Sunday, 08 December 2019

Dunya Mein Mushkilat Ki Asal Wajah

انسان سدا کا دکھی ہے۔ اس کے یہ دکھ درد کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں، لیکن ختم کبھی نہیں ہوتے۔ بڑے بڑے بادشاہ ساری زندگی مضطرب رہے۔ اسی اضطراب میں  وہ ہمسایہ سلطنتوں کو اپنے زیرنگیں  لانے کی جنگیں لڑتے رہے۔ یہ بادشاہ ایک دوسرے کو قتل کر تے رہے۔ وہ ایک دوسرے کی سلطنت ہتھیاتے رہے۔ آپ کے خیال میں صدام حسین کیوں  بار بار ہمسایہ ممالک پہ چڑھ دوڑتاتھا؟ بظاہر وہ خود بھی قائل تھا کہ میں مشرقِ وسطیٰ میں انسانیت کی بھلائی اور دین کے فروغ کیلئے یہ سب کر رہا ہوں، لیکن درحقیقت وہی سلطنت میں  اضافے، وسائل پر قبضے کی وہی حیوانی جبلت۔ نفس انسان کو یقین دلا دیتا ہے کہ یہ جو ہمسایہ سلطنت پر تم قبضہ کرو گے، اسی میں انسانیت کی بھلائی ہے، اسی میں مذہب کا فروغ ہے۔

آج دنیا میں بظاہر سلطانی جمہور کا پرچم لہرا رہا ہے۔ بظاہر انسان مہذب ہو چکاہے۔ غلاموں کی باضابطہ خرید و فروخت بند ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود افغانستان، فلسطین، کشمیر، لیبیا سمیت ان گنت مقامات پر جہاں بھی کہیں مقامی حکمران کمزور پڑے، جہاں بھی کہیں کسی قوم کی دفاعی قوت کمزور پڑی، عالمی قوتیں ان پر بھوکوں کی ٹوٹ پڑتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن جیسے جیسے بادشاہوں کی سلطنت میں اضافہ ہوتا چلا جاتاہے، اسی طرح ان کی بے چینی میں  اضافہ ہوتا چلا جاتاہے۔

سرکارﷺ نے فرمایا تھا کہ '' ایک سونے کی وادی آدمی کو دے دی جائے تو وہ دوسری وادی کی آرزو کرے گا اور مٹی کے سوا کوئی چیز اس کا پیٹ بھر نہیں سکتی"۔ یہ تو تھی امیروں کی بات۔ اب، غریبوں پر آجائیے۔ زندگی میں کئی بار ایسے لوگوں کو دیکھا، جن کی ساری کی ساری جدوجہد روٹی، کپڑا اور مکان یعنی بنیادی انسانی ضرورتوں پر مرتکز تھی۔ اپنی پوری جدوجہد کے باوجود وہ ان ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر تھے۔ زندگی بڑی کسمپرسی میں گزر رہی تھی۔ ان لوگوں کا طرزِفکر یہ تھا کہ اگر ہمیں روٹی، کپڑا اور مکان نصیب ہو جائے تو پھر ہم مطمئن ہو جائیں  گے، پھر ہمیں کسی اور چیز کا لالچ نہیں رہے گا۔ حیرت انگیز طور پر ان میں  سے کچھ لوگوں  کے جب حالات پھرے، انہیں  یہ سب بنیادی ضروریات مہیا ہو گئیں تو اس کے بعد وہ پہلے سے زیادہ مضطرب نظر آنے لگے۔

سوال یہ ہے کہ انسان مطمئن کیوں نہیں  ہوتا؟ بادشاہ بادشاہوں کی ریاستوں  پر قبضے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ غریب لوگ خوشحال ہو کر بھی مطمئن کیوں نہیں  ہوتے؟ بادشاہ اور نواب سونے چاندی کے برتنوں  میں کیوں کھاتے ہیں؟محلات تعمیر کرتے کرتے بادشاہ بوڑھے ہو جاتے ہیں، تسلی نہیں ہو پاتی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آپ کی ایک شادی ہو گئی، آپ کو ایک سلطنت حاصل ہو گئی، آپ کو زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل ہو گئیں تو آپ مطمئن ہو جائیں۔ مزید سے مزید کی خواہش میں  انسان ساری زندگی پاگلوں کی طرح لڑتا کیوں رہتا ہے؟اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ جنت سے نکالا ہوا انسان، وہ سب کچھ دوبارہ سے حاصل کرنا چاہتاہے، جو اسے وہاں حاصل تھا۔ محلات، سونے کے برتن، لا محدود ریاست، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیارہ، Planet Earth بہت چھوٹا ہے۔ اگر کوئی بادشاہ کرہ ٔ ارض کو مکمل طور پر فتح کر لے تو پھر بھی وہ مطمئن نہیں  ہو پائے گا، اسے galaxy پر حکومت چاہیے اور وہ اس دنیا میں اسے مل نہیں سکتی۔

یہاں سے آپ کو باآسانی معلوم ہو جائے گا کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد اتنی misery میں کیوں رہ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواہشات کا کوئی دوسرا کنارہ ہے ہی نہیں۔ آپ عسرت سے خوشحالی میں آبھی جائیے تو اطمینان نام کی چیز آپ کو ملنے والی نہیں۔ میں آپ کو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر انسانوں کی پانچ فیصد خواہشات بھی پوری ہونا شروع ہو جائیں تو دنیا کا نظام تباہی و بربادی کا شکار ہو جائے۔ دنیا میں  وئی مزدور اور کوئی سپاہی باقی نہیں رہے گا۔ کان کن نہیں ملیں گے۔ عمارتیں تعمیر ہونا بند ہو جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگوں  میں  ہولناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔ یہ تو عسرت ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر انسان کام کرتے اور صلح صفائی کے ساتھ زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔

انسان کی مثال ایک بچّے کی سی ہے۔ بازار میں  سے گزرتے ہوئے، وہ ہر چمکدار چیز حاصل کرنے کے لیے شور مچاتا ہے۔ یہ تو اس کے زیادہ عقل رکھنے والے ماں باپ ہوتے ہیں، جو اس کی کچھ خواہشات کو پورا کرتے ہیں، مگرزیادہ تر خواہشات کو اس کی بھرپور چیخ و پکار کے باوجود نظر انداز کر دیتے ہیں، اسی طرحجب یہ بچہ ہسپتال جاتا ہے تو انجکشن سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ اس کے سمجھدار والدین، اس کا رونا پیٹنا نظر انداز کرتے ہوئے، اسے خود اپنے ہاتھوں  سے پکڑکر یہ تکلیف والی چیز (انجکشن)  لگواتے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں اس چیز کا علم ہوتاہے کہ وقتی تکلیف کے باوجود اس انجکشن میں اس بچے کا دیر پا فائدہ پوشیدہ ہے۔

ذرا تصور میں لائیے کہ جنت سے نکالا ہوا آدمی دراصل اپنی Powers واپس حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم یا زیادہ، ہر انسان آپ کو possessive نظر آئے گا۔ ہر چیز، سارے معاملات اپنے ہاتھ کرلینے کی خواہش میں  دبا ہوا۔ اصل میں اس دنیا میں  آنے سے پہلے ہر چیز انسان کے اختیار میں تھی۔ یہ اس طرحکی بادشاہت تھی، جسے انسان زمین پر کبھی پا نہیں  سکا، لیکن اسے دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش ہر انسان کے رگ و پے میں ہے، لیکن افسوس کہ اس دنیا میں انسان کبھی بھی تمام معاملات پر وہ کنٹرول حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا بنی ہی اس طرح ہے کہ اس میں  انسان اپنی زندگی کو ایک خاصحد سے زیادہ آرام دہ نہیں  بنا سکتا۔ ہو سکتاہے کہ ایک امیر ترین شخص اپنے چھوٹے قد اور گہری رنگت کے احساسِ کمتری سے ہی باہر نہ آسکے۔ انسان کو سب کچھ مل جاتاہے، اس کے بعد اسے مائیگرین میں مبتلا کر دیا جاتاہے۔ کسی کے ہاں ایب نارمل بچہ پیدا ہوجاتاہے۔ کسی کی بیوی بدزبان ہے تو کسی کا شوہر بے رحم۔ کوئی لاتعداد بیماریوں  میں  سے کسی ایک میں  مبتلا کر دیا جاتاہے اور اس کی باقی زندگی اسی کو بھگتتے ہوئے گزر جاتی ہے یا کسی اور طرح کی دنیاوی آزمائش میں مبتلا ہو جائے۔

اس کے علاوہ دو بہت بڑی چیزیں،  جو انسان کے کنٹرول میں نہیں  ہیں۔ وہ ہیں ؛stimulus اور خیالات کا نزول۔ ان پر جب تک انسان کا کنٹرول نہ ہو، تب تک وہ اپنی اس دنیا وی زندگی کو enjoy نہیں کر سکتا، لیکن ان پر کنٹرول انسان کو مل نہیں  سکتا، اگر ملے تو آزمائش ختم ہو جاتی ہے اور یہ دنیا آزمائش کے لیے بنی ہے۔ stimulus اور خیالات کے نزول پر ایک کالم الگ سے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ خدا زندگی بھر انسان کو مسائل سے نکلنے کیوں نہیں دیتا؟ میرے عزیز دوست ''خود سے خدا تک " کے مصنف ناصر افتخار کے الفاظ میں اگر انسان کو ان تمام مسائل سے نکال کر سب چیزیں  اس کے کنٹرول میں دے دی جائیں،  تو دنیا اپنی مٹھی میں کر لینے والا انسان پھر کہاں  خدا کو یاد کرے گا۔ زیادہ تر کیسز میں، یہ تو انسان کے مسائل ہیں، جو اسے خدا کی طرف رجوع پر مجبور کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ان حالات و مشکلات کی اصل وجہ یہ ہے کہ خدا یہ چاہتاہے کہ ہم اسے یاد کرتے رہیں۔