیا، حدود و قیود مقرر کیں اور انصاف کو شرط بنایا۔
عرب معاشرے کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
وہاں دوسری شادی کو عمومی طور پر معیوب نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک قابلِ قبول سماجی عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بعض اوقات پہلی بیوی خود اپنے شوہر کی دوسری شادی پر سخت ردعمل ظاہر نہیں کرتی بلکہ حالات کے مطابق اسے قبول کر لیتی ہے۔
کچھ مواقع پر خواتین اپنی سہیلی یا قریبی جاننے والی کے ساتھ اپنے شوہر کی شادی کروا دیتی ہیں، خاص طور پر جب وہ سمجھتی ہیں کہ اس سے خاندان کو سہولت ملے گی۔
اگر گھریلو ذمہ داریاں زیادہ ہو جائیں یا کسی وجہ سے تعاون کی ضرورت ہو، تو دوسری شادی کو ایک عملی حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دوسری شادی کے بعد عموماً شوہر پہلی بیوی سے مکمل لاتعلقی اختیار نہیں کرتا، بلکہ دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اولاد کے معاملے میں بھی عمومی طور پر مساوات کا رویہ پایا جاتا ہے۔ پہلی اور دوسری بیوی کے بچوں میں فرق کم کیا جاتا ہے۔
"چھوٹی" یا "بڑی" بیوی کا تصور اتنا شدت سے موجود نہیں ہوتا جتنا ہمارے ہاں پایا جاتا ہے۔
پہلی بیوی کے گھر والے اکثر شدید ردعمل نہیں دیتے کیونکہ یہ عمل ان کے معاشرے میں عام سمجھا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ عرب معاشرہ قبائلی اور روایتی بنیادوں پر قائم رہا ہے جہاں اجتماعی مفاد، خاندان کی توسیع اور سماجی ضروریات کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔ اس پس منظر میں اسلام نے تعددِ ازدواج کو ایک "اجازت" کے طور پر برقرار رکھا، نہ کہ ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے لازمی طرزِ عمل کے طور پر۔
اب اگر ہم پاکستانی معاشرے کو دیکھیں تو یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ مذہبی طور پر دوسری شادی کی اجازت موجود ہے، مگر سماجی سطح پر یہ ایک نہایت حساس اور اکثر منفی نتائج پیدا کرنے والا عمل بن چکا ہے۔
پاکستانی معاشرے کے چند اہم مسائل درج ذیل ہیں:
یہاں دوسری شادی کو عموماً معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
بہت سے مرد دوسری شادی کسی حقیقی ضرورت کے بجائے پہلی بیوی کو سزا دینے، اس پر دباؤ ڈالنے یا اسے تادیب کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔
دوسری شادی کے بعد اکثر پہلی بیوی کے ساتھ ناانصافی، بے اعتنائی اور بعض اوقات مکمل علیحدگی اختیار کر لی جاتی ہے۔
قرآن میں دی گئی مخصوص حالات میں دی گئی اجازت کو ایک حکم سمجھ کر یا ثواب سمجھ کر بغیر سوچے سمجھے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ انصاف کی شرط کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
دوسری بیوی کے گھر والے اکثر پہلی بیوی کے خلاف ماحول بناتے ہیں، شوہر کو ورغلاتے ہیں کہ وہ پہلی بیوی سے تعلق کم کرے یا ختم کر دے۔
مالی اور جذباتی حقوق میں کمی کر دی جاتی ہے، جس سے پہلی بیوی اور اس کے بچوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
بچوں کے درمیان واضح تفریق پیدا ہو جاتی ہے، جس کے اثرات ان کی شخصیت اور مستقبل پر پڑتے ہیں۔
دونوں خاندانوں کے درمیان حسد، رقابت اور سازشوں کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، جو بعض اوقات سنگین تنازعات تک جا پہنچتا ہے۔
بعض کیسز میں عزت، غیرت یا جھگڑوں کے نام پر تشدد حتیٰ کہ قتل جیسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔
یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ابھی اس سطح کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی پختگی حاصل نہیں کر سکا جہاں دوسری شادی کو انصاف اور توازن کے ساتھ نبھایا جا سکے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام میں دی گئی بہت سی اجازتیں حالات کے مطابق ہیں اور ان کا استعمال بھی حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔ تعددِ ازدواج ایک "اجازت" ہے، فرض یا لازمی حکم نہیں۔
اگر کوئی معاشرہ اس اجازت کو انصاف، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ نبھانے کے قابل نہ ہو تو اس کا بے جا استعمال مزید خرابیوں کو جنم دیتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اکثر یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ دوسری شادی کا نتیجہ سکون کے بجائے انتشار، ظلم اور ناانصافی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اسی لیے یہ کہنا بے جا نہیں کہ ہمیں اندھا دھند کسی دوسرے معاشرے کی روایات اپنانے کے بجائے اپنے معاشرتی حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ازدواجی زندگی کامیاب ہو تو ہمیں ابتدا ہی سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا:
رشتہ طے کرنے میں جلدی نہ کریں۔ کم از کم چند ماہ کا وقفہ رکھیں تاکہ دونوں خاندان ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔
لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے مزاج، خیالات اور ترجیحات کو جاننے کی کوشش کریں۔
اپنی پسند اور مزاج کے مطابق شریکِ حیات کا انتخاب کریں۔ بالکل مختلف سوچ رکھنے والے افراد کے درمیان ہم آہنگی مشکل ہو جاتی ہے۔
خاندانوں کی اقدار، تعلیم اور طرزِ زندگی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
یہ احتیاطی اقدامات بعد کے بڑے مسائل سے بچا سکتے ہیں۔
اگرچہ عمومی حالات میں دوسری شادی مسائل پیدا کرتی ہے، مگر کچھ مخصوص حالات ایسے ہو سکتے ہیں جہاں یہ ایک قابلِ غور آپشن بن سکتی ہے:
اگر طبی طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ پہلی بیوی اولاد پیدا نہیں کر سکتی اور دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے کوئی فیصلہ کریں۔
اگر پہلی بیوی میں فطری طور پر جنسی عدم رغبت ہو اور اس مسئلے کا کوئی حل نہ نکل رہا ہو۔
اگر مرد کی جنسی ضرورت غیر معمولی ہو اور وہ اس کو ناجائز راستوں پر پورا کرنے کے بجائے ایک جائز راستہ اختیار کرنا چاہے۔ بشرطیکہ پہلی بیوی کی رضامندی اور اعتماد حاصل ہو۔ ایسی صورت میں بہتر ہے کہ دوسری شادی کسی بیوہ، طلاق یافتہ یا بڑی عمر کی خاتون سے کی جائے تاکہ ایک اور گھر بھی آباد ہو۔
دوسری بیوی کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جائے تاکہ وہ گھر کے سکون کو خراب نہ کرے۔
ان تمام صورتوں میں بنیادی شرط "انصاف" ہے اور یہی وہ شرط ہے جسے پورا کرنا سب سے مشکل ہے۔
آج کے دور میں ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی متعدد وجوہات درج ذیل ہیں:
میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی غلطیوں، اختلافات اور کمزوریوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا فقدان، جس کے نتیجے میں معمولی باتوں پر جھگڑے، تلخ کلامی اور باہمی دوریاں بڑھتی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ بالآخر طلاق تک جا پہنچتا ہے۔
شادی کے بعد کسی ایک یا دونوں فریقین کی زندگی کی ترجیحات میں یکدم اس طرح تبدیلی آنا کہ وہ ایک دوسرے کی توقعات، خواہشات اور مفادات سے ہم آہنگ نہ رہ سکیں، جس سے رشتے میں بے رغبتی، بے توجہی اور جذباتی دوری پیدا ہو جاتی ہے۔
بیوی کی طرف سے ازدواجی زندگی کے معمول کے اخراجات سے ہٹ کر مسلسل نئے اور بڑھتے ہوئے مالی مطالبات کرنا، شوہر کو معاشی طور پر دباؤ میں ڈالنا اور اس کی کمائی کو حقیر جان کر اس کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں پر اعتماد متزلزل کر دینا۔ اسی طرح کئی معاملوں میں خواتین اپنی سہیلیوں کے ساتھ جنسی موضوعات پر بے دریغ گفتگو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کے شوہروں کے جنسی عملی نمونے، ٹائمنگ یا دیگر ثانوی خصوصیات کو اپنے شوہر میں تلاش کرنے لگتی ہیں اور جب انہیں وہ معیار اپنے شوہر میں نظر نہیں آتا تو وہ انہیں نامرد یا جنسی طور پر ناکارہ قرار دینے لگتی ہیں، جس سے مرد ذہنی اور جذباتی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہو کر نفسیاتی بیماریوں کی طرف جانے لگتا ہے۔
شوہر کا شادی کے بعد اپنے جنسی معاملات میں یکسر ایسے رویے اختیار کرنا جو شادی سے پہلے یا ابتدائی ایام میں موجود نہ تھے، بیوی سے ایسے مطالبات کرنا جو اس کی طبیعت، تربیت یا اخلاقی حدود کے مطابق نہ ہوں اور اس سلسلے میں جذباتی دباؤ ڈال کر ازدواجی تعلقات کو کشیدہ بنا دینا۔
وقت گزرنے کے ساتھ میاں بیوی کے درمیان نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی، ذہنی اور سماجی سطح پر بھی دلچسپی مکمل طور پر ختم ہو جانا، ایک دوسرے کی باتوں، احساسات، مشاغل اور موجودگی سے بےزاری پیدا ہو جانا اور رشتے کو بہتر بنانے کی بجائے اس سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لینا۔
بعض اوقات جہاں پر غیر متوقع حالات میں دوسری شادی ممکن ہو سکتی تھی، وہاں معاملہ طلاق کی صورت میں ختم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتوں میں اکثر پہلی بیوی شوہر کی دوسری شادی پر غیر معمولی سختی کا رویہ رکھتی ہے اور اس کی نفسیاتی حالت دوسری بیوی کو قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتی، چنانچہ وہ کہتی ہے کہ "مجھے طلاق دو، پھر تم چار شادیاں کرو"۔ دوسری جانب بعض واقعات میں دوسری بیوی بننے والی عورت خود ایسے حالات پیدا کرتی ہے کہ مرد اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور ہو جاتا ہے، وہ اسے واضح طور پر کہہ دیتی ہے کہ وہ دوسری بیوی بننا پسند نہیں کرے گی اور اگر وہ شادی کرنا چاہتا ہے تو پہلے پہلی بیوی کو طلاق دے، ورنہ رشتہ ختم کرنے کی دھمکی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ جذباتی بلیک میلنگ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے کہ وہ اس کے بغیر مر جائے گی یا خودکشی کر لے گی، جس کے نتیجے میں مرد بیرونی اثرات کے زیر اثر آ کر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور ایسی صورتوں میں ہونے والی طلاق کے بعد اکثر پچھتاوے کے واقعات سننے میں آتے ہیں۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں بے شمار شادیاں ناکامی کا شکار ہو رہی ہیں۔
طلاق کے بعد پیدا ہونے والے مسائل درج ذیل ہیں:
معاشرتی دباؤ، معاشی عدم تحفظ اور دوسری شادی کے محدود مواقع کی وجہ سے اکثر طلاق یافتہ خواتین جذباتی اور سماجی سطح پر مجبوراً اپنے والدین کے سہارے زندگی بسر کرنے لگتی ہیں۔
والدین پر بوجھ بننے کے خوف سے طلاق یافتہ خواتین اپنی تعلیم، صلاحیتوں اور عزت نفس کے باوجود کم تنخواہ والی ملازمتوں پر کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جہاں انہیں نہ صرف معاشی استحصال کا سامنا ہوتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ ماحول میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی کیا جاتا ہے۔
جاب کرتی طلاق یافتہ خواتین کو ورک پلیس ہراسمنٹ جیسے سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں بعض اوقات انہیں جنسی، ذہنی یا جسمانی طور پر ستایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طلاق کے سماجی داغ، تنہائی اور ذمہ داریوں کا بوجھ ان کی ذہنی و جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کر دیتا ہے۔
طلاق کے بعد اکثر مرد بھی مالی، جذباتی اور سماجی طور پر اپنی ماں یا بہن پر انحصار کرنے لگتا ہے اور اس طرح وہ بھی خاندان کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے، جس سے خاندانی توازن متاثر ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ مرد کو بھی طلاق یافتہ عورت کی طرح معاشرتی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں اس کی مردانگی، کردار اور صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگائے جاتے ہیں اور اس کی عزت و وقار کو اس قدر مجروح کیا جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی شناخت اور مقام کے حوالے سے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
معاشرہ ایک کنوارے لڑکے کو اعلیٰ سماجی حیثیت عطا کرتا ہے جبکہ طلاق یافتہ مرد کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے، جو اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ایسے بہت سے طلاق یافتہ مرد حضرات غیر اخلاقی جنسی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف وہ خود مزید ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں فحاشی، استحصال اور دیگر سماجی برائیوں کو فروغ دینے کا سبب بھی بنتے ہیں۔
ان تمام سنگین حالات میں دوسری شادی نہ صرف ایک جائز راستہ، بلکہ ایک ناگزیر انتخاب بن جاتی ہے۔ یہاں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ وہ طلاق یافتہ خواتین، جو عمر رسیدہ ہیں یا ظاہری حسن و جمال میں قدرے کم ہیں، وہ مالی طور پر مستحکم مرد کی دوسری بیوی بننے کو ترجیح دے سکتی ہیں۔ اسی طرح ان کے لیے کسی رنڈوے یا طلاق یافتہ مرد کا انتخاب بھی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، طلاق یافتہ مرد کے لیے موزوں ترین یہی ہے کہ وہ کسی بیوہ خاتون کا انتخاب کرے، کیونکہ بیوہ کے تلخ تجربات اور ماضی کے حالات اسے نئی ازدواجی زندگی کو ہر ممکن حد تک بچانے اور کامیاب بنانے پر آمادہ کریں گے۔ اگر بیوہ کا رشتہ میسر نہ ہو تو طلاق یافتہ خاتون کا انتخاب کریں، مگر یاد رہے کہ ہر صورت میں فیصلہ سوچ سمجھ کر اور عواقب و نتائج کو مدنظر رکھ کر ہی کرنا چاہیے۔
اسی طرح اگر مرد کے پاس وافر مقدار میں مال ہو اور وہ اپنی جنسی ضروریات کو حرام طریقوں سے پورا کرنے کے بجائے حلال راستہ اختیار کرنا چاہے، تو دوسری شادی اس کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ تاہم اس میں پہلی بیوی کی اجازت اور رضامندی لازمی ہے اور دوسری بیوی کا انتخاب متوازن ہو۔ عموماً بہتر یہی ہے کہ طلاق یافتہ، بیوہ یا بڑی عمر کی خوبصورت خاتون کا انتخاب کیا جائے۔ اگر باکرہ خاتون سے شادی موزوں ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن غیر ضروری طور پر اس سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ معاشرتی مسائل پیدا نہ ہوں۔
طلاق: ایک متبادل راستہ
اسلام نے جہاں تعددِ ازدواج کی اجازت دی ہے، وہیں طلاق کا راستہ بھی رکھا ہے۔ اگر ایک رشتہ مسلسل تکلیف، ناانصافی اور اذیت کا سبب بن رہا ہو تو اسے زبردستی گھسیٹنا مزید زندگیاں برباد کر سکتا ہے۔
ایسے میں:
باہمی مشاورت سے علیحدگی اختیار کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔
ہر فرد کو اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ طلاق کو جلد بازی میں استعمال نہ کیا جائے۔ پہلے مصالحت، سمجھوتہ اور بہتری کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
حقیقت یہی ہے کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ ابھی اس سطح پر نہیں پہنچا جہاں دوسری یا تیسری شادی کو توازن، انصاف اور وسعتِ قلبی کے ساتھ قبول کیا جا سکے۔ یہاں یہ عمل اکثر مسائل، ناانصافیوں اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے۔
اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ:
ہم اپنی معاشرتی حقیقت کو سمجھیں
غیر ضروری طور پر دوسری شادی کے رجحان کو فروغ نہ دیں
ایک ہی رشتے کو بہتر بنانے پر توجہ دیں
زندگی ایک امتحان ہے اور ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔ اس لیے وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں کسی کا دل نہ ٹوٹے، کسی پر ظلم نہ ہو اور انسان اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو رہ سکے
اگر ہم سمجھداری، صبر اور انصاف کو اپنا شعار بنا لیں تو ایک ہی شادی کو کامیاب بنانا بھی ممکن ہے اور یہی اکثر صورتوں میں سب سے بہتر راستہ ہے۔

