Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Altaf Kumail
  4. Pasmanda Aqwam Ki Ghairat Ka Isteara

Pasmanda Aqwam Ki Ghairat Ka Isteara

پسماندہ اقوام کی غیرت کا استعارہ

تاریخِ عالم میں دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ محض ایک عسکری معرکے کا اختتام نہ تھا، بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد ثابت ہوا۔ اس عہد کے بعد عالمی منظرنامے پر دو نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہوں نے انسانیت کی تقدیر بدل کر رکھ دی:

1)استعمار کا روپ بدلنا: روایتی استعمار (Colonialism) نے اپنی کٹھن اور بوجھل قبا اتار کر "نو-استعمار" (Neo-colonialism) کا جدید لبادہ اوڑھ لیا۔

2)کا نیا توازن: عالمی بساط پر قوت کا ایک ایسا توازن قائم کیا گیا جس کی باگ دوڑ چند مخصوص ہاتھوں میں مرکوز ہوگئی۔

تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ سامراجی قوتوں نے بھانپ لیا تھا کہ بیدار ہوتی ہوئی قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبے کے سامنے براہ راست حکمرانی اب ممکن نہیں۔ ہندوستان، الجزائر اور ویتنام جیسے ممالک میں اٹھنے والی آزادی کی تحریکوں اور گوریلا جنگوں نے وائسرایوں اور غیر ملکی افواج کے قدم اکھڑ دیے۔ چنانچہ سامراج نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔ انہوں نے بظاہر "آزادی" کا پروانہ تھمایا اور اپنی فوجیں واپس بلا لیں، مگر پسِ پردہ اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے مقامی سطح پر ایسے "کٹھ پتلی حکمران" مسلط کر دیے جو اپنے آقاؤں کے اشارہِ ابرو پر ناچنے لگے۔

مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور کویت وغیرہ اسی سیاسی شعبدہ بازی کا شکار ہوئے۔ ان ممالک کو آزادی کے نام پر سستے خام مال، سستی محنت (Labor) اور اپنی مصنوعات کی منڈیوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ یہی حال ایشیا اور افریقہ کے دیگر خطوں کا رہا، جبکہ لاطینی امریکہ تو "منرو ڈاکٹرائن" کے عہد سے ہی امریکی تسلط کی آماجگاہ بنا رہا۔ جب کبھی چلی، گوئٹے مالا یا حال ہی میں وینزویلا جیسی ریاستوں نے اپنی زنجیریں توڑنے کی کوشش کی، تو انہیں عسکری مداخلت یا داخلی سازشوں کے ذریعے کچل دیا گیا۔ صدام حسین اور بشار الاسد جیسے حکمران، جنہوں نے مغرب کی مکمل غلامی سے انحراف کی جرات کی، انہیں عبرت کا نشانہ بنا کر وہاں اپنی پسند کے مہرے بٹھانے کی کوششیں کی گئیں۔

دوسری جانب، فاتح قوتوں نے اقوامِ متحدہ جیسے ادارے کی بنیاد رکھی۔ جنرل اسمبلی میں تمام ممالک کو برابر ووٹ کا حق دے کر مساوات کا ڈھونگ تو رچایا گیا، لیکن اصل اختیار "سلامتی کونسل" کے ان پانچ مستقل اراکین کے پاس رکھا گیا جنہیں "ویٹو" کا حق حاصل تھا۔ (چین بھی 1971 میں اپنی ناقابلِ تسخیر قوت کے باعث اس کلب کا حصہ بن پایا)۔ یہ ادارہ دراصل ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم روکنے اور پسماندہ اقوام کی "پولیسنگ" کرنے کا ایک منظم آلہ بن گیا، تاکہ دنیا کے وسائل پر طاقتوروں کا قبضہ برقرار رہے۔

یہ جمود اس وقت ٹوٹا جب 28 فروری کو ایران پر بلا اشتعال اور وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب جنیوا میں مذاکرات کے پردے تلے سفارتی لبادے اوڑھے جا رہے تھے، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی خود مختاری پر شب خون مارا۔ ان کا مقصد ایران میں "نظام کی تبدیلی" (Regime Change) لا کر اسے بھی وینزویلا کی طرح ایک تابع ریاست بنانا تھا، تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزاحمت کی آخری بڑی آواز کو خاموش کیا جا سکے مگرحالات نے پلٹا کھایا۔

آج جنگ اپنے چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، مگر ایرانی عزم و ہمت میں کوئی لرزش نہیں آئی۔ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی اور اسرائیلی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ تہران کی اس نڈر مزاحمت نے دنیا بھر کی مظلوم اور پسماندہ اقوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ مغربی بالادستی کوئی ایسی دیوار نہیں جسے گرایا نہ جا سکے۔ ایرانیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ 9 کروڑ 30 لاکھ لاشیں تو دے سکتے ہیں، لیکن غلامی کا طوق دوبارہ نہیں پہنیں گے۔

اکیسویں صدی کا اصل المیہ پسماندہ ممالک کی ترقی کی وہ جدوجہد ہے جس کی راہ میں ترقی یافتہ ممالک حائل ہیں۔ اس تاریخی موڑ پر قیادت کی ضرورت تھی۔ ایک زمانہ تھا جب "ماؤ" کے چین سے امیدیں وابستہ تھیں، مگر بیجنگ اپنے انقلابی تشخص کو معاشی مفادات کی نذر کرکے محض اپنی ترقی میں مگن ہوگیا۔ بھارت سے بھی توقعات تھیں، مگر وہ بھی امریکی کیمپ کا حصہ بن کر اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔

ایسے میں ایران وہ واحد ملک بن کر ابھرا ہے جس نے دنیا کی عظیم ترین عسکری طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ایرانیوں کی یہ بے خوفی چرچل کی اس تاریخی تقریر کی بازگشت معلوم ہوتی ہے کہ: "ہم ساحلوں پر لڑیں گے، میدانوں اور پہاڑوں میں لڑیں گے، مگر کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

آج حزب اللہ، حوثی اور عراقی مزاحمتی گروہ جس طرح ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران صرف اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا، بلکہ وہ اس استحصالی عالمی نظام کو جڑ سے اکھاڑ رہا ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد غریب قوموں کی لوٹ مار کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایران نے پسماندہ اقوام کی قیادت کا منصب اپنی جرات اور لہو سے حاصل کر لیا ہے۔

آزادی اور وقار کی اس جنگ کے مسافروں کو میرا سلام!

Check Also

Islamabad Muzakrat Mein Rakhna Dalne Ki Israeli Sazishen

By Nusrat Javed