Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Altaf Kumail
  4. Aalmi Bisat Par Pakistan Ka Sifarti Overdrive

Aalmi Bisat Par Pakistan Ka Sifarti Overdrive

عالمی بساط پر پاکستان کا "سفارتی اوور ڈرائیو"

عالمی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب جغرافیائی اہمیت اور تزویراتی بصیرت مل کر کسی ملک کو عالمی بحرانوں کے حل کا مرکز بنا دیتی ہیں۔ اس وقت پاکستان بعینہٖ اسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کی گلیوں میں ایران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مذاکراتی مشن، پر ہیں، تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ دو طرفہ اور علاقائی استحکام پر سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ واشنگٹن سے لے کر تہران تک، یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ خطے میں امن کا واحد اور سب سے معتبر ثالث، بن کر ابھرا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا حالیہ بیان کہ "صدر ٹرمپ پاکستان کو واحد ثالث سمجھتے ہیں"، اس نئی سفارتی حقیقت کی مہرِ تصدیق ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ دنیا کی سپر پاور، جو ماضی میں پاکستان کے کردار پر سوال اٹھاتی رہی ہے، آج اسلام آباد کو ایران کے ساتھ مکالمے کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے۔ واشنگٹن کا یہ اعتماد پاکستان کی اس "فعال سفارت کاری" کا نتیجہ ہے جس نے تہران اور واشنگٹن جیسے کٹر حریفوں کو اسلام آباد کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ کیا۔

تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرجوش استقبال اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ان کی ملاقات کی ویڈیوز محض پروٹوکول نہیں بلکہ ایک گہرے اعتماد کا اظہار ہیں۔ ایرانی ذرائع کا یہ کہنا کہ وہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور کے لیے "مثبت اشارے" دے رہے ہیں، اس بات کی نوید ہے کہ خطہ ایک بڑی جنگ کے بادلوں سے نکل کر معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں فوجی قیادت تہران میں برف پگھلا رہی ہے، وہیں سیاسی قیادت سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے۔ سعودی ولی عہد کی جانب سے پاکستان کے مصالحتی کردار کی تعریف اور تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس کا وعدہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں برادر اسلامی ممالک کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔

سفارتی ماہرین اس صورتحال کو "سفارتی اوور ڈرائیو" قرار دے رہے ہیں۔ مائیکل کوگلمین سے لے کر مشاہد حسین سید تک، سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اس وقت عالمی سیاست کا "pivot" بن چکا ہے۔۔ 2015 کے جوہری معاہدے کی طرز پر ایک نئے معاہدے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے میں اب چند ہی دن باقی ہیں اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

پاکستان کی یہ کامیابی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جہاں ریاست کے تمام ستون ایک ہی پیج پر نظر آ رہے ہیں۔ اگر اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک پائیدار معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی فتح ہوگی۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، لیکن تہران سے جدہ تک پھیلی یہ سفارتی سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ پاکستان اب دنیا کے لیے صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ عالمی امن کا ایک لازمی راستہ بن چکا ہے۔

Check Also

Mann Chalay Ka Raj?

By Shahid Nasim Chaudhry